امریکا، یورپ نے بھارت میں مسلمانوں کی گرفتاریوں کی مذمت کر دی
کیپشن:   file photo
15 May 2020 (16:23) 2020-05-15

 نیویارک: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی اور یورپی پارلیمانی ریسرچ سروس کی بھارت میں مسلمانوں کے خلاف پُرتشدد واقعات اور غیر قانونی حراستوں کی شدید مذمت۔ بھارتی حکومت سے متنازعہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج پر گرفتار کیے جانے والے مسلمانوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کردیا۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی ٹویٹ میں کورونا کے بحران کے دوران متنازعہ شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کرنے والے انسانی حقوق کے مسلمان کارکنوں کو گرفتار کرنے کی مذمت کی اور اُن کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

گزشتہ ماہ، کمیشن اپنی رپورٹ میں منظم انداز میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو تشویش زدہ ملک قرار دینے کی سفارش بھی کرچکا ہے۔

ادھر، یورپی پارلیمانی ریسرچ سروس نے بھی اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ نئے متنازعہ سٹیزن ایکٹ سے بھارت میں تشدد بڑھا اور بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں خوف پایا جاتا ہے۔

مقبوضہ وادی میں گزشتہ سال سے نافذ لاک ڈاؤن، غیر قانونی گرفتاریوں اور انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی نظام معطلی کی بھی شدید مذمت کی گئی۔


ای پیپر