مارچ اور دھرنا کیوں ختم ہوا؟
15 نومبر 2019 2019-11-15

مولانا فضل الرحمٰن جسے آزادی مارچ کہتے تھے وہ مقاصد حاصل کیے بغیر ہی چند روز کے دھرنے کے بعد منتشر ہو کر اب چند سڑکوں پر آمدورفت میں خلل ڈالنے تک محدود ہوگیا ہے جس پر کچھ لوگ تو یہ تبصرہ کرتے پھرتے ہیں کہ مارچ قوم کو آزادی دلانے کی بجائے غلامی میں ہی چھوڑ گیا ہے جس سے پاکستانی سیاست کے نبض شناس یہ مطلب اخذ کر رہے ہیں کہ اب شاید حکومت کے مخالفین کچھ عرصے تک صرف بیان بازی تک محدود ہوجائیں کیونکہ آزادی مارچ کے شرکا کو اسلام آباد آنے کی آزادی دینے اور پھر دھرنے پر بھی حکومت نے اعصاب مضبوط رکھے اور ایسی حرکت سے گریز کیا جس سے اسلام آباد کی سڑکوں پر خون بہے اور اپوزیشن کو سیاست چمکانے کا موقع ملے بلکہ عمران خان دورے کرنے اور جلسوں سے خطاب میں مشغول رہے جس سے ایسا تاثر ابھراجیسے وزیراعظم کو پختہ یقین ہوکہ آزادی دلانے اسلام آباد آنے والوں کے اعصاب جلد چٹخ جائیں گے جس کی بنا پر دھرنا ختم ہوجائے گایہ ایسا تاثر تھا جسے دورکرنے کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کی دھمکیاں بھی کارگر نہ ہوسکیں ۔

اصل میں مارچ کی ٹائمنگ کے انتخاب میں جے یو آئی مار کھا گئی ہے نومبر جیسے سرد مہینے میں دارالحکومت پر چڑھائی ہی حماقت تھی طرفہ تماشہ یہ کہ دھرنے پر بیٹھنے کا ایک اورا حمقانہ فیصلہ کرلیا حکومت کی نرمی کا بدلہ مارچ والوں سے موسم نے لے لیا اور پھرمولاناکی سب کچھ راہبر کمیٹی پر چھوڑ کر ملاقاتیں اور باتیں کی پالیسی نے تو بالکل ہی کباڑہ کردیا جس سے دھرنے میں شریک جماعتیں مولانا کے مقاصد کی طرف سے مشکوک ہوئیں اور سب کو خدشہ پیدا ہو گیا کہ کہیں جے یو آئی کی لیڈر شپ اکیلی ہی ثمرات نہ لے جائے اسی لیے راہبر کمیٹی میں دیگر جماعتوں کی نمائندہ قیادت نے بے لچک رویہ اپنا لیا جو مولانا کے کردار سے منافی تھا اب بھی کچھ لینے کی جستجو میں عزتِ سادات گنوانے کے مصداق موجودہ ناکامی اپوزیشن کو دیر تک اکٹھا ہونے میں رکاوٹ رہے گی عین ممکن ہے آئندہ اگر کسی مارچ یا دھرنے کی بات ہوئی تو اسفند یار ولی اوراچکزئی جیسے لوگ فاصلہ رکھیں وہ تو کشمیر کی صورتحال کی وجہ سے پاکستان میں سیاسی عدمِ استحکام پیدا کرنے کے خواہشمند تھے مگر اچانک گھر کی راہ لینے سے غمزدہ ہیں۔

اپوزیشن کی بڑی جماعتوںپی پی اور مسلم لیگ ن کومارچ اور دھرنے پر اعتراض تھے مسلم لیگ ن نے مارچ کی تاریخ پر اعتراض اُٹھایا جب مولانا ڈٹ گئے تو دھرنا دینے کی مخالفت کردی اسی لیے شہباز شریف اور فضل الرحمٰن میں دوری اور سرد مہری کا تاثر پیدا ہواجب کہ پی پی ساتھ دینے کی حامی بھرنے کے باوجود مذہبی جماعت سے فاصلہ رکھنے کی پالیسی پر کاربند رہی تاکہ لبرل قیادت کو قدامت پسند نہ سمجھ لیا جائے پی پی اور ن لیگ حکومت کے خاتمے کی آرزو تو رکھتی ہیں لیکن کچھ کرنے کو تیار بھی نہیں وہ سب سے پہلے کرپشن مقدمات سے گلوخلاصی چاہتی ہیں اور حکومت پر دباﺅ بھی اتنا ہی بڑھانا چاہتی ہیں جتنے دباﺅ سے حکومت ڈیل کی طرف آجائے اِتنا دباﺅ نہیں بڑھانا چاہتیں جس کی وجہ سے مزید اہم رہنما پسِ دیوارزنداں چلے جائیں ترجیحات کا تضاد ہی اپوزیشن کے وسیع تراتحاد میں رکاوٹ ہے اب مولانا پلان بی سے کب پلان سی کی طرف جاتے ہیں شاید جلد یوٹرن لے لیا جائے کیونکہ شدید سرد موسم میں زیادہ دیر لوگوں کو سڑکوں پر بٹھایا نہیں جا سکتا ۔

