محدود وسائل کیساتھ کرونا کیساتھ جنگ ،پاکستان کیلئے مثالی ملک
15 May 2020 (20:45) 2020-05-15

ہنوئی:کم وسائل کے باوجود منظم طریقے اور حکمت عملی کے ساتھ کورونا وائرس کی وبا کا مقابلہ کرنے والے جنوب مشرقی ایشیا کے ملک ویتنام میں کورونا کے باعث نافذ کیے گئے جزوی لاک ڈاؤن کو اگرچہ اپریل کے وسط میں ہی مزید آسان کردیا گیا تھا مگر مئی کے وسط میں تقریبا 75 فیصد کاروبار اور معمولات زندگی بحال کردی گئیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ویتنام میں 15 مئی کی صبح تک کورونا کے باعث ایک بھی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی تھی اور وہاں مریضوں کی تعداد 312 تک جا پہنچی تھیں۔ویتنام میں کورونا کا پہلا کیس جنوری 2020 کے آخر میں سامنے آیا تھا اور وہاں کی حکومت نے پہلا کیس سامنے آنے کے بعد ہی وبا سے بچاؤ کے اقدامات اٹھانا شروع کردیے تھے۔چین، جنوبی کوریا اور دیگر یورپی و ایشیائی ممالک کے مقابلے میں کم آمدنی والے اس ملک نے محدود وسائل کے باوجود کورونا کے خلاف کامیاب حکمت عملی بناکر نہ صرف وہاں ہلاکتوں کو روکا بلکہ بیماری کو پھیلنے سے بھی روکنے میں کامیاب رہا۔

ویتنام کی آبادی 10 کروڑ کے قریب ہے اور اس ملک کی کورونا کے مرکز سمجھے جانے والے ملک چین کے ساتھ ایک ہزار کلو میٹر طویل زمینی سرحد بھی ہے جب کہ ویتنام کے دیگر پڑوسی ممالک میں بھی کورونا کی وبا میں تیزی دیکھی گئی اور وہاں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔تاہم ویتنام کی حکومت نے چند چھوٹے اقدامات کرتے ہوئے اس وبا پر قابو پایا اور انتہائی کم وقت میں بڑی وبا کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی۔

ویتنام نے بیرون ممالک سے آنے والے شہریوں کو قرنطینہ کرکے ان کے ٹیسٹ کرنے کے بعد انہیں گھروں تک جانے دیا جب کہ کسی بھی کورونا کے مشکوک مریض کا ٹیسٹ کرنے سمیت اس پر ٹیکنالوجی اور پولیس کے ذریعے کڑی نگرانی کی۔کئی دن سے کورونا کا کوئی بھی نیا کیس سامنے نہ آنے کے بعد ویتنام کی حکومت نے تفریحی مقامات، پبلک ٹرانسپورٹ اور مقامی پروازوں کو بھی بحال کردیا اور مجموعی طور پر ملک بھر میں 75 فیصد کاروبار زندگی بحال ہوگیا۔حکومت نے عوام پر زیادہ سے زیادہ تفریحی مقامات پر جانے اور مقامی طور پر سفر کرنے پر زور دیا ہے تاکہ سیاحت سے ہر سال کمائے جانے والے اربوں ڈالرز کے نقصان کا کچھ ازالہ ہوسکے۔


ای پیپر