عروج کو نہیں تکبر کو زوال ہے
15 May 2019 2019-05-15

اگر عروج کو زوال ہوتا تو آج بھی حضرت عمرؓ کے دور کی مثالیں نہ دی جاتیں ۔ اگر اقتدار عروج ہوتا تو آج یزید کی بجائے جناب امام حسین ؓ کی پیروی پر فخر نہ کیا جاتا۔حکمران جس بے حسی کا شاہکار ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ سابقہ حکمران جیسے بھی تھے مگر سوئی گیس، پٹرول وغیرہ کی قیمت یا نیا ٹیکس لگاتے وقت سینکڑوں مرتبہ سوچتے تھے کہ اس کے کیا اثرات ہوں گے مگر موجودہ حکمران بالکل پروا نہیں کرتے 10، 12 روپے فی لٹر پٹرول ایک جھٹکے میں بڑھائے دیتے ہیں۔ اشیاء خورو نوش تو اب امیر لوگوں کے لیے بھی باعث تشویش ہے ۔ موجودہ حکومت کا کوئی ایک پہلو کوئی ایک کارنامہ غریب کیا عوام دوست نہیں ہے اور اُس پر یہ بیان کہ حکومت کرنا آسان کام ہے گویا مشکل کام اس وقت بلاول بھٹو کر رہے ہیں۔ گو کہ حکومت میں رہنا سبھی چاہتے ہوں گے مگر دنیا کی محفوظ اور موجود تاریخ میں ایک بھی حکمران ایسا نہیں گزرا جس نے کہا ہو کہ حکومت آسان کام ہے ۔

حکمرانی آسان کام کہنے والے کے دور میں رہنا کتنا مشکل کام ہو گا ۔ روٹی روزی کا افلاس تو پھر کچھ تدارک ہو سکتا ہو گا اخلاقیات، احساسات، حمیت، حقیقی آزادی اور انصاف کے افلاس کا کیا کیا جائے۔ گھر کا راشن، مہمان داری، دوائی علاج، تن پوشی کا خرچہ ایک طرف سوئی گیس اور بجلی کا بل ایک طرف اور اس پر حکومتی نمائندوں کو ٹی وی ٹاک شو میں مسکرا مسکرا کر، طنزیہ لہجوں میں بات کرنا ۔آج حکمران جماعت کے رہنما جس کو جدوجہد کہتے ہیں وہ تو بندوست تھا۔ شوکت عزیز نہ سہی عمران خان سہی آپ ذرا حکومتی تنظیم کا مشاہدہ تو کریں وزیر ، مشیر خزانہ، وزیر داخلہ ، وزیر اطلاعات و نشریات، وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، گورنر سٹیٹ بینک چیئرمین FBR، وزیراعلیٰ پنجاب کیا کیا گنوائیں ان میں کوئی ایک بھی ہے جو جدوجہد کی بات کرے۔ (ق) لیگ، (ن) لیگ، پی پی پی، ایم کیوایم وغیرہ کے ناپسندیدہ افراد اس سارے حکومتی ماحول کا حصہ ہیں جس میں عمران خان کیا اجنبی نہیں ہیں۔ شیخ رشید چوہدری پرویز الٰہی کے متعلق ان کے وچار اور اب ان کے بغیر لا چار ہیں۔ ایسی پر اسرار ، کثیر الجماعت ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی حکومت توپہلے کبھی دیکھی نہ سنی نہ پڑھی۔ سب سے حیران کن بزدار ہیں فرماتے ہیں پی ٹی آئی 70 سال کی خرابیاں دور کر رہی ہے کیا 33 سال 4 مارشل لاؤں کے بھی شامل ہیں کہ نہیں اور ان خرابیوں میں سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش بھی شامل ہے کہ نہیں ؟ عجیب الخلقت انسان تو سنے تھے حکمران پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔ کیا 70 سالوں میں 1973ء کا آئین ، ایٹمی صلاحیت سٹیل مل، ختم نبوت پر قانون سازی، پاک چائنہ دوستی، جمہوریت کی بحالی ، موٹر وے ہائی ویز ، میزائل ٹیکنالوجی ، 1122 سروس، سیف سٹی پروجیکٹ، تھرکول پروجیکٹ، آئینی اصلاحات وغیرہ جیسی خرابیاں بھی شامل ہیں کہ نہیں کیونکہ کرپشن بدعنوانی ، بے حسی تو نقطہ عروج کو بھی پھلانگ چکی ہیں۔ عجیب کامیڈی تھیٹر ہے ۔ واوڈا فرماتے ہیں۔ 200 روپے لیٹر بھی عوام برداشت کر لیں گے پتہ نہیں یہ عوام اپنے آپ کو سمجھتے ہیں، مراد سعید بلاول کے خلاف بات کر کے اپنا قد اونچا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی والے کے اندر سے ابھی اطلاعات کے جراثیم باقی ہیں۔ جیسے کئی قلمی بونے علامہ اقبالؒ ، قائداعظمؒ پر زبان درازی کر کے دانشور بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح حکومتی نمائندہ جو بھی ٹی وی پر آتا ہے ایک نئی جگت سناتا ہے یا عوام پریشان ہیں کہ یا الٰہی !یہ حکمران کیا ہیں۔ آخر ان امراض کی دوا کیا ہے ۔ پالیسیز کا یہ عالم ہے کہ کسی بھی موضوع پر وزراء کے آپس میں بیانیے تو کیا ملنے ہیں انفرادی طور پر کسی کا اپنا بیان دوسرے بیان سے نہیں ملتا۔

