اُسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
15 مئی 2019 2019-05-15

تاریخ کا مطالعہ ہمیں قوموں کے مستقبل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے ۔ تاریخ کے عجائب خانوں میں جھانکنے سے ہی ہمیں پتہ چلتا ہے کہ سنگین ترین حالات کس طرح نئے لیڈر پیدا کرتے ہیں اور پرانی سیاست کس طرح دم توڑتی ہے ۔ علامہ اقبال نے فرمایا:

پرانی سیاست گری خوار ہے

زمیں میرو سلطان سے بیزار ہے

آج پاکستان تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں ملکی بقاء کی خاطر عوام سے قربانی کا تقاضہ کیا جا رہا ہے ۔ ویسے تو یہ ہر دور میں ہی ہوتا آیا ہے مگر اب کی بار اس کی شدت پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔ آئیے ذرا تاریخ کا رُخ کرتے ہیں۔ 1789 ء میں فرانس میں انقلاب ِ فرانس کا سلسلہ شروع ہوا جو اگلے دس سال تک چلتا رہا اس کی بنیادی وجہ معیشت تھی۔امریکہ کی جنگ آزادی میں مدد کرتے کرتے فرانس نے اپنی معیشت تباہ کر ڈالی جس طرح پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں 100 بلیئن ڈالر کا خسارہ برداشت کیا ہے ۔ انقلابِ فرانس کی دوسری وجہ یہ تھی کہ ٹیکسوں کا سارا بوجھ غریب مزدور اور کسانوں پر تھا ۔ طاقتور طبقہ حکومت میں تھا وہ ایسا کوئی قانون نہیں بننے دیتے تھے جس سے ان کے مفاد پر زد پڑتی ہو۔ جب بھاری قرضوں کے با وجود فرانسیسی معیشت بحال نہ ہوتی تو ملکی مالیات کے سربراہ نے فرنچ اسمبلی میں بل پیش کیا کہ ہر شخص اپنی آمدنی کا چوتھا حصہ یعنی 25 فیصد Petriotic Tax یا حب الوطنی ٹیکس کے نام پر ملکی خزانے میں جمع کروائے گا کہتے ہیں کہ بڑے بحران بڑی شخصیات کو جنم دیتے ہیں جیسا کہ بر صغیر میں قائد اعظم اور علامہ اقبال ابھرے تھے۔ حب الوطنی ٹیکس میں فرنچ پارلیمنٹ واضح طور پر تقسیم پیدا ہو گئی اس موقع پر Gabriel Mirabeau جو کہ پارلیمنٹ کا ممبر تھا اس نے مجوزہ بل کی مخالفت کا فیصلہ کیا جس کی بناء پر وہ راتوں رات ایک بہت بڑے لیڈر کی شکل میں قوم کے سامنے آیا۔ اس بل کی مخالفت میں اس کی اسمبلی میں کی جانے والی تقریروں نے اُسے ایک ہیرو اور عوامی لیڈر بنا دیا ۔

Mirabeau جب تقریر کرنے کے لیے اٹھا تو اس کے ہاتھ میں فرانس کے اس وقت کے بڑے بڑے تاجروں کی ایک لسٹ تھی جس میں 2000 لوگوں کے نام تھے اس نے کہا کہ غربت کے پسے ہوئے عوام پر 25 % ٹیکس لگانا اور اسے حب الوطنی کا نام دینا اس لفظ کی توہین ہے ۔ Miraberu نے تجویز پیش کی کہ غریبوں پر ٹیکس لگانے کی بجائے بہتر ہو گا کہ مذکورہ 2000 تاجروں سے ساری رقم لے لی جائے اس سے ملکی خزانے میں اتنا پیسہ جمع ہو جائے گا کہ ہمیں عوام پر ظالمانہ ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو پھر یاد رکھیں یہ بپھرے ہوئے غریب عوام آپ کو اپنے فرائم (حرام کی کمائی) سے لطف اندوز نہیں ہونے دیں گے۔ Mirabeau نے کہا کہ پورا ملک تباہ کرنے سے بہتر ہو گا

کہ ہم ملک بچانے کی خاطر صرف ان 2000 تاجروں کی قربانی دے دیں یہ تباہ ہو بھی جائیں تو ملک بچ جائے گا۔ انقلاب فرانس دنیا بھر کے انقلابوں کے لیے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے ۔

اس وقت پاکستان میں معاشی طور پر سنسنی خیز حالات کا دور دورہ ہے مہنگائی نے عوام پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے اور حکومت نئے ٹیکس لگانے کے لیے چھریاں تیز کر رہی ہے ۔ سٹاک مارکیٹ انڈیکس نچلی ترین سطح پر گر چکا ہے ۔ آئی ایم ایف سے لائی گئی معاشی ٹیم کے چرچے ہیں ان حالات میں دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اپنا خسارہ کہاں سے پورا کرے گی۔ پاکستان میں گزشتہ 50 سالوں میں کوئی ایسی حکومت پیدا نہیں ہو سکی جو امراء پر براہ راست یا ڈائریکٹ ٹیکس لگا سکے چونکہ ملک میں ٹیکسوں کا کوئی واضح نظام موجود نہیں ہے اس لیے جب بھی ضرورت پڑتی ہے بالواسطہ ٹیکس لگا کر وصولی میں اضافہ کر لیا جاتا ہے ۔ بالواسطہ ٹیکسوں کا سب سے بڑا ہدف غریب لوگ ہوتے ہیں جنہیں آئے دن نئے ٹیکس کے نام پر مزید کچل دیا جاتا ہے ۔

