سیاست کے نام پرمنافقت
15 نومبر 2019 2019-11-15

غالباًےہ چودہ سال پہلے کی بات ہے، 2005کے قےامت خےززلزلے کے بعدجب ہم نے بچاکچھاسامان سمےٹ کرگاﺅں سے شہرکی طرف ہجرت کےاتوشہرمےں جس مکان مےں ہم نے پڑاﺅڈالا۔اس کی گلی کے شروع مےں اس وقت کچھ دکانےں تھےں ۔اب تووہاں پوری اےک مارکےٹ بن گئی ہے۔اس وقت ان دکانوں مےں سے شروع کی اےک دکان اےک بابے کی ہواکرتی تھی۔اس بابے سے دوتےن دن سوداسلف لےنے کے بعد ہماری اس قدر شناسائی ہوئی جےسے ان کے ساتھ برسوں پراناکوئی تعلق ہو۔ کچھ دن گزرنے کے بعدجب ہمےں معلوم ہواکہ دوسرے دکانداروں کے مقابلے مےں ےہ باباگرانفروشی مےں اپناکوئی ثانی نہےں رکھتے تورفتہ رفتہ ہم نے بھی اپنارخ دوسری دکانوں کی طرف موڑدےا۔پھرہمارے لئے کوئی دکان خاص نہےں تھی۔وےسے بھی نقدپےسے دے کرہم خرےداری کرتے ۔اس لئے پھرجومناسب لگتاوہےں سے ہم خرےداری کرلےتے۔رخ دوسری دکانوں کی طرف موڑنے کے بعد اےک دن اچانک ہمارا باباجی سے آمناسامناہوا توےوں لگاجےسے ہم باباجی کے ساتھ زندگی مےں کوئی پہلی بارمل رہے ہوں۔ہم پراےک نظرپڑنے کے بعد باباجی کے چہرے پرواضح طورپر ،،بارہ بجتے،،دکھائی دے رہے تھے۔پھرےہ بات ہم نے برسوں سے شہرمےں رہنے والے اےک دوست سے کی تووہ پہلے بہت ہنسے ۔پھرکہنے لگے آپ بھی کمال کے سادہ ہےں۔ےہ گاﺅں نہےں شہرہے اورشہرمےں بغےرپےسوں اورمفادکے کوئی سےدھے منہ بات نہےں کرتا۔ےہ گاﺅں تونہےں کہ جس دکان سے مرضی سودالے لےا۔ےہاں تواےک دن جس سے سودالےا،دوسرے دن اس کے سامنے اگرساتھ والی دکان سے اےک روپے کی بھی کوئی چےزلی تواس پردل کے دورے پڑنے شروع ہوجائےں گے۔پھراس چےزکوشہرکے اعلیٰ تعلیم ےافتہ اورصابروشاکرلوگوں کے درمےان رہ کرہم نے اےک نہےں باربارمحسوس بھی کےا۔جس دکان سے بھی جب تک سودالےتے تب تک وہ دکانداردورسے دےکھ کرسےلوٹ مارتا۔جس دن کسی اوردکان کارخ کرتے وہ بابے کی طرح تےوربدل کرہم سے منہ دوسری طرف پھےردےتا۔ہم تودےہاتی اورسادہ سے لوگ ہےں ۔بغض ،حسداورمنافقت ہمارے بزرگوں نے کبھی نہےں کی ۔پھرہمےں کےاپتہ۔۔؟بغض ،حسداورمنافقت کن بلاﺅں کے نام ہےں۔۔؟گلی،محلے کے دکاندار اوربازار کے تاجرتواپنے دلوں مےں بغض ،حسداورمنافقت کی آگ ہمےشہ بھڑکاتے رہتے ہےں لےکن اب ےہ کام ہمارے سےاسےوں نے بھی شروع کردےاہے۔گلی محلے کے دکانداراورتاجرتوپھربھی اپنی دکان پرنہ آنے والے مجبورولاچار انسان کومعاف کردےتے ہےں لےکن ان سےاسےوںکے ہاں تواےسے انسانوں کے لئے کوئی معافی ہی نہےں۔