کیا ہم کالم بھارتی اخبارات میں لکھیں؟
15 اکتوبر 2019 2019-10-15

قارئین ، زندگی کے کچھ معاملات میں ، میں نے خود فیصلے کیے ہیں، مگر جب سے نیا پاکستان بنا ہے، میں یہ فیصلہ کرنا آپ پہ چھوڑتا ہوں کیونکہ آپ کا اور ہمارا یہ یقین ہے کہ ”فن“ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔

موجودہ دور میں میزبان، مہمان، سیاستدان سبھی تو فنکار ہوتے ہیں، حتیٰ کہ نئے اور پرانے پاکستان میں حکمران بھی فنکاریاں کرنے سے باز نہیں آتے، پچھلے دنوں 18ستمبر کے اخبار میں ، میں نے ایک خبر پڑھی ، جس نے مجھے مجبور کردیا ، کہ میں چاروناچار ہوکر یا پھر بادل نخواستہ آپ سے یہ مشورہ کرنے پہ مجبور ہوگیا ہوں کہ میں پاکستانی اخبارات کے بجائے ہندوستانی اخبارات میں نہ کالم لکھنا شروع کردوں، کیونکہ ہمارے وزیراعظم عمران خان نے تو ہمارے اخبارات اور چینلز کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں ساتھیوں کو نوکری سے نکلوا دیا ہے، اب آپ خود بتائیے کہ ایک صحافی یا کالم نگار سوائے لکھنے پڑھنے کے اور کیا کام کرسکتا ہے، سوائے کڑھنے کے اور کوسنے کے اور کوسنے سننے کے .... حالانکہ ایک لکھاری کا تو کام ہی قوم کو حقائق زمینی اور آثار آسمانی سے آگاہ کرنا ہوتا ہے،جسے سید مظفرعلی شاہ نے شاعری میں یوں ڈھالا ہے کہ

پھر تقابل ہے، جھوٹ اور سچ کا

پیش خدمت وہی پیالہ ہے

فکر سود وزیاں سے بے غرضی

ہم فقیروں کا ایک شیوہ ہے

شہر والو کبھی تو یہ سوچو

ایک نیر ہی کیوں نشانہ ہے

صحافی صاحبان بصیرت وبے بصارت دونوں کے لیے ایک، خوشخبری اور موسم حبس و گھٹن میں ایک باد نسیم کا جھونکا آیا ہے باد صرصر کے دیس یعنی بھارتی ریاست جھارکھنڈ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کے حق میں اگر لکھیں تو ہر تحریر میں نقد 15ہزار کی فوری ادائیگی کردی جائے گی، ایک بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی حکومت نے اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کرائے ہیں، کہ حکومت کے حق میں لکھیں، اور پیسے حاصل کریں، اشتہار میں یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ اگر آپ صحافی ہیں، تو پھر حکومتی منصوبوں کے بارے میں لکھیں تو ہر تحریر اور کالم پہ پندرہ ہزار پاکستانی تقریباً 37ہزارملیں گے۔

لہٰذا میرا پاکستانی بے روزگار صحافیوں کو مشورہ ہے، وہ کسی بھی طریقے سے اس مصلحت کی بناپر کہ اگر خدانخواستہ کسی کی جان پہ بن جائے، یعنی جان کے لالے پڑ جائیں حرام بھی جان بچانے کے لیے حلال ہوجاتا ہے، جیسے شراب اور دوسری ممنوع اشیاءوغیرہ۔ تو پھر بھارتی اخبارات میں لکھنا شروع کردیں، اگر آپ کی بات اور شعر بے وزن ہو تو پھر اگر آپ عدنان سمیع جیسے باوزن ہوں تو پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، مگر اتنی احتیاط ضرور ملحوظ خاطر رکھیں کہ وہاں جائیداد نہ خریدیں، ورنہ پچاس لاکھ روپے جرمانہ پڑ جائے گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی کے حق میں کیا لکھا جاسکتا ہے، تھوڑا سا مشورہ میں آپ کو دینے کی کوشش کرتا ہوں شاید آپ مجھ سے اتفاق کریں، کیونکہ اب تک تو یہی سنا ہے ، اور اتفاق میں برکت پڑتی بھی ہم نے خوددیکھی ہے، مثلاً آج کل مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی شمولیت کے حوالے سے تجزیے اور تبصرے اتنے زور شور سے جاری ہیں کہ جو خوامخواہ عوام کو بے بنیاد حقائق پہ رائے قائم کرکے ہیجان برپا اور پریشان کررہے ہیں، نیت اگر ٹھیک ہو، تو پھر وینا ملک جیسی فنکارہ کا ہندو اشمیت کی مسلسل مالش کرتے کرتے عشق ممنوعہ کی تصویر بن جانا، کس عمل کی چغلی کھاتا ہے ؟ جبکہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ امیر اور اعلیٰ نسب کے کافر سے کم تر درجے کا مسلمان زیادہ بہتر ہے، اب وہ کس منہ سے کبھی ایک بھارتی اداکار سے ٹویٹ پہ ”متھا“ لگالیتی ہیں .... اور کبھی اپنے ارمانوں کا خون دیکھ کر جب جذبات قابو میں نہیں رہتے تو پھر مودی پہ پابندی کا مطالبہ کرکے پاکستانی اخبارات کی خبروں کی زینت بن جاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ آر ایس ایس والے پورے بھارت میں دندناتے پھرتے ہیں، اور بلاوجہ مسلمانوں کو پکڑ لیتے ہیں کیونکہ ان کا نظریہ ہے ہندوستان ہندوﺅں کا ہے۔

