تھر : عوام کے سر پر پہاڑ توڑنے کی کوشش
15 نومبر 2019 2019-11-15

لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ کاروبار زراعت اور گلہ بانی کی ترقی کے خلاف ہے۔ لوگوں کو روزگار کے ذرائع چھن جائیں گے۔ ثقافتی ورثے کی تعریف میں بھی آتا ہے۔

جب سے ملکی و غیر ملکی مائننگ کمپنیوںنے تھر کا رخ کیا ہے، تھر کے لوگ زمین اپنے پاﺅں کے نیچے سے کھسکتی ہوئی محسوس کر رہے ہیں، ان کی بے بسی اور لاوارثی اس وقت ناقابل دید ہو تی ہے جب حکومتی ادارے عوام کا ساتھ دینے کے بجائے ان کمپنیوں کا ساتھ دیتے ہیں۔تھرکی زمین اور اسکی معدنیات تو اہم ٹھہریں، لیکن یہاں کی سولہ لاکھ سے زائد آبادی غیر اہم ہو گئی ہے۔ ابھی تھر کول ، گوڑانو ڈیم کا معاملہ حل نہیں ہوا تھا کہ پتہ چلا کارونجھر پہاڑ کی بڑے پیمانے پر کٹائی شروع ہوگئی ہے، وہ بھی کسی سرکاری اجازت نامہ کے بغیر۔ کہا جاتا ہے کہ ملک کی ترقی کے لئے یہ سب ضروری ہے۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں معدنیات نکالی گئیں، وہاں کے لوگ تباہ حال ہوئے، متعلقہ علاقوں میں کوئی ترقی نہیں ہوئی، لوگ بیروزگار اور بے گھر ہوئے، لاطینی امریکہ سے لیکر بھارت کے اوڑیسا اور راجستھان تک اور فلپائن سے لےکر آسٹریلیا تک یہی صورتحال ہے۔ جہاں لوگ سونے کوئلے، یورینیم کی کان کنی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

ایک نہایت ہی پسماندہ علاقے تھر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ اور سرمایہ کار کمپنیوں ، ان کے اہلکاروں کی آمد نے مقامی آبادی میں احساس محرومی اور احساس بیگانگی بڑھا دی ہے۔ جس طرح تمام قوانین، اصول وضوابط اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے لوگوں کو احتجاج پر مجبور کردیا ہے۔ پانچ ماہ پہلے نگرپارکر کے باسی پینے کے پانی کے لئے احتجاج کر رہے تھے۔ اس مرتبہ کارونجھر پہاڑ کو بچانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ صوبہ سندھ کے تھر کے علاقے میں رن آف کچھ سے متصل واقع تقریبا 23 کلومیٹر علاقے میں پھیلا ہواکارونجھر پہاڑی سلسلہ جنگلی حیات کی کئی اقسام، جڑی بوٹیوں اور پودوں کی اقسام کے لحاظ سے مالامال ہے جس کو نیشنل پارک کا درجہ دیا جانا چاہئے ۔

گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر ’سیو کارونجھر‘ یعنی کارونجھر بچا¶ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے، سوشل میڈیا صارفین سندھ کے صحرائے تھر کے علاقے نگرپارکر کے پہاڑ کارونجھر سے بے دریغ رنگ برنگے گرینائیٹ پتھر نکالنے پر احتجاج کررہے ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس پہاڑی سلسلے کو بچایا جائے اور مائننگ پر پابندی عائد کی جائے۔

صحرائے تھر فطرت کا عجائب گھر ہے ۔یہ پہاڑی سلسلہ نہ صرف مویشیوں کی چراگاہ ہے جس پر کئی لوگوں کا گزر بسر ہے بلکہ یہاں کئی اقسام کی جنگلی حیات بشمول مور، نیل گائے، نیولے، ہرن، تیتر، خرگوش، لومڑی، گیدڑ اور کئی اقسام کے سانپ بھی بستے ہیں۔ موسم سرما میں ٹھنڈے ممالک سے آنے والے مہمان پرندے یہاں کے قدرتی تالابوں میں اترتے ہیں۔ کارونجھر پہاڑ پاکستان بھر سے ناپید ہوتے ہوئے پرندے گِدھوں کی افزائش نسل کی بھی جگہ ہے۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں ممالیہ، رینگنے والے جانور، پرندے، مختلف اقسام کی جڑی بوٹیاں، پودے اور درخت ایک ہی جگہ پائے جاتے ہوں۔

کارونجھر پہاڑی سلسلے میں کئی بارانی ندیاں بشمول بھٹیانی ندی، راناسر ندی، گوردھڑو ندی، جھنجھو ندی نگر پارکر شہر کو پانی سپلائی کرتی ہیں اور یہ پانی روک کر زراعت کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔نگرپارکر پہلے ہی پانی کی کمی کا شکار ہے اور گرینائیٹ کے لیے اس پہاڑ کو توڑنا فطرت ہی نہیں لوگوں کی زندگی کے ساتھ جنگ کے مترادف ہے۔