مولاناطارق جمےل بےگم کلثوم نوازکی وفات پرسابق وزےراعظم نوازشرےف کاغم ہلکاکرنے کے لئے جب رائےونڈمحل گئے توتحرےک انصاف کے سونامےوں اورکھلاڑےوں نے ان پرسنگ باری کا ختم نہ ہونے والااےک سلسلہ شروع کےا۔ےہ مولوی نہےں درباری،ےہ دولت کاپجاری۔مطلب اس وقت تحرےک انصاف والوں کے منہ مےں جوآےاانہوں نے مولاناطارق جمےل کے بارے مےں وہ کہہ دےا۔پھراسی مولاناطارق جمےل نے جب وزےراعظم عمران خان کے رےاست مدےنہ والے نعرے کی حماےت کی توپھرمسلم لےگ ن اورجے ےوآئی کے کارکنوں نے تحرےک انصاف کے سونامےوں وکھلاڑیوں کی جگہ لے کرمولاناکے خلاف مورچے سنبھال لئے۔وہ مولاناجس نے ساری زندگی امت کوجوڑنے کی صدابلندکی۔جس نے جھوٹ،منافقت اورنفرت کے اندھےروں مےں سچائی،حق گوئی اورمحبت کاچراغ روشن کےا۔آج وہ مولاناخودسےاسےوں کی نفرت اورمنافقت کے نشانے پرہے۔افسوس کامقام ےہ ہے کہ وزےراعظم عمران خان کے رےاست مدےنہ والے نعرے کی حماےت کی پاداش مےں آج وہ لوگ بھی دےن کے ٹھےکےداروعلمبرداربن کرمولاناپر تےربرسارہے ہےں جن کواسلام کے بنےادی ارکان کابھی نہےں پتہ۔جس نے اپنے اعمال،افعال اورکردارسے پاکستان سمےت دنےابھرمےں ہمارے جےسے ہزاروں اورلاکھوں گناہ گاروں وسےاہ کاروں کوراہ راست پرلاےا۔جنہوں نے اپنی محبت اورشفقت سے بتوں کاپوجاکرنے والوں کودائرہ اسلام مےں داخل کرکے اللہ کے گھروں تک پہنچاےا۔جس نے اللہ اوراس کے پےارے حبےب حضرت محمد کاپےغام دنےاکے کونے کونے تک پہنچاےا۔آج ےہ سےاسی نادان اس مولاناطارق جمےل کے بارے مےں نازےباالفاظ استعمال کرنے پرخوشی محسوس کررہے ہےں۔ہمےں نہےں معلوم کہ مولاناطارق جمےل کوہماری اس سےاست جوسےاست کم اورمنافقت زےادہ ہے اس کاکوئی خاص اتہ پتہ ہے ےا نہےں۔۔؟ لےکن ےہ ہم ضرورجانتے ہےں کہ اچھے برے،حلال وحرام ،ثواب اورگناہ مطلب اےک انسان کی فلاح وہمےشہ کی کامےابی کاجتناعلم اورتجربہ مولاناطارق جمےل کوہے اتناکسی سےاسی کو نہےں ہوگا۔ مولاناطارق جمےل اےک داعی ہےں اورداعی کاکام ہرکسی کودعوت دےنااللہ کی طرف بلاناہے۔ مولاناطارق جمےل نے جب بےگم کلثوم نوازکی وفات پررائےونڈکادورہ کرکے سابق وزےراعظم نوازشرےف کودےنی تعلیمات کی روشنی مےں جودلاسہ دےاتھااس وقت بھی اس نے کوئی برانہےں کےاتھانہ ہی کوئی گناہ کاارتکاب کےاتھا۔پھرجب مولاناطارق جمےل نے رےاست مدےنہ کے نعرے پروزےراعظم عمران خان کی حماےت کی تب بھی مولانانے کوئی گناہ اورجرم نہےں کےا۔انسان ظاہرکامکلف ہے ۔کسی کے باطن کاکسی انسان کوکوئی پتہ نہےں ۔ رےاست مدےنہ کا نعرہ لگانے والے وزےراعظم عمران خان کے دل مےں کےاہے۔۔؟