آپ کا صرف ایک منفی جملہ کسی کی زندگی تباہ کرسکتا ہے؟
15 نومبر 2019 2019-11-15

اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اخلاقی طور پر ہمارا دیوالیہ نکل چکا ہے،امانت،،سچائی،عدل،فرض شناسی جیسی اقدارناپید ہوچکی ہیں۔ظلم وناانصافی کے اس دورمیں لوگ اجتماعی فکر سے خالی اپنے مفادات کے لیے دوڑتے نظر آتے ہیں۔ان منفی رویوں پرہم افسوس تو کرسکتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر پارہے۔

دوسرے منفی رویوں کی طرح ایک اور بری چیز یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں ہر وقت لوگوں کو طرح طرح کے ریمارکس دیتے رہتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ دوسرے کے لیے کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتا ہے؟ ہمارے لیے بہت ہی آسان ہوتا ہے کسی کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنا اس کی کردار کشی کرنا اس کے بارے میں اندازے لگانا چاہے اس میں زرا بھی صداقت نہ ہو، پہلے میں بھی اس بات کی سنگینی سے اتنی واقف نہ تھی جتنا اندازہ مجھے کل ہوا جب میں نے وجیہہ عروج کا واقعہ پڑھا یقین مانیں یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

آج سے 18 سال قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ایک طالبہ وجیہ عروج نے یونیورسٹی پر ایک بہت دلچسپ کیس کیا۔ انہیں ایک پرچے میں غیر حاضر قرار دیا گیا تھا جبکہ وہ اس دن پرچہ دے کر آئی تھیں۔ یہ صاف صاف ایک کلرک کی غلطی تھی۔ وجیہ اپنے والد کے ہمراہ ڈیپارٹمنٹ پہنچیں تاکہ معاملہ حل کر سکیں۔ وہاں موجود ایک کلرک نے ان کے والد سے کہا '' آپ کو کیا پتہ کہ آپ کی بیٹی پیپر کے بہانے کہاں جاتی ہے۔'' یہ جملہ وجیہ پر پہاڑ بن کر گرا۔ وہ کبھی کلرک کی شکل دیکھتیں تو کبھی اپنے والد کی ۔ انہیں سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کریں۔ وہ اپنے ہی گھر والوں کے سامنے چور بن گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی والدہ بھی انہیں عجیب نظروں سے دیکھنا شروع ہو گئیں تھیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ کلرک صرف اپنے کام سے کام رکھتا۔ وجیہ کے بارے میں اپنی رائے دینے کی بجائے وہ حاضری رجسٹر چیک کرتا یا اس دن کے پرچوں میں ان کا پرچہ ڈھونڈتا۔ لیکن اس نے اپنے کام کی بجائے وجیہ کے بارے میں رائے دینا زیادہ ضروری سمجھا، یہ سوچے بغیر کہ اس کا یہ جملہ وجیہ کی زندگی کس قدر متاثر کر سکتا ہے۔ وجیہ نے یونیورسٹی پر کیس کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کیس میں ان کا ساتھ ان کے والد نے دیا۔ کیس درج ہونے کے چار ماہ بعد یونیورسٹی نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے عدالت میں ان کا حل شدہ پرچہ پیش کر دیا لیکن معاملہ اب ایک ڈگری سے کہیں بڑھ کر تھا۔ وجیہ نے یونیورسٹی سے اپنے کردار پر لگے دھبے کا جواب مانگا۔ یہ قانونی جنگ 17 سال چلتی رہی۔ گذشتہ سال عدالت نے وجیہہ کے حق میں فیصلہ سنایا اور یونیورسٹی کو آٹھ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ وجیہ نے اس ایک جملے کا بوجھ 17 سال تک اٹھایا۔ وہ تو جی دار تھیں، معاملہ عدالت تک لے گئیں۔ ہر لڑکی ایسا نہیں کر سکتی۔ خاندان کی عزت ان کے بڑھتے قدم تھام لیتی ہے ورنہ یقین مانیں ہم میں سے ہر کوئی عدالت کے چکر کاٹتا پھرے اور اپنے منہ سے کسی لڑکی کے بارے میں نکلے ایک ایک جملے کی وضاحت دیتا پھرے۔

