15 نومبر 2019 2019-11-15

وزیراعظم عمران خان کا کرتار پور راہداری کھولنے کا عمل یقیناً باعثِ تحسین ہے، مگر بھارتی سابقہ کھلاڑی اور فنکار نوجوت سنگھ سدھوجس انداز میں اِس عمل پر اپنی تقریر میں وزیراعظم عمران خان کی خوشامد کررہے تھے، اُس پر ہمیں اتنی حیرانی نہیں ہوئی، جتنی اس پر ہوئی کہ وزیراعظم اُن کی اس خوشامد کو باقاعدہ انجوائے کررہے تھے، اُن کی باڈی لینگوئج سے تو یہی محسوس ہورہا تھا، یہ مناظر دیکھ کر میں سوچ رہا تھا ایک زمانہ تھا جب وہ وزیراعظم نہیں تھے، بلکہ اُن کے وزیراعظم بننے کا دُوردُور تک کوئی چانس بھی دیکھائی نہیں دیتا تھا، تب اُن کے منہ پر غیرضروری طورپر اُن کی کوئی خوشامد کرتا، اُن کے چہرے پر انتہائی ناخوشگوار تاثرات اُبھرتے۔ وہ اُسے روک دیتے، اپنے مخصوص انداز میں اُس سے کہتے ”بس کرو، بس کرو، مجھے پتہ ہے“ ....جب سے وہ حکمران بنے ہیں، یا جب سے اُنہیں اِس یقین میں مبتلا کردیا گیا تھا آپ وزیراعظم بن رہے ہیں، اچانک اُن کا رویہ تبدیل ہوگیا، اب اپنی خوشامد کووہ نہ صرف پسند کرتے ہیں، بلکہ باقاعدہ انجوائے کرتے ہیں، اگلے روز ایک وزیر صاحب مجھ سے ملنے آئے، میں نے اُن سے کہا ”نہ آپ وزیراعظم کی خوشامد کرتے ہیں، نہ آپ وزیراعظم کے سیاسی مخالفین کو گالیاں بکتے ہیں، پھر آپ میں کون سی ایسی ”خوبی“ ہے جس کی بنیاد پر آپ ابھی تک وزیر ہیں؟“ وہ مسکرائے اور کہنے لگے ”یہ تو مجھے بھی پتہ نہیں میں اپنی کس خوبی کی بنیاد پر ابھی تک وزیر ہوں مگر یہ میں آپ کو حلفاً کہہ سکتا ہوں کم ازکم اُن خوبیوں کی بنیاد پر ہرگز نہیں ہوں جن خوبیوں کی بنیاد پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، زلفی بخاری اور مراد سعید وغیرہ ہیں“ ....میں سوچتا ہوں ممکن ہے ہمارے محترم وزیراعظم عمران خان کو اِس حقیقت کا ادراک ہوگیا ہو وزیراعظم بننے کے بعد ان کی مخالفت بڑھتی جارہی ہے، یا عوام کو اُن سے پہلے والی محبت نہیں رہی، جو وہ یہ سوچ کر اُن سے کیا کرتے تھے کہ وہ اپنے زور بازو پر اقتدار میں آئیں گے، اُن روایتی کاندھوں پر سوار ہوکر نہیں آئیں گے جن روایتی خفیہ کندھوں پر سوار ہوکر سبھی آتے ہیں۔ سو اِس پس منظر میں اپنی مخالفت کم کرنے کے نفسیاتی تصور میں مبتلا ہوکر اب اُنہیں اپنی غیرضروری خوشامد یا تعریف اچھی لگنے لگی ہے ۔....نوجوت سنگھ جی کو اتنی طویل تقریر کرنے کی اجازت شاید اسی لیے دی گئی کہ اِس طویل تقریر میں اُنہوں نے بابے گورونانک جی کا اتنا ذکر نہیں کیا جتنا بابے عمران خان کا کیا، ویسے اُن کی تقریر سے خان صاحب کی خوشامد نکال دی جائے تو تقریر واقعی اچھی تھی۔ خصوصاً تقریر میں جو شعروشاعری اُنہوں نے کی متاثرکن تھی، ....تقریب سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی خطاب کیا، خطاب کیا کیا ہمیشہ کی طرح بور ہی کیا، وہ اتنا چبا چبا کر لفظ بولتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے وہ بول نہیں رہے کچھ کھارہے ہیں۔ اپنی طرف سے وہ اس یقین بلکہ ایمان کی حدتک اس یقین میں مبتلا ہیں کہ وہ جب بولتے ہیں اُن کے منہ سے پھول جھڑتے ہیں۔ پھول تو پتہ نہیں جھڑتے ہیں یا نہیں، وہ شائستگی ضرور جھڑتی ہے جو کم اور اچھا بولنے والوں سے جُڑی ہوتی ہے۔ مائیک کے سامنے آکر اُنہیں احساس ہی نہیں رہتا وہ لوگوں کا کتنا وقت ضائع کررہے ہیں۔ اُنہیں اس بات کا بھی احساس یا ادراک نہیں ہوتا لوگ اُنہیں سننا بھی چاہتے ہیں یا نہیں؟ ۔ وہ بولتے چلے جاتے ہیں،جی چاہتا ہے کبھی اُن سے ملاقات ہو اُن کی خدمت میں عرض کروں ”حضور بولنے کی کوئی حدہوتی ہے، بکنے کی البتہ کوئی نہیں ہوتی“....اُن کی طویل اور بورترین تقریروں کے دوران وزیراعظم عمران خان موجود ہوں تو اُن کی باڈی لینگوئج سے بھی صاف پتہ چل رہا ہوتا ہے وہ کتنی اذیت میں ہیں، اور یقیناً یہ سوچ رہے ہیں ”کب یہ بلا مائیک کی جان چھوڑے اور میری باری آئے“ .... میرے خیال میں شاہ محمود قریشی واحد شخص ہیں جو وزیراعظم عمران خان کی خوشامد کے طورپر بھی طویل تقریر کریں تو وزیراعظم وہ بھی شاید پسند نہ کریں، اُن کی تقریر سُن کر ہمیں اپنی ماضی کی اداکارہ فردوس یاد آجاتی ہیں جو خوشی کے ڈائیلاگ بھی بول رہی ہوتیں محسوس یہی ہوتا تھا آہیں بھر رہی ہیں، .... راہداری کی تقریب میں بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ بھی تشریف لائے۔ میراخیال تھا کچھ دیر کے لیے وہ بھی تقریر جھاڑیں گے، ممکن ہے پی ٹی آئی کی”فردوس“ یعنی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طویل اوربورتقریر سننے کے بعد اُنہوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا ہو، البتہ وزیراعظم عمران خان جب راہداری کے افتتاح کے لیے تشریف لارہے تھے راستے میں کھڑے من موہن سنگھ جی کو دیکھ کر وہ رُک گئے اور ایک دو منٹ اُن سے کھڑے کھڑے گپ شپ لگائی۔ وزیراعظم گپ شپ کے بعد آگے بڑھے تو اُن کے ایک ”امپورٹیڈدوست“ انیل مسرت نے سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے کچھ کہا، پھر اُن کے ساتھ سیلفی بنانے لگے تو سکیورٹی سٹاف نے بڑی پھرتی کے ساتھ اُنہیں باقاعدہ دھکا دے کر پیچھے کردیا جس پر وہ اچھے خاصے شرمندہ ہوکر آگے بڑھ گئے۔ چنانچہ سوائے دھکا ”انجوائے“ کرنے کے اِس موقع پر اُنہیں کچھ حاصل نہ ہوا۔ یہ لمحہ اُن کے لیے یقیناً بڑا تکلیف دہ ہوگا کیونکہ اُس لمحے اُن کی دولت حتیٰ کہ دولت کی بنیاد پر وزیراعظم پاکستان کے ساتھ اُن کی دوستی بھی کام نہ آئی، ویسے میں حیران ہوں آخر وہ من موہن سنگھ جی کے ساتھ سیلفی کیوں لینا چاہتے تھے، من موہن سنگھ کو بھی اُن پر ذرا ترس نہ آیا۔ ورنہ سکیورٹی سٹاف سے وہ کہتے ”یار اِس ”بچے“ کو سیلفی لینے سے کیوں روک رہے ہو؟“.... اُوپر سے میڈیا نے بے عزتی کے وہ لمحات بار بار دیکھائے جس کی خفت مٹانے کے لیے سنا ہے انیل مسرت شاہین جی نے بہت کوشش کی میڈیا وہ لمحات بھی بار بار دیکھائے جب راہداری کے افتتاح کے روز سیالکوٹ پہنچنے کے بعد وزیراعظم عمران خان ایئرپورٹ سے باہر آرہے تھے اچانک ایک لمحے کے لیے وہ پیچھے مڑے اور پیچھے سے آتے ہوئے انیل مسرت جی کو آواز دے کر پاس بلا لیا۔ انیل مسرت شکر کریں مراد سعید اُس روز وزیراعظم کے ساتھ نہیں تھے ورنہ یہ ”اعزاز“ بھی اُنہیں شاید حاصل نہ ہوتا، .... ویسے مراد سعید اور شیخ رشید کی کمی اُس روز بڑی محسوس ہوئی۔ ....حیرانی کی بات ہے وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کے یہ دو اہم ترین رکن اہم ترین اس تقریب سے غیرحاضر کیوں تھے؟ ۔شیخ رشید تو ایسے موقعوں کی ہمیشہ تلاش میں رہتے ہیں۔ سکھوں نے بھی اپنے اس بھائی کو اس روز یقیناً مس کیا ہوگا۔ اس تقریب سے اُن کا غائب ہونا کم ازکم اِس حوالے سے بڑا تکلیف دہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے ماضی کے چپڑاسی اور حالیہ عظیم ترین کاسہ لیس کی کاسہ لیسی سے اُس روز محروم رہ گئے۔ ویسے وزیراعظم کو چاہیے ذرا پتہ کروائیں شیخ رشید کی اُس وقت شہباز شریف سے کوئی میٹنگ تو نہیں چل رہی تھی ؟؟؟


ای پیپر