ہمیں خود کو بدلنا ہو گا
15 مئی 2019 2019-05-15

ہرن کی رفتار تقریباً 90 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے جبکہ شیر کی زیادہ سے زیادہ رفتار 58 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔

رفتار میں اتنے بڑے تفاوت کے باوجود بھی بیشتر موقعوں پر ہرن شیر کا شکار ہو جاتا ہے، کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کیوں؟کیونکہ جب بھی شیر کو دیکھ کر جان بچانے کیلئے ہرن بھاگتا ہے تو اس کے دل میں پکا یقین ہوتا ہے کہ شیر نے اسے اب ہرگز نہیں چھوڑنا، وہ شیر کے مقابلے میں کمزور اور ناتواں ہے اور اس سے بچ کر نہیں نکل سکتا۔

نجات نا پا سکنے کا یہ خوف اسے ہر لمحے پیچھے مڑ کر یہ دیکھنے کیلئے مجبور کرتا ہے کہ اب اس کے اور شیر کے درمیان کتنا فاصلہ باقی رہتا ہے اور خوف کی حالت میں یہی سوچ ہرن کی رفتار پر اثر انداز ہوتی ہے، بس اسی اثناء میں شیر قریب آ کر اسے دبوچ کر اپنا نوالہ بنا لیتا ہے۔

اگر ہرن پیچھے مڑ مڑ کر دیکھنے کی اپنی اس عادت پر قابو پالے تو کبھی بھی شیر کا شکار نہیں بن پائے گا اور اگر ہرن کو اپنی اس صلاحیت پر یقین آ جائے کہ اس کی قوت اس کی برق رفتاری میں چھپی ہوئی ہے بالکل ایسے ہی جیسے شیر کی قوت اْس کے حجم اور طاقت میں چھپی ہوئی ہے تو وہ ہمیشہ شیر سے نجات پا لیا کرے گا ۔

بس کچھ ایسی ہی ہم انسانوں کی فطرت بن جاتی ہے کہ ہم ہر لمحے پیچھے مُڑ مُڑ کر اپنے ماضی کو تکتے اور کریدتے رہتے ہیں جو کچھ اور نہیں بلکہ ہمیں صرف ڈستا رہتا ہے ، ہماری ہمتوں کو پست، طبیعتوں کو مضمحل اور رویوں کو افسردہ کرتا رہتا ہے۔اور کتنے ہی ایسے پیچھا کرتے ہمارے وہم اور خوف ہیں جو ہمیں ناکامیوں کا نوالہ بناتے رہتے ہیں۔اور کتنی ہی ہماری ایسی اندرونی مایوسیاں ہیں جو ہم سے زندہ رہنے کا حوصلہ تک چھینتی رہتی ہیں ہم کہیں ہلاک نا ہو جائیں کی سوچ کی وجہ سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے قابل نہیں بنتے اور نا ہی اپنی صلاحیتوں پر کبھی اعتماد کر پاتے ہیں …!

ہماری ساری کی ساری زندگی خوف پر مبنی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نفسیاتی طو ر پر پنپ نہیں سکتے۔ ہمارے کردار کی تعمیر نہیں ہو سکی۔ ہم روح کے ارتقاء کو پہچان نہیں سکے۔ ہم صدیوں کے غلام ہیں۔ ہزاروں سالوں کی بھوک ہمارے اندر سے نہیں نکل سکی۔ ہمارے کردار اور ہماری روح کی تکمیل نہیں ہو سکی۔ ملک میں موجود کروڑوں سکولز، لاکھوں کالجز اور یونیورسٹیاں ہمیں تعلیم سے تو آشنا کر گئیں۔ مگر ہمارے کردار کی تعمیر نہ کر سکیں۔ لاکھوں مدرسے ہمیں قرآن، حدیث اور فقہی مسائل سے روشناسی تو کروا گئے مگر دین کی سمجھ بوجھ عطاء نہ کر سکے۔ ہم فرقوں میں بٹ گئے تو خود ہی ایک دوسرے پر تغ زنی کرنے لگے۔ ایک فرقے نے خود کو سچا ثابت کرنے اور دوسرے فرقے کو نیچا دکھانے کے لیے اربوں کے وسائل کا ضیاع تک کر دیا۔ مگر نتیجہ اپنی منشاء کے مطابق حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

