طریقِ کوہن میں بھی…
15 نومبر 2020 (12:05) 2020-11-15

فرانس کے خلاف احتجاج مسلسل جاری ہے۔ اس دوران پوری دنیا متجسس، امریکی انتخابات کے نتیجے پر گوش بر آواز کیے بیٹھی تھی کہ گلوبل ولیج میں (ڈیموکریٹ کی انتخابی علامت) گدھا رینکنے کی آواز نے فیصلہ سنا دیا۔ ریپبلکن ہاتھی بلبلاتا لوٹ گیا۔ مسلمانوں کی بھی خوب رہی۔ وہ پہلے باراک حسین اوباما کے نام سے اسلام کشید کرتے ساری امیدیں اس سے باندھ بیٹھے تھے۔ اوباما نے بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کو شاخ زیتون (امن کی علامت) کی پیشکش کی تھی۔ اپنے اقتدار میں آنے پر مسلمانوں سے پہلے خطاب میں کہا تھا: ’مسلم دنیا کے لیے ہم آگے کی سمت ایک نئی راہ کے متلاشی ہیں، جس کی بنیاد باہمی مفادات اور باہمی احترام پر ہوگی۔‘ ترک پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر کہا تھا، ’امریکا اسلام کے ساتھ حالت جنگ میں نہ آج ہے اور نہ کبھی آیندہ ہوگا۔‘ ایسی ہی گفتگو دو ماہ بعد مصر میں کی۔ اوباما نے وعدہ کیا تھا کہ عراق اور افغانستان سے فوجیں نکالے گا۔ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرے گا۔ گوانتامو کا متنازعہ فوجی عقوبت خانہ بند کرے گا۔ ایسے بیانات سے اس نے بہت سے مسلمانوں کے دل جیت لیے مگر عملاً کیا ہوا؟ 2009ء میں ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پنٹاگون کی سفارش پر 17 ہزار مزید فوج افغانستان بھیجنا قبول کیا اور 2010ء تک یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ ہوگئی۔ جنوری 2017ء میں صدارت کی دو باریاں بھگتاکر وائٹ ہاؤس چھوڑتے وقت اوباما کے حوالے سے وائس آف امریکا نیوز کی ایک رپورٹ کہتی ہے: وہی مسلم پبلک جو 8 سال پہلے نہایت پرجوش تھی (اوباما بارے)، آج بلند بانگ وعدے ٹوٹنے پر مایوس ہے۔ العربیہ نیوز چینل کے ایک معروف تجزیہ کار ہشام میلہم نے ’قاہرہ ریویو‘ میں لکھا: میں نے کسی امریکی صدر اور اس کی پالیسیوں کے حوالے سے، اس خطے کے عام شہری اور بڑی شخصیات میں یکساں طور پر اتنی مایوسی عوام میں نہیں دیکھی، جتنی اوباما پر ہوئی!

یہ طویل یاد دہانیاں یوں ضروری ہیں کہ مسلمان ادھار کھائے بیٹھے رہتے ہیں امریکا/ مغرب سے خوش فہمیوں کے شیرے میں لپٹی گلاب جامن، رس گلے کھانے کو، ایسے مواقع پر۔ یاد رہے کہ جوبائیڈن اسی صدر اوباما کے ہمراہ نائب صدر رہے۔ مذکورہ بالا کہہ مکرنیوں کے شریک کار۔ اب نیٹ پر بائیڈن کی جون 2020ء کی مسلمانوں کے سامنے ایک تقریر رواں ہے، جس میں نہایت احترام کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک اسلامی آداب کے ساتھ لے کر وہ حدیث کا حوالہ دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ انتخابی تقریر مسلم ووٹ لینے کے لیے تھی۔ سو یاد رکھیے کہ صدر گورا ہو یا سیاہ فام، مغربی جمہوریت کا رنگ ہمارے حق میں سیاہ ہی رہا ہے۔ یہ تقسیم کار ہے۔ مسلمانوں کو روحانی چرکے لگانے کا زیادہ کام یورپ کے ذمے رہا۔ علاقائی تقسیم بھی استعماری دور کی طرح موجود ہے، مثلاً افریقہ میں وسائل کی لوٹ مار اور جنگ بازی، مسلمانوں کی گردن دبوچنا فرانس کے ذمے ہے۔