ہسپتالوں میں بیمار ایڑیاں رگڑ رہے ہیں ، پرائیویٹ ہسپتال گویا ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنائے ہیں۔ ماتحت عدلیہ میں آئے روز تالے پڑے ہیں پہلے سپیڈ منی کی کرپشن کرتے ہوئے لوگ ڈرتے تھے اب یہ باقاعدہ روزگار ٹھہرا ویسے آمدن سے زائد اثاثے قابل گرفت ہیں۔ آمدن سے زائد شراب نوشی کا سراغ بھی کبھی لگ پائے گا کہ نہیں جناب عمران خان نے کرپشن کے خلاف نعرہ لگا کر امید دلا کر وطن عزیز کے بے روزگار نوجوانوں کو ہمت دلا کر کرپشن میں کمی کی بجائے بڑھاوے پر بھی کچھ نہ کیا۔ موجودہ حکمران ابھی تک سابقہ حکمرانوں کو بیچ رہے ہیں۔ ان کو کوئی بتائے وہ بیت گئے وہ سابقہ حکمران تھے کوئی ملنگی یا مولا جٹ فلمیں نہیں تھیں جو بار بار توجہ حاصل کریں وہ کوئی دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا گیت نہیں تھا جو فلمی گیت سے ثقافتی گیٹ بن جائے۔ میں نے ہر سورج کو اس کے عروج پر دیکھا ۔ ضیاء الحق کا سورج جب سوا نیزے پر تھا تو میں سوچتا تھا یہ لوگوں کی ننگی پیٹھوں پر کوڑے مارنے والا یہ سیاسی آزادی مانگنے پر قلعہ بند کرنے والا مگر ہیرا منڈی میں رات گیارہ سے ایک بجے تک مجرے کی اجازت کا آرڈریننس جاری کرتا ہے جس کے دور میں ہیرا منڈی کو تو قانونی تحفظ اور سیاسی آزادی مانگنے والوں کو کوڑے ہیں پھر کیا ہوا 17 اگست 1988ء ہو گیا۔ پھر ہم نے 12 اکتوبر میں ڈرتا ورتا نہیں ہوں مکے لہرانے والا مخالف سیاست دانوں کو ملک میں نہ گھسنے دینے والا دیکھا۔ آج خود عدالت کے بلانے پر بھی نہیں آ رہا اور مکے لہرانے والا منہ سے مکھی ہٹانے سے قاصر ہے ۔ ہم نے میاں صاحبان بھی دیکھے ان کی جماعت کا تکبر بھی مگر جب سورج ڈوبنے لگے تو ایسے بے بس اللہ پناہ! کل کی بات ہے میاں صاحب کی خوشنودی اور اقتدار میں کثرت کی خاطر کل شیخ رشید بی بی شہید پر بولتا تھا۔ آج سب نے دیکھا کہ میاں صاحبان اور خاندان پر یہی شیخ رشید کیا کیا آوازیں کستا ہے حالانکہ اُن کی دوسری حکومت تک ہر کام میں شریک تھا۔ آج اُن کو تباہی سبب کہتا ہے ۔ میاں صاحب کو گنبد کی آواز لوٹ کر کانوں کو آنے میں 25 سے 35 سال لگے یا بی بی کے شہادت کے بعد سلسلہ شروع ہوا مگر عمران خان کے لیے میں سوچتا تھا اس نے تو پہلے حکومت نہیں کی اور پیسے کا الزام بھی نہیں ہے مگر ان کی زبان سے کسی کی عزت محفوظ نہیں جس طرح مخالفین کی تحقیر کی، تذلیل کی نام تو کبھی لیا ہی نہیں ، طنز ، گالی، دھمکی اور تذلیل ، چور ، ڈاکو، بدکار یہی حال ساری قیادت کا تھا۔ یہ لہجے اور دعوے بھی تکبر کے زمرے میں آتے ہیں مگر نہ 11 سال نہ 9 سال نہ 25 سال عمران بھائی تو 9ماہ میں ہی گنبد کی آوازیں سننے لگے ۔بزدار صاحب 70 سالوں کی خرابیاں نہیں جو کچھ بھٹو صاحب اور اُن کے بعد بہتری آئی تھی 40 سال کی بہتری آپ نے 9 ماہ میں زمین بوس کر دی۔ جب زندگی ذلیل کرنے لگے معاشرت رسوا کرنے لگے حکمران بے حسی کی مثال بن جائیں تو پھر آہ نکلتی ہے یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے ؟ دراصل تکبر اللہ کو زیبا ہے ۔ عروج کو نہیں تکبر کو زوال ہے اس کی جس دن سمجھ آ گئی کوئی کروفر والا اللہ کی دی ہوئی ذمہ داری اور اختیار کو اپنا ذاتی اور موروثی اختیار نہیں سمجھے گا۔ اقتدار سے گرنا زوال نہیں دل و نظر سے گرنا زوال ہے جناب بھٹو اور محترمہ بی بی قبروں میں جا سوئے مگر کفن زندوں کو شکست دیتے رہے۔


ای پیپر