15 نومبر 2019 2019-11-15

اس سوال کا جواب نفی میں نہیں ہوسکتا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت پر سیاست ہو رہی ہے مگر حکومت اور اپوزیشن دونوں کے پاس اسی ایک سوال کے دو مختلف جواب ہیں۔ تحریک انصاف کے حلقو ں میں معنی خیز مسکراہٹوں کے ساتھ ایک دوسرے کو مبارک بادیں دی جا رہی ہیں کہ شریف خاندان کو اربوں روپوں کی خطیر رقم کے ’ انڈمنٹی بانڈ‘ کی شرط کے ذریعے مشکل میں پھنسا دیا گیا ہے۔ اب اگر شریف خاندان کیس کی مالیت کے برابر رقم یا پراپرٹی بطور گارنٹی جمع کروا دیتا تو حکومت فخر کے ساتھ اسے پبلک کر دیتی کہ ملک کے سب سے کرپٹ خاندان سے اربوں روپے نکلوا لئے گئے ہیںحالانکہ انڈمنٹی بانڈ ایک سول معاملہ ہے اور اسے ادائیگی کے متوازی ہرگز نہیں لیا جا سکتا مگر پولیٹیکل سائنس کسی طور بھی ایک ہارڈ سائنس نہیں ہوتی، اس میں پانی کے فارمولے سے تیزاب بھی بنایا جا سکتا ہے، اس میں دو اور دو پانچ بھی ہو سکتے ہیں اور بائیس بھی لکھے جا سکتے ہیں خواہ علم حساب کے ماہر کہتے رہیں کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں، چار کے سواکچھ نہیں ہوتے۔

پی ٹی آئی کے ایک ووست نے انڈمنٹی بانڈ کی شرط کو عمران خان صاحب کا چھکا قرار دیا ہے جس نے میچ کی ساری صورتحال کو بدل دیا ہے۔ وہ ثابت کررہے ہیں کہ عمران خان اپنی حکمت عملی سے بہت ساری فیصلہ ساز قوتوں پر بھی حاوی ہیں۔کہہ رہے ہیں کہ اب گیند مسلم لیگ نون کی کورٹ میں ہے۔ اگر شریف خاندان چھ ارب روپوں کا انڈمنٹی بانڈ جمع نہیں کرواتا ، میاں نواز شریف کا علاج نہیں کروایا جاتا اوراس کے نتیجے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوجاتا ہے توثابت ہوجائے گا کہ شریف فیملی نے میاں نواز شریف کی زندگی اور صحت پر چھ ارب روپوں کو ترجیح دی۔ نواز شریف سے بغض رکھنے والے میرے ایک دوست نے کہا کہ اگر انہوں نے وعدہ خلافی نہیں کرنی اور عدالت کے دئیے ہوئے وقت میں واپس آجانا ہے تو پھر انہیں انڈمنٹی بانڈ دینے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے ۔ملکی سیاست پر نظر رکھنے والا کوئی بھی شخص اس اندیشے کی حمایت نہیں کر سکتا میاں نواز شریف بیرون ملک علاج کے بعد واپس نہیں آئیں گے کیونکہ وہ پہلے بھی اس طرح واپس آئے کہ مشرف حکومت کو انہیں جھوٹ اور فریب کے ذریعے واپس سعودیہ بھیجنا پڑا۔ آپ کو وہ ڈرامہ یاد ہو گا جس میں ایکٹنگ کی گئی تھی کہ نواز شریف کو اسلام آباد سے بائی ائیرلاہور لایا جا رہا ہے اور پھر اس جہاز کو واپس سعودی عرب بھیج دیا گیا تھا۔میاں نواز شریف اس وقت بھی واپس آئے تھے جب بیگم کلثوم نواز بستر مرگ پر تھیں اور انہوں نے اس امرکی بھی پرواہ نہیںکی تھی کہ ان کی پیاری بیٹی بھی ان کے ساتھ جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ جائے گی۔ یہاں بھی بدگمانوںکے مطابق نواز شریف اس لئے واپس آئیے کہ ان کی اس ’ پولیٹیکل موو‘ کے نتیجے میں انہیں اتنے ووٹ ملیں گے کہ وزارت عظمی ایک مرتبہ پھر ان کی دسترس میں ہو گی، وہ وطن کی محبت میں نہیں بلکہ اقتدار لینے کے لئے ملک میں آئے تھے مگر ان کے خواب انتخابی نتائج دیکھتے ہوئے چکنا چور ہو گئے، یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی اسمبلیوں سے استعفوںکی تجویز کو درست قرار دے رہے ہیں۔

