بھارتی چیلنج اور ہمارا آئینی بحران
15 نومبر 2020 (12:09) 2020-11-15

پاکستان ایک نہیں کئی بحرانوں کی زد میں ہے… آج گلگت بلتستان میں عام انتخابات ہو رہے ہیں… نتائج کیا آتے ہیں… کل تک اندازہ لگایا جا سکے گا… حکمران جماعت کو اپنی بھرپور کامیابی کا یقین ہے جبکہ پی پی پی کے بلاول زرداری بھٹو اور مسلم لیگ (ن) کی مریم نواز نے اپنی اپنی جماعتوں کے امیدواروں کے حق میں زبردست مہم چلائی ہے… کامیابی اگر حکومت نے اپنے نام سمیٹ لی تو کیا دونوں بڑی اپوزیشن جماعتیں اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیں گی یا ’پی ڈی ایم‘ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتی ہوئی دھاندلی کے الزامات لگا کر بڑا ہنگامہ برپا کریں گی… ان کی پہلے سے جاری احتجاجی مہم کو نئی مہمیز مل جائے گی… دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاک فوج کے ترجمان ڈی جی ’آئی ایس پی آر‘ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں وہ ثبوت پیش کئے ہیں جن سے ان خدشات کی تائید ہوتی ہے کہ بھارت پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کے لئے بالخصوص آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں کن کن خفیہ منصوبوں پر کس طرح کام کر رہا ہے… اندرون پاکستان اس نے کن دہشت گردوں کے ساتھ روابط قائم کئے ہوئے ہیں اور یہ کہ ماہ نومبر، دسمبر میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کا امکان ہے… قابل توجہ یہ بات ہے یہ وہی مہینے ہیں جب پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک جلسوں اور جلوسوں کی شکل میں زوروں پر ہو گی… تیسری جانب اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور پاکستان میں اپنے والد کی قائم مقام مریم نواز نے جہاں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ یہ کہتے ہوئے کہ ’’اوپر‘‘ کے لوگوں نے میرے اردگرد کچھ افراد سے روابط قائم کر کے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے… مذاکرات کی ایک کھڑکی کھولی ہے… بشرطیکہ عمران حکومت کو رخصت کر دیا جائے… نیز مذاکرات آئین کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اور اس کی پاسداری کی خاطر پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہونے چاہئیں… مگر اگلے ہی روز سوات میں جلسہ عام سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے لندن میں مقیم والد محترم نے ایک مرتبہ پھر اسٹیبلشمنٹ کے دو سرکردہ عہدیداروں کو نشانے پر باندھا ہے… ان کی خلاف آئین مداخلت کو ملک اور اہل وطن کی موجودہ حرماں نصیبی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے… ایک مرتبہ پھر اپنے مؤقف پر اصرار کیا ہے کہ عمران حکومت کی حیثیت محض ان کے آلہ کار کی ہے… مجھے ناجائز طور پر برطرف کر کے مرضی کے انتخابات کے ذریعے اسے برسراقتدار لایا گیا…قوم ان سے لازماً حساب لے گی… گویا بیٹی نے اگر اسٹیبلشمنٹ کے اپنے بقول خفیہ رابطوں کے جواب میں زیتون کی شاخ آگے بڑھائی تھی تو باپ نے کہا ہے فوج یقینا ہماری ہے مگر اس وقت جو دو افراد اس کی طنابیں ہاتھ میں لئے بیٹھے ہیں انہیں بھی جوابدہ ہونا پڑے گا… تو پھر مذاکرات کس سے ہوں گے، کون کرے گا اور کس پلیٹ فارم سے کئے جائیں گے… ان سوالات کا جواب کہاں سے ملے گا… حزب اختلاف کی بقیہ جماعتوں پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے پی ڈی ایم نے ابھی طے کرنا ہے تو مذاکرات کس سے کب اور کیسے کئے جائیں گے… جبکہ وزیراعظم عمران خان کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پاس اپوزیشن لیڈروں خاص طور پر شریف خاندان کے خلاف کرپشن کے وہی پرانے الزامات کی مسلسل چاندماری کئے جانے کے علاوہ اپنے اب تک کے اقتدار کے اڑھائی سالوں میں کارکردگی کے نام پر عوام کو دکھانے کے لئے کچھ نہیں… دوسرے مصائب کے علاوہ جھلسا کر رکھ دینے والی مہنگائی اور شدید قسم کی بے روزگاری نے ملک و قوم کے حالات کو پہلے سے کہیں زیادہ ابتر کر دیا ہے۔

