Gilgit Baltistan election, voting, PTI, PPP, PML-N
کیپشن:   فائل فوٹو
15 نومبر 2020 (07:48) 2020-11-15

اسکردو: گلگت بلتستان میں انتخابی دنگل سج گیا، پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عملہ تعینات، انتخابی سامان کی بھی ترسیل کر دی گئی ، ووٹنگ صبح آٹھ سے شام پانچ بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔ کونسی پارٹی حکومت کرے گی فیصلہ آج گلگت بلتستان کے ووٹرز کریں گے۔ 

تفصیلات کے مطابق 23 نشستوں کیلئے 323 امیدوار مدمقابل ہوں گے، پاکستان تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ انتخابات کیلئے 1160 پولنگ اسٹیشن اور 847 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں، سکیورٹی کے انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ریٹرننگ اور پریزائیڈنگ افسران کو 3 دن کیلئے مجسٹریٹ کے اختیارات مل گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی پولنگ اسٹیشنز کی تعداد ایک ہزار دو سو چونتیس ہے، تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی جانب سے فتح کے دعوے کئے جارہے ہیں۔

گلگت بلتستان کے 24 میں سے 23 عام نشستوں کے لیے 330 امیدواروں میں کانٹے کا مقابلہ ہو گا اور 7 لاکھ 45 ہزار شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کرینگے۔

الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے ریٹرنگ اور پریزائڈنگ افسران کو تین دن کے لیے مجسٹریٹ کے اختیارات دے دیئے تاکہ پریزائڈنگ افسران انتخابی عمل میں خلل ڈالنے والے کو موقع پر سزا سنا سکیں۔

رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان انتخابات میں سوا لاکھ سے زیادہ ووٹرز پہلی بار اپنا ووٹ ڈالیں گے۔

خیال رہے کہ جی بی اے تھری میں تحریک انصاف کے امیدوار جعفر شاہ کے انتقال کرجانے کی وجہ سے الیکشن نہیں ہوگا، اس حلقے میں امیدوار کے انتقال کے باعث انتخاب اب 23 نومبر کو ہوگا۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے دھاندلی کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے تحفظان دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سخت انتظامات کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ الیکشن میں کسی صورت بھی دھاندلی نہیں ہونے دیں گے۔


ای پیپر