مولانا فضل الرحمن کی جارحانہ حکمت عملی سامنے آگئی
15 اکتوبر 2019 (23:49) 2019-10-15

اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمارے دھرنے کو 126 دن کے دھرنے سے قیاس نہ کیا جائے ، ہمارے پاس مختلف حکمت عملی ہے ، ہم اپنے کارکنوں کو ایک جگہ بٹھا کر نہیں تھکائیں گے نئے انتخابات کرانے پر تمام جماعتیں متفق ہیں ،ان ہاوس تبدیلی کی تجویز میں وزن ہوا تو غور کریں گے و زیراعظم کے استعفے کے بغیر حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے ،آزادی مارچ کے سیلاب کو کوئی نہیں روک سکے گا۔

مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کی حمایت پر میر حاصل بزنجو کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تمام اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر ہیں،پی ٹی آئی جعلی مینڈیٹ پر حکومت میں آئی ہمارے وزیراعظم کو بیرون ملک وزیراعظم والا پروٹوکول نہیں ملتا،وزیراعظم نے کسی عالمی رہنما سے ملاقات کرنی ہو تو آرمی چیف کی انگلی پکڑ کر جاتے ہیںپوری دنیا کو پیغام دیتا ہوں کہ عمران خان جیسے جعلی وزیراعظم سے مذاکرات نہ کیے جائیں۔

مولانا کا کہنا تھا27 اکتوبر سے مارچ شروع ہو جائے گاہم آزادی مارچ کی حکمت عملی تیار کررہے ہیںہمارے ساتھ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیںہمارے ضلعی رہنماں پر دباو ڈالا جارہا ہے، ہمارے اراکین کے ساتھ براہ راست رابطے بند کیے جائیں ۔یہ حربے بند کر دیے جائیں انھوں نے کہا کہ ہماری رائے ہے کہ مسلسل بیٹھنا چاہیے۔ کچھ سیاسی جماعتیں جلسے کی بات کر رہی ہیں۔تمام سیاسی جماعتوں کو انکی بساط کے مطابق ساتھ دینے کی بات کرنی ہے۔ہم اپنے کارکن کو متحرک رکھیں گے۔

گرفتاریوں سے تحریکیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ اس سے جوش جذبے میں اضافہ ہوتا ہے۔حکمرانوں کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ شہد کی مکھی کے چھتے کو ہاتھ نہ لگائے۔فوری انتخاب پر سب کا اتفاق ہے۔ ان ہاوس تبدیلی ہمارا درد سر نہیں۔ہمارا ایک ہی آپشن ہے دوسرا آپشن چھوڑا ہی نہیں۔ہمیں وزیراعظم کے کسی پیغام کا انتظار ہے نہ ملا ہے۔استعفی کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہونگے۔


ای پیپر