رہزنوں سے نہیں رہبروں سے خطرہ ہے
15 May 2019 2019-05-15

پاکستان کا قیام کسی معجزے سے کم نہیں ۔ یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان نبی کریمؐ کے عشاق کا مسکن ہے اور اللہ رب العزت کی خاص عطا ہے برصغیر میں انگریزوں کے ظلم سے لے کر ہندووں کی عیاری تک مسلمانان بر صغیر سب ستم جھیلتے آئے ہیں لیکن علامہ اقبال ؒ کے خواب کی تعبیر قائد اعظم ؒ کی انتھک محنت سے لازوال قربانیوں کے بعد ممکن ہوئی قیام پاکستان کے بعد اسلام دشمنوں کو یہ زعم تھا کہ یہ نوزائدہ مملکت خدانخواستہ زیادہ دیر نہیں چلے گی اور اسے دوبارہ ہندوستان میں ضم ہونا پڑے گا لیکن اللہ تعالی کے فضل اور اسکے کرم سے پاکستان دنیا میں اپنے آپ کو منواتا چلا گیا بھارت کو یہ تقسیم ہضم نہ ہوئی اور قیام پاکستان کے پہلے رو ز سے ہی اس نے پاکستان دشمنی میں کبھی گولہ باروود سے آگ برسائی تو کبھی آبی جارحیت سے کام لیا دنیا میں پاکستان مخالفت کا کوئی موقع اس نے ہاتھ سے جانے نہ دیا ۔14فروری پلوامہ میں تقریبا چالیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت آگ بگولہ ہوگیا اورلازم ہوگیاکہ پاکستان کوسبق سکھانے کی دھن میں کئی غلطیاں کر بیٹھا۔بالا کوٹ میں حملہ اسکی سنگین غلطی ثابت ہوئی۔ 5 طیاروں کی کاروائی کے دعووں کے بعد انکا جذبہ انتقام اور بھی ابھر کر سامنے آیا اس نے کشمیر میں ظلم کی آگ کو اور بھی بھڑکا دیا رہنمائوں کو پابند سلاسل کر دیا حالانکہ بھارتی جانتے کہ کشمیر اسکے ہاتھ سے نکل چکا ہے ۔ بھارتی حکومت سینہ تانے اپنے عوام کو پاکستان پر حملے کے حوالے سے بے وقوف بناتی رہی ۔حالانکہ دوسرے ہی روزپاکستان نے بھارتی علاقے میں گھس کرفضائی کاروائی کرکے نہ صرف دو طیارے مار گرائے بلکہ ونگ کمانڈر ابھی نندن کوبھی قابو کر لیااس سے نہ صرف بھارتی جنگی جنون کے غبارے سے ہوا نکل گئی بلکہ روایتی جنگ میں بھارت کی بالادستی کازعم بھی ریت کی دیوار ثابت ہوا بھارت کا بڑی فوج رکھنے کا غرور اور جنگی سازوسامان کی نشہ اتر چکا ہے لیکن بھارت کی پاکستان دشمنی کی آگ ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی

