امجد اسلام امجد شاعر بڑا یا انسان 
15 اکتوبر 2020 2020-10-15

امجد اسلام امجد پاکستان کے ایسے نامور شاعر ہیں، جو اپنی بین الاقوامی شہرت کی بنا پر پاکستان سے زیادہ بیرون ملک کے دورے میں اپنا وقت گزارتے ہیں، میں بطور شاعر ان کا بہت مداح ہوں، لیکن یہ تسلیم شدہ بات ہے ، کہ وہ مردوں سے زیادہ صنف نازک میں زیادہ مقبول ومعروف ہیں مگر کسی سکینڈل کے بغیر۔ میں خوش نصیب ہوں کہ میں ان کی دوست کا دم بھرسکتا ہوں، ایسی بات نہ ہوتی، تو وہ اپنی گزشتہ سالگرہ پر فون کرکے اصرار کیوں کرتے، اور اس بات پر زور کیوں دیتے، کہ فردوس یہ ان کی بیگم کا نام ہے کہہ رہی ہیں کہ نواز اپنی بیگم کو بھی ضرور لے کر آئیں مگر اخلاق کی انتہا پہ پہنچی ہوئی میری بیگم نے تقریب میں اس لیے صریحاً انکار کردیا، کہ فردوس نے خود مجھے فون کیوں نہیں کیا، بہرحال یہ دوعورتوں کی کہانی ہے، جو میری زبانی آپ تک پہنچ رہی دراصل اس گلے شکوے ، اور استحقاق دوستی مجروح ہونے کے پیچھے ، دل دریا سمندروں ڈونگے والے معاملے کے پیچھے کون دلاں دیاںجانے ہو امجد اسلام امجد کے بارے میں، میں سوچوں میں گم ہوگیا کہ وہ کب میرے یار بنے کیونکہ وہ سرعام اور بطور خاص یہ اعلان کرچکے ہیں، کہ میری دوستی صرف اور صرف میری بیگم کے ساتھ ہے، اس لیے وہ ان کا نام لے کر نہیں دوست کہہ کر پکارتے ہیں ان کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ وہ یاروں کے یار ہیں، جہاں تک مجھے یاد ہے، عطا الحق قاسمی کے بھانجے مرحوم میر صدیق میرے دوست اور محلے دار تھے، چونکہ عطا الحق قاسمی اپنی بڑی مرحومہ بہن کی خدمت میں اکثر حاضر ہوتے تھے، مرحومہ مجھ سے بھی شفقت اور محبت سے پیش آتی تھیں، وہ بھی شاعرہ تھیں، ان کی ایک شاعری پہ ضخیم ڈائری بھی تھی جو انہوں نے مجھے پڑھنے کیلئے بھی دی تھی۔ بہرحال اس وقت ذکر ہورہا ہے، امجد اسلام امجد کا، اسلام ان کے والد مرحوم کا نام ہے، میری ان سے بھی ملاقات تھی، مرحوم نہایت بااخلاق پرتپاک اور ملنسار آدمی تھے، امجد اسلام امجد کا ایک خاص وصف ، جو انہیں اپنے دیگر ہم عصروں سے ممتاز ومنفرد کرتا ہے، وہ یہ کوئی بھی تقریب ایسی نہیں ہوتی تھی، خواہ وہ امجد صاحب کے گھر میں ہو، یا کسی ہوٹل میں، امجد صاحب ہمیشہ دوستوں کے ساتھ اپنے والد محترم کوبھی ضرور بلاتے اور ملواتے تھے، چاہے وہ محفل راگ رنگ بھی ہوتی، یا نشست فکر فردا ہوتی، وہ ہرجگہ موجود ہوتے ۔ مجھے اور قارئین آپ کو بھی شاید یاد نہ ہو، مگر یہ شہرت دوام رب دوجہاں نے ان کو بچپن ہی سے عطا فرمادی تھی، کیونکہ فردوس ارضی ان کے سگے چچا کی بیٹی ہیں، اور پہلے جب لاہور ہوٹل کے ساتھ رہتے تھے، تو چونکہ اس وقت مشترکہ خاندانی رواج تھا، تو وہ بھی ان کے ساتھ ہی رہتے تھے، اوردراصل بات سیدھی سی ہے کہ بھابی فردوس جیسی عورت کا ان کو نامور شاعر بنانے کے پیچھے ہاتھ ہے، اور اس کھرے اور سچے انسان کا دعویٰ ہے کہ جو وہ کئی دفعہ بھابی فردوس کے علاوہ دوستوں کے سامنے اس کا کھل کر اظہار کرچکے ہیں، مگر سب ابھی تک اس مغالطے میں مبتلا ہیں، کہ فردوس بھابی کو ان سے زیادہ پیار ہے، یا امجد صاحب کو ان سے زیادہ انس ومحبت ہے، امجد اسلام امجد کے دوستوں میں شمیم اختر صاحب کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگا، شمیم اختر نہایت زندہ دل ، ملنسار، یہ پنجاب حکومت کے ایک سینئر افسر تھے ڈپٹی کمشنر بہاولنگر بھی رہے، اور ایل ڈی اے لاہور میں ڈائریکٹر بھی رہے، یہ کالم لکھنے کا مقصد دراصل ایک سابقہ کالم میں جو امجد صاحب کے بارے میں، میں نے لکھا تھا، چونکہ یہ دونوں خاندانوں کی بے انتہا بے تکلف دوستی کا معاملہ ہے، کہ فردوس بھابی فون کرکے مجھ سے پوچھتی ہیں کہ اگر گھر میں آپ اکیلے ہیں، تو میں آجاﺅں لاحول ولا، یہ کالم گزشتہ دنوں میرے سامنے اچانک آیا تو میں سٹپٹا گیا، کہ تھوڑی سی پروف ریڈنگ کی غلطی کی وجہ سے مجھے اس قدر خفت وہزیمت اٹھانی پڑی، حالانکہ میں نے تو بڑے فخر وانبساط کے ساتھ یہ کالم امجد صاحب اور ان کے اکلوتے بیٹے محمد علی کو بھی بھجوادیا تھا، پروف ریڈنگ کی غلطی یہ تھی کہ فردوس بھابی یہ کہتی ہیں کہ اگر (بھابی اور آپ گھر میں اکیلے ہیں، تو میں آجاﺅں، کیونکہ میرے گھر مہمانوں کی آمد تواتر سے ہوتی ہے، کالم بھیجنے کے کچھ عرصے بعد جب کرونا کا زور اپنی انتہا پر تھا، میرے بھائی صاحب کا انتقال ہوگیا، تو امجد اسلام امجد نے فون پر ان کی تعزیت کی، اور کہا کہ جب بھی حالات بہتر ہوئے، میں تعزیت کیلئے آﺅں گا مگر غلطی بھرا پچھلا کالم پڑھ کر میں ہکاّ بکاّہوکر یہ کہنے پہ مجبور ہوگیا، کہ امجد صاحب، صرف شاعر بڑے نہیں، انسان بہت بڑے ہیں  (جاری ہے)


ای پیپر