سوال وہی ہے کہ اگر نواز شریف نے عدالت کے احکامات کی پابندی ہی کرنی ہے تو پھر حکومت کی طرف سے انڈمنٹی بانڈ کی شرط ماننے میں کیا حرج ہے، نہ وہ وعدہ خلافی کریں گے اور نہ ہی انہیںاربوں روپوں کا نقصان ہو گالہذااگر شریف خاندان اسے حکومت کی طرف سے سیاسی تاوان بھی سمجھتاہے تو وہ یہ تاوان ادا کر کے میاں نواز شریف کی جان بچائے کیونکہ خود شریف فیملی کے ڈاکٹروں کے مطابق میاں نواز شریف کی زندگی اور صحت کے لئے ایک ایک گھنٹہ اہم ہے اور یہاں گھنٹوںکی بجائے دن ضائع ہو رہے ہیں۔ جہاں تک کچھ نقصان نہ ہونے کی بات ہے تو اس پر مجھے ایک سردار جی یاد آ گئے جن کو شک تھا کہ ان کی پتنی کے ساتھ گاوں کے وڈے زمیندار کے تعلقات ہیں اور انہی تعلقات کی وجہ سے گھر تحفے تحائف بھی آتے رہتے ہیں۔ یار، دوستوں نے شرم دلائی اور ایک ، دو نے کہا کہ اس نے زمیندارکو سردار کی بیوی کو پیار کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ سردار جی بھی ہمارے انہی دوستوں کی طرح نفع ،نقصان کے بہت ماہر تھے، بولے، ” جے جمیندار میری بڈھی دی چُمی ای لیندا اے تے ایس موقعے تے چک وی نئیں وڈھدا تے فیر ایدے وچ کی تکلیف اے، کی نقصان اے؟

تو اے میرے پیارے دوستو! نفع ، نقصان ہمیشہ وہی نہیں ہوتا جو ہمیشہ مادی طور پر نظر آ رہا ہو بلکہ کچھ معاملات عزت،غیرت اور اصول کے بھی ہوتے ہیں۔ ضمانت نامے طلب کرنا عدالتوںکاکام ہے جبکہ حکومت کا کاکام حکومتی احکامات پر عمل کرنا ہے۔مجھے یہ تسلیم کرنے میںعار نہیںکہ یہاںشریف خاندان بھی اپنی سیاست کا تحفظ کر رہا ہے ورنہ کسی بھی غیر سیاسی خاندان کےلئے ایسا ضمانت نامہ دینا کوئی مسئلہ نہ ہوتامگر یہاں حکومت کی پریس کانفرنس کرنے والی ٹیم واضح کر چکی ہے انہوں نے اربوں روپوںکے بانڈکا تعین کیسوں کی مالیت کے برابر رقم کو سامنے رکھ کر کیا ہے جو ظاہرکرتاہے کہ اس رقم اور ضمانت نامے کا سیاسی استعمال ہو گا۔ مسلم لیگ نون کے حلقوںکا سوال ہے کہ کیا پرویزمشرف سے بھی کسی قسم کا ضمانت نامہ لیا گیا تھا تواس کاجواب ملتا ہے کہ زیرسماعت مقدمے کے ملزم تھے،مجرم نہیں تھے اور اس کا جواب ماہرین قانون بہت دلچسپ دیتے ہیںکہ اگر ایک ملزم سزا سے بچنے کے لئے ملک سے باہرچلا جائے، عدالتوںمیں پیش ہی نہیںہوتا تو وہ ہمیشہ معصوم رہے گا اور اگر ایک سیاستدان مٹی کی محبت میں وطن واپس لوٹ آئے، وہ عدالتوںمیں پیش ہونے کے بعد ملزم سے مجرم بن جائے گا۔

انڈمنٹی بانڈکی شرط نے حکومت کے اس دعوے کی بھی نفی کر دی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر یہ فیصلہ کر رہی ہے بلکہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ نواز شریف کی صحت اور زندگی کے معاملے پر عدالت سے ضمانت منظور ہونے کے بعداپنے ووٹروں کی نظر میں اپنی سیاسی پوزیشن واضح اور بالاتر رکھنا چاہتی ہے جس کے لئے ’ بابوں‘ والا لطیفہ واٹس ایپ گروپوںمیں گردش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی عمائدین پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے اربوں روپوںکی گارنٹی کے عوض ای سی ایل سے نام نکالنے کا فیصلہ کر دیا ہے اور اگر شریف خاندان اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو اس کی مرضی ۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو برس پہلے ہی فرما دیا تھا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور یہاں نیت نواز شریف کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کی ہرگز نہیں ہے بلک موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ایسے ڈاکومنٹ کے حصول کی ہے جس پر نواز شریف کی ضمانت میں اربوں روپوںکی ادائیگی کے بیان پر دستخط موجود ہوں۔ ایک مسجد کے باہر ایک شخص کھونٹالگاتا ہے کہ کوئی مسافر آئے گا او ر اس سے اپنا گھوڑاباندھ لے گاجبکہ دوسری طرف اسی جگہ ایک دوسرا شخص اس نیت سے کھونٹا لگاتا ہے کہ اندھیرے میںجو نمازی آئیں گے ، وہ اس سے ٹھوکر کھائیں گے تو تماشالگے گا۔ میرا رب نیتوں کا حال بہتر جانتاہے اور اس کا وعدہ ہے کہ وہ کسی کے ذرہ برابر خیر کو ضائع کرے گا اور نہ ہی ذرہ برابر شر کو۔

انڈمنٹی بانڈ دینے میں بظاہر مالی طور پر کوئی حرج نہیں کہ نواز شریف بہرصورت وطن واپس آتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیںمگر میرا کہنا ہے کہ کچھ معاملات صرف مالی نہیں ہوتے، ان کا تعلق، عقل عزت اور غیرت سے بھی ہو سکتاہے۔


ای پیپر