پاکستان میں 80 فیصد ٹیکس ان ڈائریکٹ ٹیکس سے حاصل ہوتا ہے ۔ جو غریب لوگوں کی جیبوں سے نکالا جاتا ہے ۔ پاکستان میں منی لانڈرنگ کا جو رجحان رہا ہے اس کے پیچھے بھی ٹیکس چوری ایک بنیادی وجہ ہے ۔ امراء زکوٰۃ و خیرات پر کروڑوں خرچ کر دیتے ہیں مگر حکومت کو واجب الادا ٹیکس نہیں دیتے۔ ٹیکس میں ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بیورو کریسی ہے جو نا اہلی اور بد عنوانی کی وجہ سے حکومت کو ہر سال اربوں روپے سے محروم کر دیتی ہے ۔ آپ نے سنا ہو گا کہ اس سال کے ٹیکس اہداف میں 350 ارب روپے کا خسارہ ہوا ہے ۔ اس میں 70 ارب روپے کا خسارہ تو وہ ہے جو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے عدالتی فیصلے کی وجہ سے ہوا ہے جس میں انہوں نے موبائل فون کارڈ پر ٹیکس ختم کر دیا تھا وہ ٹیکس بحال ہو چکا ہے مگر 70 ارب روپیہ اس فیصلے سے نقصان ہوا۔ یہ بیورو کریسی کی ایک چھوٹی سی مثال ہے اس 350 ارب روپے کے خسارے کا سراغ لگانا زیادہ مشکل کام نہیں اس کے پیچھے بیورو کریسی ہے ۔

نئے چیئر مین ایف بی آر سید شبر زیدی نے کہا ہے کہ براہ راست ٹیکس لگانے کا نظام لایا جائے گا مگر اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بیورو کریسی کی طرف سے ہو گی کیونکہ ان کی پوری کوشش ہے کہ باہر سے لا کر جو چیئر مین ان کے اوپر مسلط کر دیا گیا ہے وہ اسے ناکام بنا کر ہی دم لیں گے۔ چیئر مین ایف بی آر 20 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ والی سیٹ ہے مگر نئے چیئر مین بغیر تنخواہ کے کام کریں گے یہ ایک مشکوک تقرری ہے ۔ چیئر مین صاحب کیونکہ بلا معاوضہ کام کرنے پر آمادہ ہیں۔ شبر زیدی ایک وقت میں خود کہا کرتے تھے کہ اتنی بڑی پوسٹ پر اعزازی کام کرنے والوں کے اصل مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں۔

حکومت کو اگر اعزازی طور پر کام کروانا ہے تو وہ کیوں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ اور مراعات سے دست برادری اور وزراء کو مفت کام کرنے پر آمادہ نہیں کرتے۔ جب تک ملک میں امراء پر ٹیکس نہیں لگے گا ملک کا معاشی بحران کسی صورت ٹلنے والا نہیں ہے ۔

اس وقت ملک میں معاشی ایمر جنسی کی صورت حال ہے بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتیں دو گنا سے زیادہ ہیں ادویات کی قیمتیں ڈبل سے زیادہ ہو چکی ہیں ۔ پٹرول گیس بجلی کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں ڈالر کی قیمت میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے ۔ یہ ساری صورت حال انتہائی تشویشناک ہے ۔ میں نے ذاتی طور پر یہ بات بطور خاص نوٹ کی ہے کہ پچھلی حکومتوں کے دور میں قومی میڈیا میں جو موضوعات زیر بحث آتے تھے ان میں آئین، حکمرانی ، عدلیہ، قانون کی بالادستی ، بے روزگاری ، انسانی حقوق پولیس ریفارم وغیرہ شامل ہوتے تھے مگر جب سے تحریک انصاف بر سر اقتدار آئی ہے صرف ایک ہی دہائی ہے ہر طرف مہنگائی نے ملک میں قیمتوں کو آگ لگا دی ہے اور سوائے مہنگائی کے اور کوئی قابل ذکر موضوع نہیں رہا۔ بقول شاعر

جب بہاریں چمن میں آتی ہیں

تیری زلفوں کی بات ہوتی ہے

اس وقت قومی سطح پر چار سو ایک ہی بحث ہے کہ مہنگائی کہاں جر کر رکے گی؟ کوئی مقابل نہیں دور دور تک بلکہ بہت دور تک۔


ای پیپر