جہاں تک اسٹیبلشمنٹ کے نمائندہ ڈی جی ’آئی ایس پی آر‘ اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے قوم کو دشمن بھارت کے پاکستان کے اندر عدم استحکام کے منصوبوں کے بارے میں آگاہی دینے کا تعلق ہے تو اس میں اچنبھے کی بات نہیں… بھارت خواہ وہاں سیکولرازم کی نام لیوا کانگریس کی حکمرانی ہو خواہ 

موجودہ متعصب ترین ہندو جماعت بی جے پی کی پاکستان دشمنی میں کبھی پیچھے نہیں رہا… اپنے مذموم منصوبوں پر آج نہیں روزاوّل سے کام کر رہا ہے… انہیں کو بروئے کار لا کر اس نے ہمارے اکثریتی صوبے مشرقی پاکستان میں پہلے سیاسی بے چینی اس کے بعد عمومی بغاوت برپا کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی… آج وہ انہی خطوط پر بلوچستان کے اندر بدامنی پیدا کرنے کے در پے آزار ہے… ہمارے حکمرانوں نے اس کے کچھ ثبوت تو آج اس وقت قوم کے سامنے رکھے ہیں جب انہیں اپوزیشن کا بہت بڑا چیلنج درپیش ہے… لیکن وہاں کے وزیراعظم نریندر مودی نے تو کوئی اڑھائی برس پہلے اپنے یوم آزادی کے موقع پر دہلی کے لال قلعے پر کھڑے ہو کر باآواز بلند اعلان کیا تھا ہم تم سے کشمیر میں گڑبڑ کا بدلہ بلوچستان سے لیں گے حالانکہ وادی کشمیر میں آزادی کی نصف صدی سے زائد کی تحریک بپا تھی… گویا بھارتی وزیراعظم نے اپنے ان مذموم عزائم کو خفیہ نہیں رکھا تھا جن سے پاکستان کی حکمران اسٹیبلشمنٹ اور وزیر خارجہ نے آج ایک دو ثبوتوں کے ساتھ قوم کوباخبر کرنے کی سعی کی ہے… سوال یہ ہے ان کے تدارک کے لئے کیا کیا جا رہا ہے… بھارت نے تو مودی کے اعلان کے بعد یہ کیا پہلے 5 اگست 2019 کو اپنے آئین کے اندر ریاست جموں و کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم اور اسے تین انتظامی یونٹوں کے اندر تقسیم کر کے اپنے اندر ضم کر لیا ہے… جبکہ ہمارے خان بہادر وزیراعظم اس پر تکیہ لگائے بیٹھے تھے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہمیں کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی ہے… بھارت میں 2019 کے عام انتخابات ہونے کی دیر ہے مودی ہم سے مذاکرات کرے گا… اس نے مگر مذاکرات سے صریحاً انکار کی ہٹ دھرمی کی پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنے دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے فوراً بعد کشمیر کو ہڑپ کر لیا… امریکہ نے چپ سادھ لی… ہمارے پاس رسمی احتجاجی تقاریر کرنے اور بیانات جاری کرنے کے علاوہ کچھ نہ رہا… اس کے بعد اگر وہ پوری طرح بلوچستان کے اندر فساد برپا کرنے پر متوجہ ہوا ہے تو ہمیں اس خطرے سے نبردآزما ہونے کے لئے بہت پہلے سے تیار ہو جانا چاہئے تھا… تاکہ بھارتیوں کو علم ہو جاتا اگر انہوں نے شرارت اور خباثت کا جال بچھانے کی کوشش کی ہے تو پاکستان کے سکیورٹی ادارے اور اس کی حکومت پہلے سے پوری طرح باخبر، مستعد اور ہوشیار ہے… لہٰذا اس مرتبہ مشرقی پاکستان والے تجربے کو دہرایا نہیں جا سکتا… اس کے باوجود اگر بھارت باز نہیں آ رہا تو بہتر ہوتا ہمارے حکمران پریس کانفرنس کرنے سے پہلے اپوزیشن کو بھارت کے مذموم اداروں کے بارے میں اعتماد میں لیتے… وزیراعظم ان تمام معلومات کے ساتھ پیش قدمی کرتے… پارلیمنٹ میں اپوزیشن رہنمائوں کو ازخود دعوت دے کر انہیں براہ راست حقائق سے آگاہ کرتے… یوں قومی سطح پر یکجہتی کو مزید فروغ ملتا اور بھارت کو بھی معلوم ہو جاتا پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن اس کے خطرناک ارادوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح چوکنا، یکجا اور مستعد ہیں… ان کے ساتھ پاکستانی قوم بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے… مگر یہاں یہ عالم ہے وزیراعظم اپوزیشن رہنمائوں سے ہاتھ ملانے کے لئے تیار نہیں… گزشتہ ماہ ستمبر کے وسط میں ایک خفیہ اجلاس سکیورٹی اور گلگت بلتستان کے مستقبل کے بارے میں آرمی چیف نے بلایا تھا… جن کا سیاسی تنازعے میں الجھ کر شیخ رشید نے جلد پردہ فاش کر دیا دوسرا اجلاس گزشتہ ہفتے سپیکر قومی اسمبلی نے بلایا مگر اپوزیشن نے موجودہ تنائو کی صورت حال میں سپیکر کو جانبدار قرار دیتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کر دیا…

مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوانے میں بھارت کو جیسا کہ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں پوری طرح واضح کیا گیا ہے اس لئے بھی مدد ملی کہ وہاں اپنی تاریخ کے خطرناک ترین آئینی بحران کا سامنا تھا… فوجی سربراہ کی حکومت تھی اور نومنتخب قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے سے انکار کردیا گیا تھا… مشرقی پاکستان کے اندر سخت عوامی ردعمل ابھرا… اس کے بعد فوجی آپریشن شروع ہوا اور پھر ہمارے جسد قومی پر ایسا کاری زخم لگا کہ تقریباً پچاس سال گزر جانے کے بعد بھی مندمل نہیں ہو پا رہا… آج یقینا ویسی کیفیت نہیں مگر ایک آئینی بحران تو ہے جو اندر سے ہمیں کمزور کئے جا رہا ہے… اسٹیبلشمنٹ جمع عمران حکومت کے مقابلے میں پوری کی پوری اپوزیشن آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کے مطالبے پر سینہ تان کر کھڑی ہے… سخت قسم کے عدم اعتماد کی فضا پائی جاتی ہے… بھارت اس سے ناجائز طور پر فائدہ نہیں اٹھائے گا تو کیا کرے گا… لازم ہے ہم 1971کے المیے سے پوری طرح سبق حاصل کریں اسٹیبلشمنٹ جمع عمران حکومت اور پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر اکٹھی ہونے والی اپوزیشن ہر دو کی جانب سے امید کی ایک کرن البتہ پھوٹی ہے دونوں جانب سے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی جا رہی ہے… وہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہوں یا زیادہ بہتر ہو گا جیسا کہ سینٹ کے سابق چیئرمین اور ملک کے ایک اعلیٰ سیاسی دماغ رضا ربانی نے اپنی تجویز دہرائی ہے کہ پارلیمنٹ کے ادارے کے ذریعے جہاں تمام سٹیک ہولڈرز اکٹھے ہو کر آپس میں آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے اور اس پر ہر طرح سے عملدرآمد کے لئے معاہدہ کریں… ادارے آئین پاکستان کے الفاظ اور روح پر پوری طرح عملدرآمد کرتے ہوئے سختی کے ساتھ اپنی حدود کی پابندی کریں… سیاست اور دیگر قومی امور میں مداخلت کی شکایات کا باب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر کے اپنی تمام توجہات کو دفاع پاکستان اور بھارت کے مذموم ارادوں کا مؤثر ترین مقابلے کرنے پر مذکور کر دیں… بلوچستان کے محب وطن عوام کے اندر اگر احساس اور شعور عملی طور پر پیدا ہو گیا کہ انہیں اپنے صوبے اور ملک کے اندر پورے جمہوری حقوق حاصل ہیں… آئین ان کی پاسبانی کر رہا ہے تو وہ بھارت کی ایک نہ چلنے دیں گے… انہیں آزما کر تو دیکھیں… آئین کی مکمل بالادستی 


ای پیپر