بھارت چا بہار بندرگاہ منصوبہ پر گئے سال سے کام شروع کر چکا ہے اور وہ ایران سے تعلقات کو اور بھی استوار کرنے میں مصروف ہے افغانستان میں تو بھارت اپنا نیٹ ورک اس سے بھی زیادہ مستحکم کرچکا ہے کیونکہ چا بہار عالمی سطح پر تیسری بڑی تیل فراہم کرنے والی بندرگاہ ہے جس سے وہ خدانخواستہ گوادر بندرگاہ کی بین الاقوامی اہمیت کو ٹھیس پہنچانے کے لئے پرتول رہا ہے گوادر پاک چائنہ اقتصادی راہداری کا اہم مرکز ہے پاکستان چین بارہا ایران کو سی پیک میں شمولیت کی آفر کرچکا ہے بھارت چا بہار کی بندرگاہ کو تجارتی مقاصد کے استعمال کا ڈرامہ رچا چکا ہے ۔ بھارت ایران افغانستان سرحد کے پاس ریلوے لائن بھی بچھا رہا ہے بھارت کی سرکاری اور غیر سرکاری کمپنیوں سے سرمایہ کاری کروا رہا جبکہ غیر سرکاری کمپنیوں کی اسرائیل سے راہ ورسم بھی سامنے آرہی ہے یاد رہے بھارت نے جب پاکستان پر فضائی دراندازی کی تو اس وقت بھی اسرائیلی طیاروں اور انکے پائلٹ کے پختہ ثبوت سامنے آچکے ہیں موجودہ حکومت نے بھارتی گرفتار پائلٹ کو اپس بھیج کر اخلاقی فتح حاصل کر لی اس سے دنیا پاکستان کے موقف کی تائید کئے بغیر نہ رہ سکی حالانکہ پاکستان دشمنی کا بھارتی نیٹ ورک دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے اور وہ ایک منظم طریقے سے پاکستان دشمن قوتوں سے مل کر پاکستان کے خلاف سازشوں کے تارعنکبوت بننے میں مصروف ہے گرم پانیوں تک پہنچنے کی حسرت لئے روس تاریخ کا گمشدہ قصہ بن کر رہ گیا بھارت کتنے ہی جتن کر لے پاکستان کے خلاف اس کا کوئی وار کارگر نہیں ہو سکتا لیکن اسکا کیا کیجئے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کو زچ کرنے سے فرصت نہیں پاکستان کی سیاست کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے قیام پاکستان کے بعد لیاقت علی خان کی شہادت سے ہی ملکی سیاست کو آلودہ کر دیا گیا تھا حالات و واقعات بدلتے گئے لیکن ملک کے معاملات جوں کے توں رہے عام آدمی کا معیار زندگی کسی طور بہتر نہ ہو سکا نواز شریف کا کیس پاناما سے شروع ہو کر اقامہ پر ختم ہواپاناما میں اور سینکڑوں نام آئے لیکن قابل تعزیر صرف نواز شریف کو ہی سمجھا گیا دشمن سرحدوں سے لے کر چوکوں چوراہوں ۔درباروں ، مساجد تک ہم پر وار کرتا چلا آیا ہے لیکن ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کو کم تر ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہے افواج پاکستان نے دہشتگردوں کی کمر تو توڑی لیکن جب ملک میں انتشار کی سیاست کو فروغ دیا جائے گا تو دشمن کو موقع تو ملے گا داتا دربار کے باہر ہونے والا خود کش حملہ اسکا تازہ ثبوت ہے عمران خان صاحب۔ مسلم لیگ ن کی حکومت پر الزام لگاتے رہے کہ انہوں نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینکوں سے قرض لے کر عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رکھا ہے ۔لہذا جب بھی ان کی حکومت آئی وہ خود کشی کر لیں گے مگر کسی صورت ملک پر مزید قرضوں کا بوجھ نہیں ڈالیں گے ۔وہ اعلان کرتے رہے کہ ان کے پاس دو سو لوگوں کی ایسی ٹیم ہے جن کی مدد سے وہ پہلے دن سے ملک کو سنوار دیں گے ۔خان صاحب امیر طبقے پر بھاری ٹیکں لگا کے ملکی خزانے کی کمی کو پورا کرنے کی نوید بھی سناتے رہے ہیں ۔اور غریب عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے دعوے بھی جبکہ ہوا سکے برعکس ہے آج اینٹ سمنٹ سے لے کر آٹا چینی تک پر چیز مہنگائی کے بام عروج پر پہنچ چکی ہے خان صاحب اپنے دورہ ایران میں دہشتگردی کے نام پر جو معرکہ مار آئے تھے وہ سب کے سامنے ہے حالانکہ ضرورت تو اس امر کی تھی کہ ایران افغانستان سے تجارتی مراسم بڑھائے جاتے لیکن شائد پی ٹی آئی کی حکومت سیاسی بصیرت سے عاری ہے یہ مان کیوں نہیں لیتے کہ ان سے مسائل کا کوہ گراں سر کرنا مشکل ہے میں بڑے وثوق سے کہتا ہوںکہ پی ٹی آئی کی حکومت اگر 5سال مکمل کر بھی گئی تو بھی وہ یہی کہیں گے کہ پچھلی حکومتوںکے پیدا کردہ مسائل ہی اتنے تھے کہ انہیں حل کرنے میں انہیں مزید 5سال کا وقت درکار ہے عمران خان سے عوام یہ خواہش رکھتی تھی ملک قرضوں کے بھنور سے نکل آئے گا ۔لیکن یہاں تو گنگا الٹی بہنا شروع ہو چکی ہے ۔بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں بڑا تخلیقی جملہ کہا کہ پی ٹی آئی ۔ پی ٹی آئی ایم ایف بن چکی ہے ۔ عمران خان صاحب اللہ رب العزت نے آپکو موقع دیا ہے اپنے عوام کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور حقیقی معنوں میں کچھ کر دکھائیں تو اگلے الیکشن میں کامیابی کے خواب کی تعبیر آپ پاسکیں گے۔


ای پیپر