عوامی مسائل اور ہماری ترجیحات!
15 اکتوبر 2019 2019-10-15

کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے عوام کو ذلیل ورسوا کرنے کے لیے ہم سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ یہ میں بات اس اعتبار سے کہہ رہا ہوں کہ ملک اور عوام کے مسائل کچھ اور ہیں اور ہم نے اپنی توجہ اور ہی قسم کے ” مسائل “ کی جانب لگارکھی ہے، یہ سلسلہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے، کشمیر میں بھارتی دہشت گردی کی مذمت ہم کس منہ سے کرتے ہیں ؟ ہمارے اپنے دیس میں عوام کے ساتھ جس جس طرح کے ظلم زیادتیاں ہوتی ہیں وہ بھی کسی دہشت گردی سے کم نہیں۔ عوام میں احتجاج کرنے کی سکت ہی شاید نہیں رہی، خصوصاً یہ سوچ کر تو بالکل ہی نہیں رہی کہ احتجاج جو کہ اُن کا حق ہے کی صورت میں بے پناہ اذیتیں اور ذلتیں اُنہیں برداشت کرنا پڑ سکتی ہیں، لہٰذا اپنے ساتھ ہونے والے کسی بھی ظلم اور زیادتی پر اُن کے لب سِلے رہتے ہیں، قتیل شفائی (شاعر) مرحوم نے تو اِسے منافقت قرار دیا ہے، ”دنیا میں قتیل اُس سامنافق نہیں کوئی.... جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا“ ....اِس شعر کے تناظر میں ہمارے عوام پر جِس جِس طرح کے حکمران بار بار مسلط ہورہے ہیں وہ شاید اُن کی منافقت ہی کی سزا ہے کہ وہ خود پر ہونے والے ظلم اور زیادتیوں پر مسلسل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اُن کی اِس ”خاموشی“ کا مطلب حکمران کیا لیتے ہیں، یا اُن کی اِس خاموشی کو وہ کس طرح کیش کرواتے ہیں؟ اِس کا اندازہ مجھے اُس وقت ہوا جب میں نے پچھلے دنوں حکمران وقت کو عوام کی اذیتوں اور ذلتوں کے بارے میں بتایا، خصوصاً کاروباری طبقے کی مشکلات سے آگاہ کیا وہ فرمانے لگے ” تم ایسے ہی ہروقت چیخ و پکار کرتے رہتے ہو، عوام اگر اتنے ہی تنگ ہیں تو سڑکوں پر احتجاج کیوں نہیں ہورہے ؟ ہڑتالیں کیوں نہیں ہورہیں؟شٹرڈاﺅن کیوں نہیں ہورہے؟.... میرے پاس سوائے اِس کے کوئی چارہ نہیں تھا میں اُن کی اس سوچ پر ماتم کروں، میں نے عرض کیا حضور جو آپ کو لے کر آئے ہیں فی الحال اُن کا خوف عوام پرمسلط ہے جو کچھ عرصے بعد شاید نہ رہے، اُس کے بعد آپ دیکھئے گا ہوتا کیا ہے؟۔ویسے میں سوچ رہا تھا کیا زمانہ تھا جب حکمران کوئی فیصلہ عوامی مفاد کے خلاف کرتے عوام سڑکوں پر نکل آتے اور حکمران اپنا وہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہو جاتے، آج ہمارے حکمران عوام دشمن فیصلے کرنے میں اِس لیے بڑی آسانی محسوس کرتے ہیں اُنہیں پتہ ہے عوام ستوپی کر سوئے ہوئے ہیں۔ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے اور اُن کی توجہ اُن کے اپنے ہی اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے روز کوئی نہ کوئی نیا سیاپانیا ایشو کھڑے کردیا جاتا ہے ۔میڈیا کی ساری توجہ اُس جانب چلی جاتی ہے .... ہمیں پتہ ہے کشمیر کا مسئلہ ہم سے حل نہیں ہونا، ہندوستان نے جو کرنا تھا وہ کرچکا ۔ اور ہم نے جو کرنا تھا وہ نہیں کیا، ہم صرف ڈرامے کرتے رہے، جس کا دنیا پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ کشمیریوں پر جو ظلم ڈھائے جارہے ہیں اُن میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی، کرفیو بدستور جاری ہے، مگر ہم ابھی تک شادیانے بجارہے ہیں کہ ہمارے وزیراعظم نے تقریر بڑی زبردست کی، اوہ بابا اِس ”زبردست تقریر “ کا دنیا پر اثر کیا ہوا؟۔ البتہ اِس تقریر کا ہمارے وزیراعظم کو فائدہ یہ ہوا عوام کی توجہ اپنے اصل دُکھوں سے ہٹ کر تقریر پرہوگئی، وہ تقریر کی جائز ناجائز تعریفوں میں لگ گئے۔ میں نے بھی پورے دوکالم تقریر پر لکھ دیئے، میڈیا کو ایک نیا موضوع مل گیا اور عوام کے اصل مسائل جن کا اس تقریر سے دُور دُور کا کوئی واسطہ نہیں تھا سے توجہ ہٹا دی گئی ،....سچ پوچھیں مجھے تو مولانا فضل الرحمان بھی کچھ سے ملے ہوئے لگتے ہیں، یہی اُن کی اصل شناخت بھی ہے۔ اب وہ دھرنا دینے جارہے ہیں، اُن کا خیال ہے، بلکہ اُنہیں پکا یقین ہے یا کسی جانب سے شاید یقین دلایا گیا ہے اُن کے دھرنے کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوجائے، مجھے نہیں معلوم اِس کے کیا نتائج نکلتے ہیں مگر حکمران شاید خوش ہوں اِس دھرنے کے چکر میں عوام اپنے اصل مسائل چند دِنوں کے لیے پھر بھول جائیں گے، .... اگر ہم میڈیا والے یہ فیصلہ کرلیں اِن سیاستدانوں اور حکمرانوں کو ایک ماہ تک کوئی کوریج نہیں دینی، ان کا کوئی بیان شائع یا نشر

