کُجھ ساہنوں مرن دا شوق وی سی!....(دوسری قسط)
15 اکتوبر 2020 2020-10-15

 ہاں تو میں سوچ رہا تھا آج تک تھوڑے بہت جتنے لوگوں نے بھی کسی غلط فہمی کے نتیجے میں مجھے کچھ دعائیں دیں وہ ساری نقلی تھیں کیونکہ اگر یہ دعائیں اصلی ہوتیں آئی بی کی رپورٹ کے مطابق مالی واخلاقی طورپر کرپٹ پولیس افسر کے مقابلے میں مجھے کبھی شکست نہ ہوتی، سو جن لوگوں نے آج تک مجھے نقلی دعائیں دیں اللہ ہی اُنہیں پوچھے گا، مجھے تو اللہ نے پوچھنا نہیں کیونکہ میں آئی جی رینک کا افسر ہوں اور مرنے کے بعد بھی اپنی قبر کے کتبے پر میں آئی جی لکھوالوں گا تاکہ فرشتے ذرا سوچ سمجھ کر مجھ سے حساب لینے آئیں ، فرشتوں نے آکر مجھے سلیوٹ نہ کیا میں اُن سے نمٹ لُوں گا،مجھ میں صرف ایک ہی صلاحیت ہے میں نمٹتا بہت اچھا ہوں، البتہ ایک بات کا ساری زندگی مجھے رنج رہے گا میں شیخ عمر سے نہیں نمٹ سکا ، سو پہلی بار زندگی میں اللہ سے میں نے دل سے معافی مانگی اور یہ دعا کی اللہ میں اگر اِس ”کل مونہے“ سے نہیں نمٹ سکا تو تُو ہی اِس کا کوئی بندوبست فرما دے تاکہ میرے کلیجے میں کچھ تو ٹھنڈ پڑے، ویسے میں سوچتا ہوں جس قسم کی طبیعت کا یہ عمر شیخ مالک ہے یہ اپنا کوئی ”بندوبست “ خود ہی کرلے گا، غرور اور تکبر وغیرہ نے اگر مجھے آئی جی پنجاب نہیں رہنے دیا تو اُسے سی سی پی او لاہور کیسے رہنے دے سکتا ہے؟ عمر شیخ نے سی سی پی او لاہور بننے کے بعد مجھ سے کسی مشورے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ورنہ میں نے اُسے ایک ہی مشورہ دینا تھا ” بچوتکبر کبھی نہ چھوڑنا“۔ ویسے میرے بارے میں متکبر ہونے کا جو تاثر ہے وہ اتنا درست بھی نہیں، کوئی میرے بیوی بچوں سے پوچھ کر دیکھے میں اُن کے ساتھ کتنا”کائنیڈ“ ہوں، میرے ایک اردلی نے اِک روز میرے لیے چائے لانے میں ذرا دیر کردی تھی، میں نے اُس کے اِس ”سنگین جرم“ پر اُسے بس صرف گھور کرہی دیکھا تھا یا ہوسکتا ہے انگریزی میں کچھ گالیاں دے دی ہوں جو ظاہر ہے اُس کی سمجھ میں کہاں آئی ہوں گی، میں اگر متکبرہوتا اُس کے اِس ”سنگین جرم“ پر اُسے شوٹ کردیتا ، میں لوگوں کو اکثر اُن کی غلطیوں پر معاف کردیتا ہوں، کوئی غلطی نہ بھی کرے میں پھر بھی معاف کردیتا ہوں، میری اس عاجزی کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہیے تھا مجھے بطور آئی جی پنجاب ریٹائر کیا جاتا، پر جس طرح کی بے عزتی کرکے مجھے نکالا گیا اُس پر اُصولی طورپر مجھے بھی مختلف چینلز پر بیٹھ کر چیخنا چلانا چاہیے تھا ”مجھے کیوں نکالا، مجھے کیوں نکالا“، میں ذہنی طورپر اِس کے لیے تیار بھی ہورہا تھا پر حکومت نے میری حرکتوں کے مطابق مجھے اوایس ڈی بنانے کے بجائے فوراً سیکرٹری نارکوٹکس لگا دیا، سو میں نے سوچا چلیں چند ماہ جو میری ریٹائرمنٹ میں رہ گئے ہیں وہ اگر بچی کھچی عزت کے ساتھ گزرتے ہیں، مجھے گزار لینے چاہئیں، عارف نواز کی کوئی غلطی بھی نہیں تھی۔ اب آئی جی کے عہدے سے ہٹنے کے بعد پہلی بار مجھے احساس ہوا ان کے ساتھ حکومت نے زیادتی کی تھی، اُنہیں آئی جی پنجاب کے عہدے سے الگ کرنے کے بعد کئی ماہ تک اوایس ڈی رکھا، شکر ہے میرے ساتھ ایسی زیادتی نہیں کی گئی، سو میں نے آئی جی پنجاب کے عہدے سے الگ ہونے کے بعد کوئی احتجاج نہیں کیا، البتہ اِس عہدے پر قائم رہنے کے لیے جتنی کوشش میں کرسکتا تھا میں نے کی، حتیٰ کہ اِس سے میری یہ خودساختہ ساکھ بھی برباد ہوگئی کہ ”میں بڑااُصول پسند پولیس افسر ہوں، کسی کے دباﺅ میں نہیں آتا“۔ میں نے پوری معلومات حاصل کیں جن کے مطابق موجودہ حکومت کم ازکم اگلے چھ ماہ کہیں نہیں جارہی تھی، میری سروس اگرچھ ماہ سے زیادہ ہوتی میں شاید حکومت سے پھڈا لینے کا کوئی رسک لے لیتا، یا اپنی مکمل طورپر لُٹی ہوئی عزت ذراسی بحال رکھنے کے لیے حکومت سے کہتا جس بھونڈے انداز میں آئی جی پنجاب کے عہدے سے مجھے الگ کیا میں اب مزید کسی عہدے پر کام نہیں کروں گا، لہٰذا ریٹائرمنٹ کے عرصے تک میری رخصت منظور کرلی جائے اِس کا فائدہ مجھے یہ ہونا تھا اگلے حکمران کسی اہم عہدے کے لیے مجھے Considerکرلیتے، پر مجھے لگتا ہے اگلے حکمران بھی موجودہ حکمران ہی ہوں گے اور جس جس طرح کی یہ ”چولیں“ مار رہے ہیں کوئی پتہ نہیں سی سی پی لاہور عمر شیخ کو اُس کی ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر آئی جی پنجاب تعینات کردیں اور وہ اپنی منتقم مزاجی کے تحت میرے اثاثوں کا بھی سراغ لگانا شروع کردے .... سو اِن سارے ASPECTSکو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے اپنی سروس بلکہ ”سروس شوز“ کا باقی حصہ خاموشی سے گزارنے کا فیصلہ کیا ہے، .... اُصولی طورپر جس روز سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی تقرری میری مرضی کے خلاف ہوئی، مجھے اُ سی روز اپنے عہدے سے الگ ہوجانا چاہیے تھا، یہ ذوالفقار حمید کی میرے ساتھ اُس محبت کا ایک تقاضا بھی تھاجو وہ مجھ سے میری اوقات سے بڑھ کر کرتا رہا، پر میں نے سوچا یہ نہ ہو میں اِس معاملے میں زیادہ شورمچاﺅں یا زیادہ احتجاج کروں وزیراعظم میری بھی چھٹی کروادیں، چنانچہ میں اِس معاملے کو ” دروٹ“ گیا ، میں نے سوچا اِس معاملے میرا خاموش رہنا ہی بہتر ہے، میں نے اپنے بارے میں خوامخواہ قائم ہو جانے والے اس تاثر کی پروا بھی نہیں کی کہ ہر تبادلہ میری مرضی سے ہوتا ہے، ہر تقرری بھی میری مرضی سے ہی ہوتی ہے، ایک بار وزیراعلیٰ نے مجھ سے ایک ایس پی کے تبادلے کے لیے کہا میں نے اُنہیں جواب دیا ”سر یہ تبادلہ آپ کی نہیں میری مرضی سے ہوگا ، اور دس منٹ بعد ہو جائے گا‘، .... میرے بارے میں یہ تاثر بھی قائم تھا میں ایک بار کسی کی تقرری یا تبادلے کے کوئی آرڈر کردوں، پھر کسی صورت میں واپس نہیں لیتا، وزیراعلیٰ اور دیگر حکومتی شخصیات کے کہنے پر میں نے کئی آرڈرز اُن کی نہیں اپنی مرضی سے واپس لیے، یعنی اُنہوں نے اگر مجھ سے یہ کہا کہ فلاں کے آرڈرز ابھی کردیں تو میں نے دو گھنٹے بعد کیے، اور اگر مجھے اُن کی طرف سے یہ حکم ملا کہ فلاں پولیس افسر کی تقرری کے آرڈرز کل صبح تک ہو جانے چاہئیں، تو میں نے وہ آرڈرز کل صبح کے بجائے کل دوپہر کو کیے، ان حقائق کی روشنی میں، میں جب تک آئی جی پنجاب رہا، صرف میری مرضی چلی، میرے بارے میں مشہور تھا میں بہت سخت گیر پولیس افسر ہوں، کسی کی مانتا سنتا نہیں ہوں، یقین کریں آئی جی پنجاب بننے کے کچھ عرصہ بعدتک میں بالکل ایسا ہی تھا، وزیراعظم نے ایک دو تقریبات میں میری تعریف کردی میں مزید چوڑا ہوگیا جبکہ لمبا میں پہلے ہی کافی تھا، لہٰذا اُس کے بعد میں خود سے بھی نہیں سنبھالا گیا، پہلے صرف وزیراعظم عمران خان میرے مداح تھے ، اُس روز میں بھی اُن کا مداح ہوگیا جس روز ایک تقریب میں میری طرف اشارہ کرکے اُنہوں نے کہا ”ہم نے بڑا زبردست آئی جی لگایا ہے اس نے آتے ہی سارے بدمعاش اندر کردیئے ہیں “ .... میں وزیراعظم کی یہ بات سن کر بڑا خوش ہوا، زندگی میں شاید پہلی بار ایسے مسکرایا جس کی توقع کرتے کرتے میرے اکثر ماتحت اب تک فوت ہوچکے تھے، میں نے سوچا میرے ناکردہ کارناموں پر وزیراعظم اِ سی طرح مجھے داد دیتے رہے تو میں اِس ”حقیقت “ کو تسلیم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کروں گا ایسا زبردست وزیراعظم پاکستان کو پہلے کبھی ملا نہ آئندہ ملے گا، پہلے میں نے سوچا میں خاموشی سے وزیراعظم کے کان میں بتادوں کہ سر آپ کی سرعام حوصلہ افزائی اپنی جگہ پر میں ابھی تک ایک بڑا بدمعاش گرفتار نہیں کرسکا، پھر یہ سوچ کر میں خاموش رہا کہیں میری یہ بت سن کر آگے سے وزیراعظم مجھے یہ کہہ کر ڈانٹ نہ دیں کہ ”تمہاری معلومات مجھ سے زیادہ ہیں ؟“ وزیراعظم میں ہوں یا تم ہو؟“(جاری ہے)


ای پیپر