یہ جو ٹرمپ ایک ٹرم کے لیے آنے دیا گیا یہ بلاسبب نہ تھا۔ طے شدہ ہی ہوا کرتا ہے سب۔ ہم نے خودشاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس کے وزن پر یہ مسٹر اول جلول آنے دیے گئے اور وہ سب کام ہوگئے جو کسی سنجیدہ، بالغ نظر، مدبر امریکی سیاست دان کے بس کے نہ تھے۔ گریٹر اسرائیل کی طرف جو پیش قدمی اس ٹرم میں ہوئی اس کی رفتار دیدنی ہے۔ امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی۔ گولان پر اسرائیلی قبضے کو جائز قرار دیا۔ مغربی کنارے پر اسرائیلی بستیاں بسانے کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق قرار دیا۔ امریکا کے مربیانہ مشفقانہ سائے تلے امارات، بحرین اور سوڈان سے اسرائیل کے تیز رفتار معاہدے ٹرمپ کا دور صدارت ختم ہونے سے پہلے پہلے کروا دیے گئے۔ سعودی عرب اور امارات کو تہذیبی تباہی کی راہ پر ڈالے جانے میں ٹرمپ اور ان کے یہودی داماد کشنر کی شبانہ روز محنتوں کا حصہ پوشیدہ امر نہیں۔

 امارات میں تو اب کیا نہیں ہوگا! غیرشادی شدہ جوڑوں کے ساتھ رہنے کی اجازت کا قانون، شراب خریدنے پینے کی اجازت کا قانون اور احتیاطاً غیرت کے نام پر قتل یا (کسی اور طرح) اظہار غیرت جرم قرار دے دیا گیا۔ غیرت بگھارنا ممنوع ہوگیا۔ روشن خیالی نے برج خلیفہ پر جھنڈے گاڑ دیے۔ میرے اسلام کو اب قصۂ ماضی سمجھو! اس رفتار پر یہ سب کسی نارمل امریکی صدر کے لیے کہاں ممکن تھا۔ فلسطین کس حال میں ہے؟ قدس کی آئے دن بے حرمتی، اسرائیلی فوجیوں کے حملے، وادی اردن میں پورے گاؤں کے گھر بلڈوز، ایک ماہ میں 169 گرفتار۔ ہم ان خبروں کے اتنے عادی ہیں کہ کان پر جوں نہیں رینگتی۔ بائیڈن سے کسی انقلاب کی توقع عبث ہے۔ صرف انداز بدلے گا۔ ’طریق بائیڈن میں بھی وہی حیلے ہیں ٹرمپی‘ رہے گا۔ اللہ کی بے آواز لاٹھی بنا کورونا پچھلی ساری حدیں پار کر گیا ہے۔دو لاکھ  سے زائد کیسز ایک دن میں ہوئے ۔ دنیا کی آبادی کا 4.3 فیصد امریکا ہے مگر کورونا کیس 20 فیصد سے زیادہ ہیں پوری دنیا کے 5 کروڑ میں سے۔ اتنی ہی تیزی سے اموات بھی بڑھ رہی ہیں۔ اب تک 2 لاکھ 49 ہزار اموات ہوچکیں۔ کل متاثرین کی تعداد ایک کروڑ کو چھو رہی ہے۔

یاد رہے کہ 25 مارچ 2020ء (دی انٹرسیپٹ۔ لی فانگ) میں صدر ٹرمپ کی کابینہ کے ہفتہ وار بائبل اسٹڈی گروپ میں ان کے پادری نے اس وبا کو خدا کا عذاب بتلایا تھا۔ اس گروپ کے شرکاء میں سیکرٹری اسٹیٹ پومپیو، ہاؤسنگ وشہری تعمیر وترقی کے وزیر بین کارسن، وزیر تعلیم بیٹسی ڈیواس اور وزیر صحت الیکسیس آذر ہر بدھ کی صبح شامل ہوتے ہیں۔ کارسن اور آذر کورونا ٹاسک فورس کے ممبران بھی ہیں۔ نائب صدر مائیک پنس بھی اس گروپ سے منسلک ہیں۔ اسی طرح کا ایک اور اسٹڈی گروپ ہر منگل اور جمعرات کو ہوتا ہے جس میں 52 قانون دان شریک ہوتے ہیں۔ وبا کی وجہ ڈرولنگر (پادری) نے بحر مردار والے رجحانات کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ ہماری حکومت میں، نظام تعلیم، میڈیا اور انٹرٹینمنٹ صنعت کے اونچے مناصب تک پہنچے ہوئے ہیں۔ یہی قوم پر اللہ کا غضب ٹوٹنے کی بنیادی وجہ ہیں۔ (کیا ایسا ایمانی تربیت کا اہتمام ہماری کابینہ میں کبھی ہوا/ رہا؟ اسی مغرب کے لیے ہم مسلم شناخت چھپاتے اور ماڈریٹ یعنی سیکولر بن کر دکھاتے ہیں)

