کشمیر کی آزادی،اقوام متحدہ کی قراردادیں بے اثر کیوں؟
15 نومبر 2018 (23:32) 2018-11-15

امتیاز کاظم

”کرس لیزلے“ جب برطانوی پارلیمنٹ کی کمیٹی روم میں کشمیر کے بارے میں رپورٹ پیش کر رہے تھے تو وہ خود بھی آبدیدہ تھے۔ اُن کا دل رو رہا تھا۔ کرس لیزلے برطانیہ میں آل پارٹی پارلیمانی کشمیری گروپ کے چیئرمین ہیں جب کہ دوسری طرف برطانوی پارلیمنٹ نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوج واپس بلائے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں منظم طریقے سے پُرتشدد اور وحشیانہ کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ برطانوی پارلیمانی کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” کشمیر میں پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث افراد کو مکمل ریاستی تحفظ حاصل ہے اور یہاں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہم بہت زیادہ اظہار تشویش کرتے ہیں“۔

آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز کے علاوہ بھی بہت سے نادیدہ ہاتھ پُرتشدد اور وحشیانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں اور مخبری کا بھی ایک وسیع نیٹ ورک ہے جو اندرونی اور خفیہ طور پر ریاستی جبر کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس سے پُرتشدد واقعات میں لاکھوں کشمیری متاثر ہوئے ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کے مقبوضہ کشمیر سے فوج واپس بلانے کے مطالبے کی ایک فوری وجہ یہ بھی ہے کہ جموں کے مضافاتی علاقہ ”چٹھہ مل“ میں 84 بٹالین سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی ۔آر۔پی۔ ایف) کے جوانوں نے ایک سکھ خاندان کے چار افراد کو بُری طرح زدوکوب کیا۔ بندوقوں کے بٹ مارے اور لاٹھیوں سے تشدد کیا جب کہ ان میں دو میاں بیوی افراد ضعیف تھے جو اس تشدد سے بُری طرح زخمی ہو کر قریب المرگ ہو گئے۔ ان سب افراد کو گورنمنٹ میڈیکل کالج وہسپتال جموں میں داخل کرایا گیا۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ سی آر پی ایف کے مارپیٹ اور تشدد کرنے والے جوانوں کی تعداد 60سے 70 تھی اور انہوں نے شراب پی رکھی تھی۔ یقینی طور پر ان افراد کے قریبی رشتہ دار برطانیہ میں مقیم ہیں جن کو جب واقعہ کی اطلاع ملی تو انہوں نے اس کو موثر طور پر برطانیہ میں کوریج دی جس سے برطانوی پارلیمنٹ بھی جاگی جب کہ پاکستان اور پاکستان کشمیر کمیٹی کے کرتا دھرتا شاید موثر کوریج دُنیا کو دکھانے سے قاصر ہیں یا یہ کمیٹی یہ سمجھ رہی ہے کہ ان کی کمیٹی آخری کمیٹی نکلی ہے اور پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی بس فرض ادا ہو گیا جب کہ جرنیل بپن راوت کہہ رہا ہے کہ پتھر مارنے والے کشمیری دہشت گرد ہیں۔ کیا وحشیانہ تشدد کرنے والے تمہارے فوجی دہشت گرد نہیں ہیں، کیا پیلٹ گن فائر کر کے آنکھیں چیخنے والے دہشت گرد نہیں۔ نوجوانوں کو قتل کر کے، شہید کر کے ان کی ماﺅں سے ان کے بڑھاپے کا سہارا چھیننے والے دہشت گرد نہیں ہیں۔ تمہارا تو گُرو مودی سب سے بڑا دہشت گرد ہے جس نے اندرا گاندھی کے مارشل لاءدور میں گجرات سے چھپ کر نکل کر حکومت کے خلاف پمفلٹ بانٹے اور دہشت گردی کی نہ صرف تربیت کی بلکہ خود دہشت گردی کی کارروائیوں میں بالواسطہ ملوث رہا اور اب بھی ہے۔ اس کی تو تربیت ہی کٹر ہندو بنیاد پرستانہ دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ نے کی ۔ آرایس ایس کا یہ دہشت گرد سیوک اب رُوپ بدل کر بی جے پی کی آڑ میں چھپا بیٹھا ہے۔ یہ بہروپیا آپ کو دکھائی نہیں دیتا اور چھوٹے چھوٹے پتھر اُٹھانے والے دہشت گرد نظر آرہے ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ کشمیریوں کی درد سے بھری آواز دُنیا کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی، اسے بھر پور طریقے سے پہنچانا اور دُنیا کو کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ہونے والے ظلم کو دکھانا ہو گا۔ بار بار دکھانا ہو گا، کبھی تو عالمی غیرت جاگے گی، جمال خشوگی واشنگٹن ٹائمز کے لیے کام کرتا تھا اُس کے ایک قتل کو دُنیا بھر میں یوں اُجاگر کیا گیا کہ امریکہ کے سعودیہ سے تعلقات تک متاثر ہونے پر آگئے، بے شک خشوگی بھی ہمارا ہی بھائی ہے لیکن روزانہ کے حساب سے جو کشمیر میں قتلِ عام ہو رہا ہے وہ میڈیا پر خصوصاً عالمی میڈیا پر اُجاگر کیوں نہیں ہوتا، کیا اس لیے کہ عالمی میڈیا یہودیوں اور امریکیوں کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس خبر کو چاہیں پَر لگا کر اُڑا دیں اور جس کو چاہیں اُس کے پَر کاٹ کر دبا دیں۔ ان چند دنوں میں کریک ڈاﺅن کے دوران صرف سری نگر میں 21 نوجوانوں کو شہید کردیا گیا۔