کارونجھر کی معاشی، ماحولیاتی اہمیت اپنی جگہ پر یہ ثقافت کا بھی گہوراہ ہے۔جہاں مختلف مذاہب اسلام، ہندومت اور جین مت کے مقدس مقامات ہیں جن میں قدیمی بھوڈیسر تالاب سے متصل 700 سال پرانی مسجد اور تھوڑے فاصلے پر ایک قدیم جین مت کا مندر ہے۔ کارونجھر لال رنگ کے گرینائیٹ پتھر پر مشتمل پہاڑی سلسلے میں سفید اور کالے پتھر کے علاوہ پانچ رنگوں کے پتھر ہیں۔یہ رنگ برنگے گرینٹ کے پتھر کمروں کی ٹائلز اور عمارت سازی میں کام آتے ہیں، یہاں سے نکلنے والا پتھر پاکستان کے دیگر علاقوں سے نکلنے والے گرینائیٹ پتھروں سے قیمتی سمجھا جاتا ہے۔

گزشتہ چار عشروں سے قحط سالی کے بعد سندھ حکومت نے 30 سے زائد چھوٹے بڑے ڈیم تھر میں تعمیر کروائے مگر پتھروں کی بے دریغ کٹائی کے بعد شدید بارشوں کے باوجود کارونجھر کی ندیوں کے پانی سے کوئی بھی ڈیم نہ بھر سکا۔علاقوں میں واقع چھوٹی پہاڑیاں مکمل طور پر ختم ہوگئی ہیں۔ اس کے علاوہ کارونجھر جنگلی حیات کا مرکز ہے۔ ایک بڑے سرکاری ادارے کا ذیلی محکمہ کئی سالوں سے پتھر نکال رہا ہے، مگر حالیہ دنوں تھر میں بننے والے چھوٹے ڈیموں کے ٹھیکے داروں کی جانب سے پتھر نکالا گیا۔

حکومت کہتی ہے کہ سندھ حکومت کے قانون مائیننگ کا اجازت نامہ کی دفعہ 25 کے تحت کارونجھر میں پتھر نکالنے کے لیے دی گئی ساری لیز منسوخ ہیں اور اس وقت سرکاری طور پر ایک بھی کمپنی کو پتھر نکالنے کی لیز نہیں۔ وفاقی حکومت نے 1980 میں کوہ نور نامی ایک کمپنی کو لیز جاری کی تھی مگر بعد میں کوہ نور نے سب لیز جاری کرکے پتھر نکالنے کا کام ایک بڑے سرکارے ادارے کے ذیلی محکمے کو دے دیا تھا۔2011 میں کمپنی نے چوڑیوکے مقام پر درگا ماتا مندر کے قریب پتھر نکالنا شروع کیے تو سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا، جس کے حکم پر کارونجھر سے پتھر نکالنے پر پابندی عائد ہو گئی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے الزام عائد کیا کہ حکمران جماعت کے تھر سے تعلق رکھنے والے ایک رکن سندھ اسمبلی نے اپنے فرنٹ مین کو لیز پر دے دیا ہے۔ رکن اسمبلی قاسم سراج سومرو کو اسمبلی میں وضاحت کرنی پڑی کہ کارونجھر کا پتھر کاٹنے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد معدنیات صوبائی محکمہ ہے لیکن سندھ حکومت اپنی منرل پالیسی ہی تاحال نہ بنا سکا۔ سندھ حکومت نے 2011 میں کارونجھر کو نیشنل پارک کا درجہ دیینے کا اعلان کیا۔ اپریل 2015 میں وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بھی اعلان کیا کہ کارونجھر پہاڑ اور سکھر کے ٹکر والے علاقے کو بھی نیشنل پارک کا درجہ دیا جائے گا، جس پر 50 کروڑ روپے خرچے کا تخمینہ لگایا گیا اور 2014 کے سالانہ بجٹ میں 50 لاکھ روپے مختص بھی کیے گیے مگر تاحال یہ دونوں مقامات نیشنل پارک نہ بن سکے۔

کارونجھر سے غیر قانونی پتھر نکالنے کے خلاف نگر پارکر میں شٹر ڈاﺅن ہڑتال ہوئی،، کراچی، حیدرآباد میں تھر سے تعلق رکھنے والے نوجوان احتجاج کر رہے ہیں۔ کیا لوگوں کے ذرائع روزگار، ثقافتی ورثے، ماحولیاتی بگاڑ کی قیمت پر یہ پہاڑ توڑنا ضروری ہے؟ تھر کے لوگ کہتے ہیں کہ کیا ملکی ترقی کیا ابکارونجھر کے پہاڑ پر آکر رکی ہے؟


ای پیپر