کسی بھی عالم اسلام، عالم دین اور مبلغ نے یہ سوچنا اور سمجھنا گوارہ نہیں کیا کہ اسلام تو سارے کا سارا زرکان اسلام میں پڑا ہوا ہے۔ مگر ہر معلم اسلام اور مبلغ نے اپنے فرقے کی اشاعت اور ترویج کے لیے خود کو اور باقی وسائل کو وصف کیا۔ جس سے مادہ پرسی کے ساتھ ساتھ ڈھیروں اور سینکڑوں مسائل وجود میں آئے ہیں۔ اور ہم خود ہی ایک دوسرے کو ضارج اسلام کہنے پر آمادہ ہو گئے۔

سچ تو یہ ہے کہ حکومتیں ستر سالوں میں سچی اور صادق نہیں آئی ہیں۔ آمریت رہی ہو یا جمہوریت کا ڈھول بجا ہو ۔ ہمیشہ ملک و قوم کا نقصان ہوا ہے۔ ملکی وسائل کا ضیاع ہوا ہے۔ ملکی خزانے کو نقصان پہنچا ہے۔ اور جس کا بھی دائو لگا ہے اس نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں۔ یہاں کہیں بھی ملکی مفاد یا عوامی مفاد آڑے آیا ہے۔ ہر وزیر، مشیر اور سیاست دان نے اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دی ہے۔ ہم 90 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار رکھنے والے ہرنوں کی طرح دم دبا کر بھاگے جا رہے ہیں اور وہ گیدڑ، شیر بن کر ہمارا شکار کیے جا رہے ہیں۔ در اصل غلطی ساری ہماری اپنی ہے۔ ہم خود بھی بڑے کرپٹ اور منافق ہیں۔ کیا ہم نے بطور مسلمان اور بطور انسان کبھی سوچا؟ کہ اسلام نے تو بھائی چارے کا درس دیا ہے؟ ہم نے کبھی مواخات مدینہ کا مطالعہ کیا؟ یہ ہم ہی ہیں ناں جو چور بازاری کرتے ہیں؟ جو جائز کام کی بھی رشوت لیتے ہیں؟ چوری کرتے ہیں؟ ڈاکہ ڈالتے ہیں ؟ رمضان کی آر میں ذخیرہ اندوزی کر کے اربوں کماتے ہیں؟ حقوق العباد سے نا آشنا ہیں ؟ گدھے کا گوشت بیچتے ہیں؟ غیر معیاری مشروبات کا دھندا کرتے ہیں۔ مردار جانوروں کی چربی کا آئل بناتے ہیں۔ یہ ہم ہی ہیں ناں… جو مردہ برائلر کو شوارموں ، برگروں اور سموسوں میں استعمال کرتے ہیں؟ سوچیں ! کیا یہ سارا فساد اور دنگہ ہماری وجہ سے نہیں ہے کیا؟ پھر ہم مہنگائی ، لا قانونیت، افراتفری کا دوش حکومت کو کیوں دیتے ہیں۔ اصل میں ہم خود ہی بدلنا نہیں چاہتے۔ مگر ایک بات یاد رکھیں اگر ہم خود ہی اپنے آپ کو نہیں بدلیں گے تو ہماری تقدیر کبھی نہیں بدل سکے گی… اور یہ بھی بھول جائیے کہ کوئی حکمران ہماری تقدیر بدلے گا ۔ ہمیں اپنے مضمحل رویوں کو بدلنا ہو گا ؟ ہمیں اپنے اندر سے مایوسی نکال کر امید اور روشنی کی کرنیں بھرنی ہوں گی؟ ہرن کی طرح بھاگنا ہو گا اور ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا ہو گا ۔ ہمیں اپنے اندر احساس اور احساس ذمہ داری پیدا کرنا ہو گا ۔ ملک اور قوم کے لیے جذبہ اعیانی پیدا کرنا ہو گا … احساس مروت و الفت و موانسب پیدا کرنا ہو گا ۔ مادہ پرستی سے نکلنا ہو گا ۔ تبدیلی در اصل کسی نعرے کا نام نہیں ہے۔ تبدیلی افراد کے اپنے آپ کو تبدیل کرنے کا نام ہے۔ اپنے اندر مذہبی، قومی اور ملی احساس کے اجاگر کرنے کا نام ہے۔ ملکی، ملی اور قومی بہتری کے لیے ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہو گا ۔ ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہو گا … نہیں تو ہرن کی رفتار جس قدر بھی تیز ہو جائے… یہ شیر ہمیں دبوچ لیں گے۔ یہ شیر ہمیں دبوچ لیں گے۔


ای پیپر