15 نومبر 2019 2019-11-15

اگر مولانا فضل الرحمن دَھر.... نہ لیے گئے، تو میں چاہتا ہوں، ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میں بھی ان کا کچھ ہاتھ بٹاﺅں، اور ریاست مدینہ، جن کے بارے میں متعدد لوگ متعدد مرتبہ عمران خان سے درخواست کرچکے ہیں، کہ وہ ریاست مدینہ اور خدارا ”صادق وامین“ کے الفاظ استعمال نہ کیا کریں، کیونکہ سوائے نبی محترم کے کوئی اور ”شخصیت یا شخص“ اس کا سزاوار نہیں ہوسکتا ، بلکہ ہماری دانست میں وہ صریحاً ناموس کا مرتکب ہو جاتا ہے۔

میں اپنی کم مائیگی وکم فہمی کے باوجود کوشش کرتا ہوں، کہ ریاست مدینہ کے کچھ خدوخال اپنے قارئین کے سامنے پیش کروں، مثلاً ریاست مدینہ کے عقائد وافعال پہ جو معاشرہ عمل پیرا اور کاربند ہوگا وہ بے شک دنیاکا سب سے زیادہ مہذب ، شائستہ اور مدنیت صالحہ کا مالک ہوگا، کیونکہ یہ وہ معاشرہ بن جائے گا، تو پھر لوگوں کے دلوں میں کسی شخص یا قوم کے خلاف نفرت اور ذاتی عناد ودشمنی کے جذبات بالکل نہیں ہوں گے، پھر قوم حق کی علمبردار، اور باطل کے لیے آہنی دیوار بلکہ ننگی تلوار بن جاتی ہے۔ پھر اس کی نظر میں امیروغریب ، شاہ وگدا، گورے اور کالے، عربی اور عجمی برابر ہوں گے ملک گیری یا ملوکیت پسندی کا وہم گمان بھی وہاں نہیں ہوسکتا، عام بندگان خدا کی فلاح، اور ان کی عافیت وانس کی فضا قائم کرنا ان کا اولین مطمح نظر اور نصب العین ہوتا ہے۔

یہ رائے محض میری نہیں بلکہ امت مسلمہ کے مفتیان بھی اسی بات پہ متفق ومتحد ہیں، تقلید نبی محترم کرنے والوں کو خدا پر بھروسہ ہوتا ہے، پھر وہ جس مثبت کام کا عزم لے کر اُٹھے گی ، وہ مخالفتوں اور مزاحمتوں کے باوجود پورا کرکے رہتی ہے ان عقائد ریاست مدینہ کا اسیر صاحب علم، ایک گدائے گوشہ نشین بنی گالہ ، منکسر المزاج جسے Down to Earthکہتے ہیں، اپنی دولت اور امارت کو عطیہ خداوندی سمجھ کر اسے خلق خدا کی خدمت کے لیے وقف کردے گا۔ تو پھر جیسا کہ خلفائے راشدین کے زمانے میں ہوتا تھا، مفلس اور فقیر میں بھی استعناءکا نور اور پیشانیوں پہ توکل خداوندی کا ظہورواطمینان جھلکتا نظر آتا تھا، یہ لوگ خدا کے خدا ان کا ہوگیا تھا، ان کو توپ و تفنگ کی بھی ضرورت نہ تھی، ریاست مدینہ کے بانی کی خاطر خدائے ذوالجلال والاکرام ہزاروں فرشتوں اور ملائیکہ کو انسانی شکلوں میں اتار دیتا تھا یہ جس طرف نگاہ اٹھاتے تھے، قوموں اور جماعتوں کی تقدیروں کو پلٹ کر رکھ دیتے تھے۔ تمام تربیت یافتہ رسول کے خلفاءراشدین نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے ظاہری نمودونمائش اور پروٹوکول کا ان کے ہاں کوئی تصور ہی نہیں تھا۔

خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ خلافت یعنی حکمرانی سے پہلے کسی لڑکی کی بکری کا دودھ دوہتے تھے جب آپ مسند اقتدار پہ بیٹھے، تو لڑکی بولی اب ہماری بکری کا دودھ کون دوہے گا؟ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جب لڑکی کے منہ سے یہ سنا، تو فوراً جواب دیا، کہ حکمرانی مجھ کو خلق خدا کی خدمت سے کیسے باز رکھ سکتی ہے، بیٹی تیری بکری کا دودھ اب بھی ابوبکر صدیق ؓ ہی دوہے گا۔

قارئین ، میرے ذہن میں ان خلفاءراشدین کے کارنامے، اصلاحات، اور کامیابی اور کامرانیاں سمیٹنے، اور امت مسلمہ کے آئندہ آنے والے حکمرانوں کے لیے، ان کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے، محض اور محض ان کی سادگی کی مثالیں آپ کے سامنے رکھنا مقصود ہے، تاکہ آپ کو پتہ چل سکے، کہ ریاست مدینہ بنانے والوں کی سوچ، اور عمل میں کس قدر مطابقت تھی، جس میں کہیں خدانخواستہ منافقت یا ریا کاری کا شائبہ تک نہیں تھا۔

