آج پاکستانی روپیہ اوپر جا رہا ہے : وزیر اعظم
15 نومبر 2019 (17:12) 2019-11-15

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے ہوا سے 360میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیئے، وزیراعظم نے کہا ہے کہ ماضی میں الیکشن جیتنے کیلئے مختصر مدتی اور صرف 5سالہ منصوبوں کو ترجیح دی گئی جس سے ملک کو نقصان ہوا اور طویل المدتی منصوبے نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان بنگلہ دیش اور بھارت سے بھی پیچھے چلا گیا، موجودہ حکومت نے ایک سال کا سخت وقت گزارنے کے بعد معیشت کو درست سمت پر لے آئی ہے اور آج پاکستانی روپیہ اوپر جا رہا ہے۔

جمعہ کے روز وزیراعظم عمران خان نے ہوا سے 360 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے سپر سکس منصوبے کے معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں اور اس پر اپنے ملک کیلئے بہت خوش ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تین بار چین کا دورہ کیا اور وہاں کی تھینک ٹینکس سے ملاقاتیں کیں جبکہ چین وہ ملک ہے جہاں معجزہ ہوا اور تیس سال میں اتنی زیادہ ترقی کی، 70لاکھ لوگوں کو غربت سے نکالنا دنیا کی تاریخ میں بہت بڑا معجزہ ہے، چین کے طویل مدتی پالیسیوں کی وجہ سے انہوں نے بہت ساری کامیابیاں حاصل کیں لیکن پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ ہم نے کم مدتی پلاننگ کی تھی، پانچ سال کی پالیسی بنائی جاتی ہے اوراس  الیکشن دوبارہ جیتنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہی پاکستان اور چین کے درمیان واضح فرق ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے ماضی میں کچھ تو ایسا غلط کیا ہو گا جو ہم ایشیا میں سب سے سستی بجلی سے سب سے مہنگی بجلی کی طرف چلے گئے اور اس کی وجہ شارٹ ٹرم منصوبے بنائے،ہم نے طویل مدتی منصوبے نہیں بنائے، آنے والی نسلوں اور ویلتھ ایمبرڈ کرنے کی کوشش نہیں کی آج سنگاپور کی 300 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ ہے جبکہ پاکستان کی صرف 25ارب ڈالر کی، سنگاپور جیسا چھوٹا سے حصہ ہم سے آگے نکل گیا، ہم نے سستی بجلی جو ہائیڈل سے حاصل ہوئی اسے چھوڑ کر فرنس آئل کی مہنگی بجلی کی طرف چلے گئے اور ہم خطے میں دیگر ممالک سے پیچھے رہ گئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سپرسکس منصوبے کے تحت سستی بجلی ملک میں آئے گی اور یہ منصوبہ ہے کہ 2030تک 60فیصد سستی بجلی پیدا کی جائے جبکہ یہ بجلی ماحول دوست ہو گی کیونکہ آنے والے دنوں میں گلوبل وارمنگ شدید خدشہ ہے۔ ہوا سے بجلی کی پیداوار نہ صرف ماحول دوست بلکہ سستی بھی ہوگی، ہماری حکومت کا اقتصادی لحاظ سے پہلا سال بہت مشکل تھا، لیکن اب 14ماہ کے بعد ملکی معیشت مستحکم ہو چکی ہے، اب ہماری کوشش ہے کہ اپنے غریب عوام کی ہر طح مدد فراہم کرے اور ملک میں سرمایہ کاری اور ٹیکس کے نظام کو بہتر بنا کر معیشت کو درست سمت پر جاری رکھیں۔  اس منصوبے میں شامل تمام لوگوں ار ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔


ای پیپر