نہیں کرنا، ٹی وی ٹاک شوز صرف اور صرف عوام کے اصل مسائل پر ہوں گے تو یقین کریں عوام کے اصل مسائل میں بہت حدتک کمی واقع ہوسکتی ہے، پر کیا کریں ہمارے میڈیا اورخود ہمارے عوام کو سیاست کا اتنا چسکا پڑ گیا ہے کہ اِس سے باہر نکلنا اُن کے لیے اب شاید ناممکن ہے، ....موجودہ حکمران عوام کو اذیتوں اور ذلتوں کے جس مقام پر لے آئے ہیں اُس کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا، ہم یہ توقع کررہے تھے سابقہ چور اور ڈاکو حکمرانوں کی لُوٹ مار کی وجہ سے ملک بہت پیچھے چلا گیا ہے، موجودہ حکمران اِس حوالے سے ہمارے سارے سابقہ دُکھوں کا ازالہ کردیں گے، ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا معاملات سُدھرنے کے بجائے مزید تباہی کی جانب چل نکلیں گے، میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں ستر برسوں میں سیاسی و فوجی حکمرانوں کی کرپشن کا ملک کو اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا موجودہ حکمرانوں کی نااہلی کا ایک سال میں ہوگیا ہے، موجودہ حکمران ستر برسوں کا گند صاف کرنے آئے تھے، ستر برسوں کا گند اُنہوں نے کیا صاف کرنا تھا، مختلف حوالوں سے جو گند گزشتہ سال سوا سال میں خود اُنہوں نے ڈال دیا ہے وہ اگلے چار برسوں میں اپنا ہی ڈالا ہوا گند صاف کرلیں یہ ملک کے لیے اُن کی بڑی خدمت ہوگی، کسی بھی ملک اور معاشرے کی ترقی اور سوچ کا اندازہ اُس کے تین نظاموں سے لگایا جاسکتا ہے، نظام تعلیم، نظام صحت اور نظام عدل وانصاف.... بدقسمتی سے ہمارے تینوں نظام بربادی کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، ہمارے کچھ قومی ادارے اپنی اپنی طاقت اپنا اپنا دھونس جمانے کے لیے جس بھونڈے انداز میں ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں اور اِس سے جو نقصان ملک کو ہورہا ہے اُس کا ازالہ ممکن ہی نہیں ہے، وزیراعظم اور اُن کی اُن جیسی نااہل ٹیم کی ساری توجہ اپوزیشن سے نمٹنے پر ہے، عوام کے مسائل سے کون نمٹے گا ؟ اِس بارے سوچنے کا اُن کے پاس وقت ہی نہیں ہے، اِس بارے میں نہ سوچنے کی ساری ذمہ داری وزیراعظم نے خود اُٹھا رکھی ہے یا پھر عوام کے لیے کچھ نہ سوچنے کا بہت سا بوجھ اُنہوں نے نکمے وزیراعلیٰ پنجاب پر ڈال رکھا ہے، جسے صرف یہی سوچنا آتا ہے کہ اُس نے کچھ نہیں سوچنا، نہ کچھ کرنا ہے، حکومت کی نااہلیاں بڑھتی جارہی ہیں اور عوام کے مسائل بھی بڑھتے جارہے ہیں، ”آگ دونوں طرف ہے برابر لگی ہوئی“ جو بڑھتی جارہی ہے!


ای پیپر