حضرت عمرؓ جس قدر جلالی طبیعت کے مالک تھے، اسی قدر ہی ان میں سادگی وانکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، حتیٰ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح جہاں آرام کرنا ہوتا، تکیے کے بجائے اینٹ رکھتے اور سوجاتے، مگر جب اس وقت کی سب سے بڑی طاقت قیصر وکسریٰ کے سامنے ان کا نام آتے ہی لرزہ طاری ہو جاتا ایک خاص بات ، جب سے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے پہ نجانے کس مصلحت ، اور کیا سوچ کے ہمارے انتہائی حساس ادارے کے ذرائع نے خواہ مخواہ ٹویٹ پہ پیغام دے کر چہ مگوئیوں کو خوامخواہ تقویت دی۔ حالانکہ ریاست مدینہ میں امیر معاویہؓ اور اس وقت کے سپہ سالار خالد بن ولید ؓ سے بازپرس بھی کی، بلکہ حضرت عمرؓ نے جہاں تک میرا خیال ہے، حضرت خالدؓ کو اپنے عہدے سے بھی ہٹا دیا تھا، گو ان کا معزول کرنا مصلحت بھی تھی، کہ جنگوں میں کامیابی یا شکست ، کسی شخصیت کی وجہ نہیں ہوتی، بلکہ اللہ تعالیٰ، جسے چاہتا ہے کامیاب کرتا ہے یہی وجہ تھی، کہ عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ان نامور جرنیلوں کی کیا مجال تھی، کہ ان میں سے کسی کی پیشانی پر ناراضگی کی وجہ سے ماتھے پہ کوئی ایک شکن بھی پڑی ہو۔ حضرت عمرؓ کی اس شان ، جبروت وسطوت کے باوجود سادگی کا یہ عالم ہوتا تھا، کہ بدن پر کئی کئی پیوند لگے کپڑے پہنے ہوتے تھے، سرپہ پھٹا پرانا عمامہ ہوتا تھا، اور پاﺅں میں بہت ہی معمولی جوتا ہوتا تھا۔ نہ ان کا دربان، نہ خدام وحشم کا اہتمام، جو بھی رعایا میں سے کوئی شخص ملنا چاہے بے تکلف آکر مل سکتا تھا، اور اپنی ضرورت بیان کرسکتا تھا، مگر خلافت کی ذمہ داری کا اتنا شدید احساس کہ خود غریبوں، بیواﺅں اور بے کسوں کی خودخبرگیری کرتے بلکہ ان کے گھروں کا کام بھی کرلیتے، اور سوداسلف بھی بازار سے لادیتے۔

اب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دور حکمرانی میں غلام نبیؓ ابو رافع ؓ بیت المال کے خزانچی تھے ایک دفعہ حضرت علیؓ نے ان کی صاحبزادی کو دیکھا، کہ ایک موتی پہن رکھا ہے، یہ موتی بیت المال کا تھا، حضرت علیؓ نے پوچھا، کہ یہ موتی کہاں سے آیا، میں اس لڑکی کا ہاتھ کٹواﺅں گا تو لڑکی کے والد نے اس کی وضاحت فرمائی کہ یہ میں نے اسے لے کر دیا ہے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ میں نے جب حضرت بی بی فاطمہؓ سے نکاح کیا تھا، تو اس وقت صرف میرے پاس ایک مینڈھے کی کھال تھی، ہم دونوں اس پر سوتے تھے، اور دن کے وقت اس پر اونٹنی کو دانہ اور کھال اس پر ڈال کر کھلاتے تھے، اور حضرت فاطمہؓ کے علاوہ کوئی اور شخص کام کرنے والا نہیں تھا۔

خلفاءراشدین کے زمانے میں انصاف کے دور دورہ کی جھلک دیکھئے،ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے صاحبزادے نے شراب پی لی، تو حضرت عمرؓ نے خود اپنے ہاتھ سے انہیں اس قدر زورسے کوڑے مارے، کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ مصر کے گورنر حضرت عمر بن العاص کے متعلق ایک قطبی نے آکر ان کے ظلم وزیادتی کی شکایت کی تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فوراً انہیں مصر سے طلب کرلیا، اور ان کو سزادی ۔

قارئین ، ان کے علاوہ حضرت عثمانؓ ، جن کی شرافت اور حیا سے فرشتوں کو بھی حیا آتی تھی، ان کی سادگی اور شرافت اس قدرتھی، کہ انہوں نے شہادت کو تو قبول کرلیا، مگر ان کے گھر کا محاصرہ کرنے والوں کو نہ تو سزا دلوائی، نہ ان کے نام بتائے، کہ مبادہ ایسا کرنے سے ملت میں فتنہ وفساد اور انتشار پیدا نہ ہوجائے میرا تو دل کرتا ہے، کہ ریاست مدینہ، کے ان حکمرانوں کی سادگی، ایمان داری، شرافت اور ایمان کامل میں مزید لکھوں، فی الحال سید مظفر علی شاہ کے یہ اشعار :

جان ومال ونسل درراہ خدا

مرحبا اے پیکر صبرو وفا!!

بیعت باطل کبھی جائز نہیں

قائم ودائم اصول کربلا

گرفلاح دین ودنیا چاہیے

تھام نیر دامن آلِ عبا


ای پیپر