خاشق جی کے قتل میں ملوث 5سرکاری اہلکاروں کو سزائے موت
15 نومبر 2018 (20:40) 2018-11-15

ریاض:سعودی عرب کے اٹارنی جنرل سعود المجیب نے کہا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 5 سرکاری اہلکاروں کو سزائے موت دی جائے گی .

       قتل کو نائن الیون سے تشبیہ دی جائے تو غلط نہ ہوگااٹارنی جنرل سعود المجیب نے ریاض میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ استنبول کے سعودی قونصل خانے میں خاشقجی کو قتل کرنے والے ان 5 اہلکاروں کو سزائے موت دی جائے گی جنہوں نے قتل کرنے کا حکم دیا اور اس عمل کو سرانجام دیا۔

سعود المجیب نے واضح کیا کہ خاشقجی کے قتل سے ولی عہد محمد بن سلمان کا کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے، انہوں نے قتل کی واردات سے متعلق بتایا کہ خاشقجی کو زہریلا انجکشن لگایا گیا اور پھر لاش کے ٹکڑوں کوایجنٹس عمارت سے باہر لائے۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ خاشقجی قتل کیس میں مجموعی طور پر 21 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جس میں سے 11 کے خلاف باقاعدہ ٹرائل کیا جارہا ہے ان کا کہنا تھا کہ سعودی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ جنرل احمد العسیری نے خاشقجی سے مذاکرات کرنے والوں کو حکم دیا تھا کہ وہ خاشقجی کا سر لے کر آئیں۔

واضح رہے کہ سعودی حکمرانوں کے ناقد خاشقجی کوآخری بار 2 اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں داخل ہوتے دیکھا گیا جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئے، ابتدائی طور پر سعودی عرب نے اس حوالے سے خاموشی اختیار کی تاہم بعدازاں ان کے قتل کی تصدیق کردی۔


ای پیپر