عابد ملہی کو میں نے گرفتار کروایا، انعام مجھے دیا جائے، ملزم کی اہلیہ نے دعویٰ کردیا
15 اکتوبر 2020 (10:29) 2020-10-15

لاہور: موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کےبعد ایک نیا معاملہ شہ سرخیوں میں ہے کہ آخر انعام کسے ملنا چاہیے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے انعامی رقم پولیس ٹیم کو دینے کے اعلان کےبعد لاہور ہائیکورٹ نےبھی برہمی کا اظہار کیا تھا۔

اب عابد ملہی کی گرفتاری پر رکھے گئے انعام کا ایک اور دعویدار بھی سامنے آگیا ہے اور وہ دعویدار کوئی اور نہیں بلکہ موٹروے  زیادتی کیس کے  مرکزی ملزم عابدل ملہی کی اہلیہ ہے جس نے مطالبہ کیا ہے کہ اس نے ملزم کو گرفتار کروایا اس لئے انعامی رقم اسے دی جائے۔

ملزم عابد کے والد،بھائی،رشتہ دار اور دیگر کئی لوگوں سمیت پنجاب پولیس بھی محنت کے بل بوتے پر ملزم عابد کو گرفتار کرنے اور کروانے کی دعویدار ہے۔

تاہم اب ملزم عابد کی ایک بیوی نے بھی اپنے شوہر کو گرفتار کروانے کا دعویٰ کر دیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس نے پولیس کو عابد کے گھر میں موجود ہونے کی اطلاع دی تھی اور پولیس نے اسے انعام دینے کا وعدہ کیا تھا مگر اب عابد کی گرفتاری کے بعد پولیس اپنا وعدہ پورا کرنے سے مکر گئی ہے۔

نجی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق عابد کی بیوی بشریٰ بی بی کا کہنا ہے کہ 12 اکتوبر کی صبح 8 بجے میں نے اور میرے بھتیجے سرفراز نے 15 پر کال کر کے پولیس کو عابد کی موجودگی کی اطلاع دی، مجھے انعام کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔مگر اب جب عابد جیل کی سلاخوںکے پیچھے ہے اور اقبال جرم بھی کر چکا ہے تو پولیس مجھے انعام نہیں دے رہی۔

 ملزم کی بیوی کا کہنا تھا کہ گرفتاری سے پہلے عابد نے میرے والد کا فون بھی چوری کیاتھااور وہ فون بھی ابھی تک واپس نہیں ملا۔ملزم کی بیوی نے اسے پکڑوایا یا نہیں اس حوالے سے بھی پولیس حکام نے ابھی تک جواب نہیں دیا۔

ظاہری سی بات ہے کہ پچاس لاکھ روپے انعامی رقم کوئی کم رقم نہیں ہے اس لیے عابد کے خاندان کا ہر دوسرا شخص اس کی گرفتاری کروانے کا دعویٰ کر رہا ہے  اور اب دیکھنا یہ ہے کہ نیا دعویدار کون سامنے آتا ہے اور اس معاملے کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

یاد رہے کہ لاہور ،سیالکوٹ موٹروے پر رات کے وقت عابد ملہی اور اس کے ساتھیوں نے خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔


ای پیپر