ریڈ زون فائرنگ واقعہ: پولیس نے عام شہری کو ملزم بنا کر پیش کردیا، چیف جسٹس اطہرمن اللہ برہم
15 اکتوبر 2020 (12:06) 2020-10-15

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریڈ زون میں فائرنگ واقعہ کے کیس میں ملوث اصل ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو دکھائیں کہ اسلام آباد میں قانون کی بالادستی ہے۔ اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو سیکرٹری داخلہ اور آئی جی عدالت میں پیش ہوں۔ قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہیے۔

تفصیل کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں کچھ عرصہ قبل ریڈ زون میں رکن صوبائی اسمبلی کے شوہر اور جج جہانگیر اعوان کے درمیان جھگڑے کے کیس کی سمات ہوئی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ملزم بلال عباسی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ انہوں نے کیس کے مرکزی ملزمان کی عدم گرفتاری پر پولیس حکام سے شدید اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کیا ملزمان اتنے طاقتور ہیں کہ ان کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیوں نہ عدالت ان کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے اس ملزم گرفتار کیا۔ کیا یہ قانون کی حکمرانی ہے کہ ریڈزون میں ایسا واقعہ ہوا اور اسے لائٹ لیا جا رہا ہے۔ اسی لئے عدالت بار بار کہتی ہے کہ اسلام آباد میں قانون کی بالادستی نہیں ہے۔ کیا عدالت سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد کو نوٹس جاری کرے کہ آ کر دیکھیں کیا ہو رہا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عدالت میں موجود پولیس افسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایس پی صاحب! آپ کو عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا۔ جن دو لوگوں کے درمیان جھگڑا ہوا، وہ کہاں ہیں؟ ان کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ یہ آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ ایلیٹ کیلئے کوئی قانون نہیں، یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کیا ریاست اس طرح چل سکتی ہے؟ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں اور کسی کو قانون سے بالاتر ہونا بھی نہیں چاہیے۔

اس موقع پر ایس پی عمر خان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک موقع دیدیں، اس معاملے کو دیکھیں گے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ یہ عدالت ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے پولیس افسر کو حکم دیا کہ آئی جی کو کہیں انکوائری کریں اور رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔ جو متعلقہ ایس ایچ او تھا اس کو تو اب نوکری پر ہی نہیں ہونا چاہیے۔ ایس ایچ او نے ملزمان کو تھانے سے جانے کیسے دیا؟ مرکزی ملزم کو تھانے سے جانے دیا گیا اور خانہ پوری کیلئے بندہ پکڑ لیا گیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ یہ واقعہ ریڈ زون میں پیش آیا، مرکزی ملزم کون تھا؟ ایس پی عمر خان نے جواب دیا کہ چودھری خرم مرکزی ملزم ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چودھری خرم اتنا اہم کیوں ہے؟ ایس پی نے کہا کہ وہ اہم نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اہم ہے، اگر وہ دو عام شہری ہوتے تو کیا ہوتا؟ جو عام شہری تھا اسے ملزم بنا کر جیل میں بند کر دیا گیا۔ اس عدالت کو دکھائیں کہ اسلام آباد میں قانون کی بالادستی ہے۔ اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو سیکرٹری داخلہ اور آئی جی عدالت میں پیش ہوں۔ قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی رکن صوبائی اسمبلی کے شوہر کیساتھ جھگڑے پر ایکشن لیتے ہوئے فائرنگ کرنے والے سیشن جج کو معطل کر دیا تھا۔


ای پیپر