اس کانہ مولاناطارق جمےل کوخبرہے نہ ہی ہمےں کوئی پتہ۔بظاہرعمران خان ملک کورےاست مدےنہ بنانے کی خواہش رکھتے ہےں اورکپتان کے اسی نےک خواہش کامولانانے احترام کےا۔کسی کی مثبت سوچ اورنےک خواہش کوسپورٹ کرناےااحترام کرنانہ کوئی جرم ہے اورنہ ہی کوئی گناہ۔مولاناطارق جمےل اگر وزےراعظم عمران خان کے کسی اےسے کام کی حماےت وسپورٹ کرےں جودےن اسلام سے متصادم ہو۔پھرتومولانانہ صرف ہم سب کے بلکہ اللہ کے بھی مجرم ہےں اوراےسے مجرم کوپھرہم سب جومرضی کہےں لےکن خدارامحض سےاسی عداوت مےں مولاناطارق جمےل جےسے قوم اوراسلام کے ہےروکونشانہ ہرگزنہ بناےاجائے ۔اپنے ہوےابےگانے سب اےک بات ےادرکھےں ۔داعی کسی اےک فرد،گروہ اورپارٹی کانہےں ہوتا۔مولاناطارق جمےل جےسے ہمارے ہےں اسی طرح مولاناتحرےک انصاف،مسلم لےگ ن،پےپلزپارٹی،جے ےوآئی،اے اےن پی ،جماعت اسلامی اوردےگرپارٹےوں اورلوگوں کے بھی ہےں۔نفرت کے ان اندھےروں مےں امن ،محبت اوراخوت کے چراغ جلانے والے مولاناطارق جمےل جےسے عظےم لوگ ہمارے اصل ہےرواوردےن اسلام کے اصل سپاہی ہےں ۔ہمےں اپنے مردہ سےاسی گھوڑوں پرماتم کے وقت مولاناجےسے لوگوں کونشانہ بناکراپنی آخرت خراب نہےں کرنی چاہےئے۔ہم پہلے بھی عرض کرچکے اب بھی ڈنڈے کی چوٹ پرکہتے ہےں کہ مےرالےڈراےمانداراورتےرالےڈرچوروالاےہ کلےہ منافقت بلکہ بہت بڑی منافقت ہے ۔ےہ سلسلہ اب ختم ہوناچاہےئے۔کوئی بندہ محض پارٹی بدلنے سے نہ فرشتہ بنتاہے اورنہ ہی چور۔جوبندہ مسلم لےگ ن ،پےپلزپارٹی ےاکسی اورپارٹی مےں اگرچورہے تووہ تحرےک انصاف مےں جاکربھی چوررہے گا۔پارٹی بدلنے سے اگرلوگ اےمانداربنتے توآج عام عوام کے علاوہ ہمارے ےہ سارے سےاستدان ڈبل اورٹرپل پاورکے اےماندارہوتے مگراےسانہےں ۔جتنے بے اےمان ،چوراورڈاکوہمارے ان سےاستدانوں مےں ہےں اتنے کہےں اورنہےں۔ہرمخالف کوچوراورڈاکوکہناےہ سےاست نہےں منافقت ہے اوراس منافقت نے آج ہمےں کہےں کانہےں چھوڑاہے۔سےاست کے سائے تلے خدمت کاچورن بےچنے والے ہمارے اکثرسےاستدانوں کاکام ہی منافقت کرنارہ گےاہے۔ہم مےں سے ہربندے نے اپنی قبرمےں جاناہے۔کل کوکوئی لےڈراورسےاستدان بروزمحشرکسی سےاسی اورمذہبی کارکن کے کام نہےں آئے گا۔ہربندے نے اپنے اعمال ،افعال اورکردارکاجواب خود دےناہوگا۔اس لئے ہمارے سےاسی کارکنوں کواےسے لوگوں کے ہاتھوں گمراہ ہوکرمولاناطارق جمےل جےسی ہستےوں کی کردارکشی کرنے سے ہرممکن گرےزکرناچاہےئے تاکہ کل کوانہےںکوئی پےشمانی اورپچھتاوانہ ہو۔


ای پیپر