15 نومبر 2019 2019-11-15

ایک سبزی فروش سے گاہک نے پوچھا :

”کیا سبزی تازہ ہے؟“

سبزی فروش:” پچھلے ہفتے جو سبزی آپ لے کر گئے تھے، وہ کیسی تھی؟“

گاہک:”وہ تو بالکل ٹھیک تھی۔“

سبزی فروش نے برجستہ کہا : تو بس پھر بے دھڑک لے جائیے، یہ اسی میں سے بچی ہوئی ہے“۔

لگتا ہے ہمارے مشیر خزانہ حفیظ شیخ صاحب بھی ایسی ہی کسی سبزی کی بات کررہے تھے۔ موصوف بتارہے تھے کہ ٹماٹر 17(سترہ) روپے فی کلو فروخت ہورہے ہیں جبکہ صحافی ان سے سبزی مہنگی ہونے کی شکایت کررہے تھے کہ کراچی میں ٹماٹر تین سو روپے فی کلو ہوگئے ہیں۔ ہمارے لاہور میں الحمدللہ ابھی تک بزدار صاحب کے ”رعب اور دبدبے“ کی وجہ سے ٹماٹر دوسو روپے کلو فروخت ہورہے ہیں ۔“

اگلے روز ہم نے بہ نفس نفیس خود سبزی خریدی تو ہمیں یقین آگیا کہ صرف پھل ہی نہیں سبزیاں بھی ہماری قوت خرید سے باہر ہوچکی ہیں۔ گزشتہ حکومت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار تو ٹماٹر مہنگے ہونے پر عوام الناس کو ہانڈی میں ٹماٹر کی بجائے دہی ڈالنے کا مشورہ دیا کرتے تھے۔

ہم نے حفیظ شیخ کی ٹماٹر سترہ روپے کلو فروخت ہونے کی ”بے خبری“ کا ذکر اپنے ایک ترقی پسند شاعر دوست سے کیا تو فرمانے لگے: یار!تم پھر مجھے ”سُرخا“ کہوگے حالانکہ میں سُرخ رو ٹماٹروں کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ایسے ”باخبر“ وزیر خزانہ کو ”سوری “ گلے سڑے نظام کو گندے ٹماٹروں کا ہار، ڈال کر رخصت کردینا چاہیے ....“ یہ وزیر مشیر وڈیرے بڑے بڑے پلازوں کے مالکان، گووسری یا سبزی پھل خود کب خریدتے ہیں۔؟

”میں حلفاً کہتاہوں کہ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہمارے پارلیمنٹیرین کو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی کچھ خبر نہیں نہ ہی کبھی ویسا سودا سلف وہ خود خریدتے ہیں۔ ایسے کاموں کے لیے تو ان کے پاس کئی ملازمین ہیں، ملازم یا باورچی انہیں بھاﺅ بتادے تو بس وہ ہاں ہوں کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں، سبزی مہنگی ہونے سے ان بڑے سیاستدانوں یا ممبران پارلیمنٹ کوکوئی فرق نہیں پڑتا۔ کوئی زیادہ باخبر سیاستدان ہوگا تو وہ بھی میڈیا ہی سے ایسی ”خبریں“ سن کر مہنگائی پر تبصرہ کرے گا وہ بھی اپوزیشن میں رہتے ہوئے۔

ڈاکٹر صاحب! آپ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ اسی دھرنے میں جاکر مولانا فضل الرحمن یا دیگر سیاسی مولوی مقررین سے قرآن پر ہاتھ رکھواکے پوچھ لو کہ سوجی فی کلو کس بھاﺅ فروخت ہورہی ہے مجھے سو فیصد یقین ہے انہیں اپنی مرغوب خوراک میں استعمال ہونے والی سوجی کا ریٹ بھی پتہ نہیں ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان نے تو شاید ہی زندگی میں کبھی ٹماٹر، آلو، پیاز، خود خریدے ہوں گے۔ انہیں غریب کی ہانڈی کی کیا فکر ہوسکتی ہے۔ ان سارے سیاستدانوں اور ہم پر حکومت کرنے والوں کے بارے میں پنجابی کا ”اکھان “ بہت مشہور ہے۔ کہ ” ہانڈیاں رنگ برنگیاں تھلّے اکّوجہے“

یعنی یہ مختلف رنگوں کی وہ ہانڈیاں جن کا پیندا اور نیچے والا حصہ ایک جیسا ہے۔ سو بھائی جی وزیر خزانہ کو ٹماٹر کے غلط ریٹ بیان کرنے پر ”بازپرس“ کا فائدہ نہیں ہے“ ۔

ترقی پسند شاعر دوست نے لیکچر ختم کرتے چل پڑا پھر چلتے ہوئے کہنے لگا۔:

”ایسے سیاستدانوں اور رہنماﺅں کو جیلوں میں ڈال دینا چاہیے“

جس پر مجھے وہ جیلر یاد آگیا۔ جس نے ایک قیدی سے سوال کیا تھا :

”تمہارے رشتہ داروں اور قریبی احباب میں سے کوئی نہیں آتا نہ کوئی خط لکھتا ہے؟

قیدی شرما کر بولا : اس کی ضرورت نہیں پڑتی سرجی !

وہ کیوں ؟ جیلر نے پوچھا تو قیدی بولا : آپ کی دعا سے سب یہیں موجود ہیں جیل میں “


ای پیپر