وجیہ کے والدین نے ان کی ڈگری مکمل ہوتے ہی ان کی شادی کر دی۔ انہیں ڈر تھا کہ بات مزید پھیلی تو کہیں وجیہ کے رشتے آنا ہی بند نہ ہو جائیں۔ وجیہ بہت کچھ کرنا چاہتی تھیں لیکن اس ایک جملے کی وجہ سے انہیں وہ سب نہیں کرنے دیا گیا۔ وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں لیکن ان کے دل میں کچھ نہ کر پانے کی کسک بھی موجود ہے۔

اب اس سارے واقعے پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ کس طرح ایک جملے نے ایک پڑھی لکھی با شعور لڑکی کو اپنے گھر والوں کے سامنے مجرم بنا دیا اس کے ارمانوں کا خون کر دیا اور کس طرح وہ اتنے سال نا کردہ گناہوں کی سزا بھگتتی رہی۔

اس واقعے میں تین چیزوں کی طرف اشارہ ہے!

ایک ہمارے کلرکوں کا رویہ....

یا تو یہ طبقہ خود کو کوئی بہت بڑی چیز سمجھتا ہے یا پھر اپنی تمام تر محرومیوں کا بدلہ عوام سے لیتا ہے؟

یہ وہ طبقہ ہے جو آپ کے ایک منٹ کے کام کو کئی سالوں پر محیط کر سکتا ہے اور مفت میں ہونے والے جائز کام کے بدلے لاکھوں کی رشوت وصول کرسکتا ہے ان کے اوپر افسر کتنا ہی ایماندار ہو مگر ان سے کبھی واسطہ پڑجائے تو یہ آپ کو ایسا چکر دیں گے کہ چودہ طبق روشن ہو جائیں یہ آپ کے چکر لگوا لگوا کر آپ کو پاگل کردیں گے۔مگر یہاں کون ہے جو ان کو چیک کرے افسروں سے لے کر ایک عام آدمی ان کے ہاتھوں روزانہ ذلیل ہو رہا ہے۔

ارے یہ تو ایک غریب آدمی جس کی تنخواہ پندرہ ہزار ہے اس کے معمولی کام کے لیے بھی تیس تیس ہزار رشوت مانگ لیتے ہیں۔

یہ وہ تحفہ ہے جو انگریز ہمیں دے کر گئے یہی وہ سرکاری اداروں کا ماحول ہے جس نے عام آدمی کو ذلیل و خوار کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے پولیس کا محکمہ توزیادہ بدنام ہوگیا ہے جتنا لوٹ مار کلرک طبقے نے مچا رکھی ہے اس کا تو کسی کو احساس تک نہیں۔

دوسرا پہلو، عدالتی نظام کو ذرا دیکھیں!

وجیہہ کا کیس سترہ سال چلا اندازہ کریں ایک معمولی کیس تھا جس کو چند ماہ میں نمٹایا جا سکتا تھا مگر ایک با حیا لڑکی کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں سترہ سال لگ گئے۔

بڑی ہی با ہمت لڑکی ہے میں سیلوٹ پیش کرتی ہوں۔

اور آپ سب سے درخواست کرتی ہوں خدارا کبھی کسی کے بارے میں بلاوجہ برے ریمارکس مت دیں۔

سمجھ نہیں آتا، کس عذاب میں پھنس گئے ہیں۔

ہم رشوت نہیں دینا چاہتے مگر یہ کلرک اس کے بغیر ہمارا کوئی کام نہیں ہونے دیتے!

ہم سود نہیں کھانا چاہتے

مگر ہمارا تو پورے کا پورا معیشت کانظام ہی سود کی لپیٹ میں ہے؟

ہم کشمیریوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں ہم وہ نہیں کر سکتے ....ہم قائد اعظم کے بنائے اس ملک میں سکون کا سانس لینا چاہتے ہیں جو اسلامی اصولوں پر قائم ہو مگر اس گھٹن زدہ معاشرے میں یہ بھی ممکن نہیں۔

ہم اس معاشرے میں جیتے ہیں جہاں بیمار ہونے کا یقین دلانے کے لیے مرنا پڑتا ہے۔

یہاں ہندووں، سکھوں،قادیانیوں کے حقوق کا تو بہت احترام کیا جاتا ہے مگر اپنی قوم کو اس طرح ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے؟

یہ کیسا نظام ہے میری تو عقل اس کو سمجھنے سے قاصر ہے اگر آپ میں سے کسی کو سمجھ آئے تو ضرور بتائے گا؟


ای پیپر