مولانا کے پاس تین آپشن تھے ایک تو یہ کہ استعفیٰ لے کر مارچ اور دھرنے کا خاتمہ کیا جائے دوسرا مقاصد حاصل کیے بغیر ہی گھر چلے جائیں تیسرایہ کہ پورے نظام کی بساط ہی لپیٹ دی جائے چوتھا کوئی آپشن ہی احتجاج والوں کے پاس نہیں تھا بھلا عمران خان کیوں مستعفی ہوتے جب تما م اِدارے کشمیر کی صورتحال کی بنا پر حکومت کے ساتھ اوربھارت کے خلاف متحد تھے اگر عمران خان مستعفی ہوجاتے تو ملک میں انارکی پھیل سکتی تھی اسی لیے باربار پکارنے کے باوجود کوئی اِدارہ مدد کو نہ آیا ویسے بھی لگتا ہے اِداروں نے سیاستدانوں کی نفسیات سمجھ لی ہے جو پہلے تو بلاتے ہیں اور مطلب نکل جانے کے بعد آنکھیں دکھاتے ہیں اور بلیک میل کرنے لگتے ہیںجبھی تو سیاست میں اِداروں کی مداخلت ختم ہوگئی ہے اسی بنا پر تیسرے آپشن کا امکان ہی نہیں تھا مولانا فضل الرحمٰن کے پاس دوسرا آپشن ہی رہ گیاتھا جس کے تحت مقاصد حاصل کیے بنا دھرنے سے اُٹھ گئے ہیں اب ممکن ہے چند روز مزید سڑکوں پر ہلہ گلہ رہے بظاہر مارچ اور دھرنا ناکامی سے دوچار ہوگیا ہے دھرنے سے ن لیگ نے ہوشیاری سے کچھ فائدہ حاصل کر لیا ہے اور حکومت پر دباﺅڈال کر مقدمات کی پیروی سے نرمی پر رضامند کر لیا ہے جس کی بنا پر نواز شریف کی بیماری کی بنا پر ضمانت ہوگئی ہے مگر دھرنے کے خاتمے کے ساتھ ہی حکومت کا رویہ سخت ہوگیا ہے اور اب علاج کے لیے بیرون ملک جانے سے قبل شریف خاندان سے چند شرائط پوری کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے یہ سنگدالانہ حرکت ہے اورقطعی نامناسب ،مگر کیا کیا جائے اقتدار میں کچھ باتوں کا احساس نہیں ہوتا احساس تب ہوتا ہے جب اپوزیشن کی سختیاں جھیلنا پڑتی ہے اب بھی حکومت ایک بیمار شخص کو رعایت دینے کے بدلے احسان جتانا چاہتی ہے دھرنے کے دوران نرمی دکھانے والا لہجہ بھی ترک کر دیا ہے جس کی بنا اپوزیشن کے متحد ہو کر پریشانی پیدا کرنے کا خدشہ ہے۔

مارچ اور دھرنے کے اختتام کا یہ سبق ہے کہ حکومت کی بلاوجہ تنقیدکی پالیسی غلط ہے اور بہت یہ ہے کہ وزراءعدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات اور ہونے والے فیصلوں پر لب کشائی سے گریز کریں اپوزیشن کو بھی حالات کا ادراک کرتے ہوئے لائحہ عمل بنا نا چاہیے ایسے حالات میں جب پوراملک کشمیرکے حالات سے پریشان ہے اور حکومت سے کشمیریوں کی حمایت کا متمنی ہے مولانا فضل الرحمٰن ،اسفندیارولی اور محمود اچکزئی نے افراتفری پھیلا کرقوم کی ناراضگی مول لی ہے حکومت کی توجہ میں خلل ڈال کر بھارت کے کشمیریوں پر ظلم و ستم سے نظریں ہٹانایہ نہ ملک کی خدمت ہے نہ کسی قومی رہنما کے شایان شان ہے ایسا کرنا سراسربھارت کی طرفداری ہے۔


ای پیپر