واضح رہے قارئین کہ جب بھارتی چینلز وینا ملک کو دکھاتے تھے کہ وہ ایک ہندو فنکار کے پاﺅں بھی گود میں رکھ کر بڑے پیار بھرے انداز میں مالش کررہی ہے تو اس وقت اس کی غیرت مسلمانی کہاں گئی تھی، مگر اس کے باوجود جب مقصد حل نہ ہوا، اور آرایس ایس کے غنڈوں نے وینا ملک کو بھارت چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا تو وینا کو خدا یاد آگیا۔ مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے بھی ایڑی چوٹی کا زورلگاکر اسے راہ راست پہ لانے کی کوششیں کیں مگر وہ سب بے سود گئیں انہوں نے شوبز چھوڑنے کے وعدے لیے، مگر وینا نے شوہر کو چھوڑ دیا، شوبز کو نہیں چھوڑا۔

قارئین دراصل ہم وہ قوم ہیں کہ جو ملک کو دولخت کراکے بھول سکتے ہیں، سقوط مشرقی پاکستان کو اب کون یاد کرتا ہے، محفل سترہ دسمبر کو چند محب وطن ”ٹسوکے“ بہا لیتے ہیں، ہم دوسری پاکستانی ”فن قہرہ“ مدیحہ شاہ کے اس بے ساختہ پن بلکہ سوچی سمجھی سازش کو بھی بھول چکے ہیں کہ اس نے بھارتی گلوکار دلیر سنگھ کو سٹیج پہ چڑھ کر ایسی جپھی لگائی کہ ایسی جپھی تو میں نے کبڈی میچ میں بھی کسی کو لگاتے نہیں دیکھا.... مدیحہ شاہ کے علاوہ ایک اور شاہ کو بھی ہم بھول چکے ہیں، سید مشرف ،حسین شاہ نے بھی رات کے اندھیرے میں بھارتی فنکارہ رانی مکرجی کو سرکاری پروٹوکول کے ساتھ لاہور کی سرحد پارکرائی تھی ، سو بھائیو آپ اتنے حساس نہ بنیں، حساس ہونے کا بھی استحقاق حساس ادارہ کے لیے مختص ہوگیا ہے، مودی تو پھر بھی اپنے ملک کا وزیراعظم تھا رانی مکھرجی کیسے ویزے کے بغیر آگئی تھی؟

اب قارئین ، میں آپ کو پیسے کمانے کا گر بتاتا ہوں ، آپ بھی بھارتی اخبارات میں لکھ کرسینتیس ہزار ایک کالم کا کمائیں، مودی کے کارنامے کے بارے میں لکھیں، کہ 80لاکھ کشمیریوں کو پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی اور اقوام متحدہ کی تقریر کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے دو ماہ سے زائد کرفیو نافذ کررکھا ہے، اتنی دیر کا کرفیو دنیا کے کسی دوسرے ملک میں آج تک نہیں لگا، مودی کا کارنامہ یہ کیا کم ہے کہ اس نے مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان میں ضم کرکے باقاعدہ اسے اپنے ملک کا حصہ بنا لیا ہے۔

مودی کا کارنامہ یہ کیا کم ہے کہ اس نے روس، چین اور امریکہ سے بیک وقت حتیٰ کہ تمام مسلمان ممالک سے ذاتی دوستی کے مراسم اتنے بڑھالیے ہیں کہ مجھے تو لگتا ہے کہ نریندر مودی، مسلمان ملکوں میں مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لیے ”تبلیغ“ کی اجازت ہی نہ مانگ لے، مودی کا سب سے بڑا کارنامہ دریاﺅں کا رخ موڑ دینا ،کلبھوشن کی پھانسی رکوا دینا، کیا معمولی بات ہے ؟ پاکستانی کرنل جسے بھارت نے اپنے جاسوس کی رہائی کے بدلے نیپال سے اغوا کرلیا تھا، اس کو آپ کیا کہیں گے۔ مسلمان ملکوں کا سب سے بڑاایوارڈ لے اڑنا، اس پہ تو جتنا ماتم کیا جائے کم ہے، ہمارے وزیراعظم نے امارت کے امیر کی ڈرائیوری کے بدلے کیا تیر مارا ہے، امارت کا امیر اپنے شوق کی خاطر برطانیہ سے پونے کروڑ کا گھوڑا خرید سکتا ہے ایک اور شہزادہ غیرملکی داشتہ کے ساتھ چند دن گزارنے کے لیے پورا جزیرہ خرید سکتا ہے ۔(جاری ہے)


ای پیپر