عالمی میڈیا کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ 31سالہ شہربانو نے اگرچہ ریاستی سنسرشپ کے خلاف آواز بلند کی لیکن نقارخانے میں تُوتی کی آواز کون سنتا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران صرف ایک دن میں تین نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا، دو کا تعلق پلوامہ کے علاقے ترال سے ہے جس میں ایک نوجوان شوکت احمد خان کو سپردکردیا گیا، ہزاروں افراد نے نمازجنازہ میں شرکت کی جب کہ تیسرا نوجوان مولانا مسعود اظہر کا بھتیجا محمد عثمان حیدر بتایا گیا ہے۔ آئے دن یہ شہادتیں ریاستی جبر کا پتہ دیتی ہیں۔ اقوام عالم کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے، یہی حال فلسطین میں ہے۔ اس خاموشی میں ایک آواز جو کشمیریوں نے 27 اکتوبر کو اُٹھائی اور بھارتی تسلط کے خلاف یوم سیاہ منایا۔ مرکزی ریلی مظفرآباد سے نکالی گئی جس میں صدر پاکستان عارف علوی نے خطاب کیا اور کشمیریوں کی غیر متزلزل سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔ حریت رہنما یاسین ملک کی نظربندی بھی تقریباً ایک ماہ ہو چکی ہے۔ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے جسے ہر صورت مکمل کرنا ہے، اگرچہ اس کو 71 سال ہو چکے ہیں کہ کشمیری اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور یہ کشمیریوں کی چوتھی نسل ہے جو اپنے مشن پر کار بند ہے۔

مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم پر عالمی امن کے ٹھیکے داروں کی پراسرار خاموشی معنی خیز ہے۔لیکن میڈیا کسی بھی علاقے ، ملک یا قوم کی سوچ اور ان کے نظریات تبدیل کر سکتا ہے۔ پاکستان کو شدید ضرورت ہے کہ وہ میڈیا کے ذریعے اصل صورت حال اور سنگینی کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرے تاکہ بھارتی میڈیا کا مقابلہ کر کے کشمیری عوام سے موقف کی صحیح ترجمانی ہو ۔ مسئلہ کشمیر جب سے شروع ہوا ہے اس دن سے جو بھی حکومت پاکستان میں آئی اس نے یہ مسئلہ حل کرانے کی بھر پور کوششیں کیں۔ جنگوں کے بعد مذاکرات کا بھی سلسلہ جاری رہا مگر اس میں کوئی خاص پیش رفت بھارت کی وجہ سے نہیں ہو سکی۔ جنگوں سے دونوں ملکوں کی عوام متاثر ہوئیں جبکہ اس سے اصل مسئلہ وہیں کا وہیں کھڑا رہا۔

اب ثالثی کے لئے بھی اقوام متحدہ کو آگے آنا چاہئے جیسے دنیا کے دیگر علاقوں میں کئی تنازعات کو حل کرایا کیونکہ بنیادی ذمہ داری اقوام متحدہ کی ہی ہے ورنہ اس کا وجود بے کار و بے معنی ہے۔ دوسری طرف امریکہ جو دنیا کی سپر پاور کہلوانے والا ہے اس کو اگر ثالثی کے لئے شامل کیا جائے تو یہ بے معنی ہی ہو گا کیونکہ اس کے ہر معاملے میں اپنے مفادات مقدم ہوتے ہیں۔ایسے میں ضرورت ہے کہ چین جو امن پسندی کا حامل ملک ہے اس میں ثالثی کے طور پریہ مسئلہ حل کرانے کے بارے میں اقدامات کرے۔ بغیر کسی غیر جانبدار ثالث کے یہ مسئلہ حل ہونا ممکن نہیں۔ نہتے کشمیری مسلمانوں پر بھارت کے بدترین مظالم کا سلسلہ رکوانے اور دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر لانے اور بر صغیر میں امن و استحکام کے قیام اور بقاءکی خاطر مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا از حد ضروری ہے۔

کشمیری نوجوان اور بھارتی فوج

کشمیر کی زیادہ تر موجودہ قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے جو بھارت کا غاصبانہ قبضہ ختم کرنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بھارت اب خوفزدہ ہو کر اپنی فورس سے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کروا رہا ہے۔ کبھی انہیں پیلٹ گنوں سے اندھا کر رہا ہے، کبھی کسی غریب کو جیپ کے آگے باندھ کر گھما رہا ہے لیکن غیرت مند کشمیری جانتے ہیں کہ بھارتی فوج جن میں دمِ خم نہیں ورنہ بھاری ہتھیار سنبھال کر بھی یہ کشمیریوں کے چھوٹے چھوتے پتھروں سے کیوں ڈرتے ہیں، ان کو لاشعوری طور پر پتہ ہے کہ یہ ابابیل کی چونچ میں دبے ہوئے چھوٹے پتھر ہیں جو کہ ان کو ایسے کردیں کہ جیسے کھائی ہوئی بھُس۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟

مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہ ہونا ہے۔ UNO ان قراردادوں پر عمل کرانے سے گریزاں بھی نظر آتی ہے بلکہ یوں لگتا ہے جیسے اقوام متحدہ اور مغرب خود کو باقی دُنیا سے الگ کرتے جارہے ہیں اور صرف اپنے مفادات کو مدنظر رکھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی اپنی ہی دُوربین ہے جسے وہ جہاں چاہتا ہے فوکس کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دیکھ لیتا اور جہاں سب سے زیادہ ہورہی ہیں وہاں وہ فوکس کرنا ہی نہیں چاہتا۔


ای پیپر