یہ درمیان میں آن وارد ہونے والے امریکی انتخابی نتائج کا اہم واقعہ تھا، جو عالمی حالات پر گہرے اثرات کا حامل ہے۔ اس سے صرف نظر کرکے ہم تفہیم مغرب کے باب میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔ خلل دماغ کی بہت سی نشانیوں کے باوجود مذہبیت کی یہ جھلک عجب ہے! دیوانہ بکار خود ہوشیار! امریکی ریاست اور سیاست کے ستونوں کا بائبل کے اجتماعی مطالعے میں یوں شریک ہونا، ٹرمپ جیسے صدر کے ہوتے ہوئے! ٹرمپ کی مذہبیت کا اندازہ تو گریٹر اسرائیل کی تکمیل میں اپنے یہودی داماد کے ہمراہ سر جوڑکر مقاصد کے حصول کے لیے دن رات ایک کرنے سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ یوں بش کی صدارت میں وائٹ ہاؤس کے پورے عملے کا صبح بائبل سے دن کے آغاز کے پہلے (موجودہ صلیبی جنگ کا آغاز) دور سے لے کر آج تک یہ تسلسل جاری ہے۔ یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے موقع پر امریکی وفد کی مذہبی وارفتگی، جذباتی وابستگی کا برملا اظہار اس تقریب میں دیدنی اور تاریخی تھا۔ دجالی ایجنڈوں کی تکمیل کا یہ سفر ہاتھی کی سواری کرے یا گدھے کی (ریپبلی کن ہو یا ڈیموکریٹ) یکساں طو رپر ہم زبانی کا حامل ہے۔ یاد رہے کہ ڈیموکریٹ ہیلری کلنٹن کا داماد بھی کشنر کی طرح یہودی ہے۔ یہودی بچوں کے یہ دونوں ننھیال آپ کے سامنے ہیں امریکی صدارتی ایوانوں میں۔

مغرب میں یہودیوں سے ظلم (ہولوکاسٹ کے عنوان سے) اور بے انصافی کو بڑے سلیقے سے ان کی نفسیات میں احساس جرم بناکر سمو دیا گیا ہے۔ اسرائیل پرستی اب اس کے ازالے کے لیے جاری وساری ہے۔ تاہم اس سے کئی گنا زیادہ قہر وظلم مسلمانوں پر ڈھانے کے باوجود شرمساری کی ادنیٰ ترین پرچھائی انہیں چھوکر نہیں گزرتی۔ وہاں ہولوکاسٹ پر زبان کھولنا شرمناک جرم ہے، لیکن مسلمانوں کے خلاف تمام مذہبی علامتوں اور جذبات واحساسات کو مجروح کرنا بلااستثناء پورے مغرب کا یکساں خاصا ہے۔ 

اب جبکہ فرانس کا خبث باطن کھل کر سامنے آچکا ہے، ہر آنے والا دن اس کے نام نہاد آزادیٔ اظہار کا نیا پردہ چاک کرتا ہے۔ مسلمانوں کو خوش گمانیوں کی جنت الحمقاء میں سے نکل کر حقائق کا جائزہ لینا ہوگا۔ ان کے تہذیبی تابوت کی آخری کیل ایک اسکول کے چار (دس سالہ) بچے دہشت گردی کی آسان اصطلاح کا کنٹوپ پہناکر گرفتار کرنا ہے! فرنچ اسکولوں میں گستاخ (مقتول) ٹیچر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کو کہا گیا تھا۔ الپائن قصبے کے ایک اسکول میں بچوں نے اعتراض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ممنوع ہے۔ اگر ہمارا ٹیچر ایسا کرے گا تو ہم اسے مار ڈالیں گے۔ بچوں کے اس بے اختیار، فطری ردعمل پر بندوقیں تانے پولیس ان کے گھروں میں جا گھسی۔ گھروں کی تلاشی لی۔ کئی گھنٹے بچے زیر حراست رہے۔ والدین اور بچوں سے پوچھ گچھ کے لیے سوالات کی بوچھاڑ کی۔ انہیں تعلیم وتربیت دینے کا حکم صادر کرکے رہا کیا گیا۔ دنیا کے کسی ملک، بالخصوص پاکستان میں ایک 


ای پیپر