پشاورمیٹرو اور کپتان کا نمبر ون وزیراعلیٰ
15 May 2019 2019-05-15

ملک میں بڑے پراجیکٹ ایوب خان کے دور میں شروع ہوئے تھے اور پھر میاں محمد نواز شریف جب اس ملک کے وزیراعظم بنے تو بڑے پراجیکٹ جیسا کہ موٹروے وغیرہ شروع ہوئے لیکن ان پراجیکٹس پر عوام کے اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں اور اب موٹرویز سے عوام کو نا صرف فائدہ ہورہا ہے بلکہ وہ موٹرویز جن کا عمران خان مذاق اڑاتا تھے وہ پاکستان کے دفاع میں ایک اہم حیثیت اختیار کر گئے ہیں اور پاکستان کے شاہین ان پر نا صرف اپنے جہاز لینڈ کرتے ہیں بلکہ ری فیولنگ اور اسلحہ سے لیس کرنے جیسے بھی کامیاب تجربات کر چکے ہیں ۔وہ موٹر وے جو کبھی عمران خان کے کنٹینر پر مذاق کا حصہ تھے وہ آج پاکستان کے دفاع کا ایک اہم حصہ بن گئے ہیں ۔وزیراعلیٰ شہباز شریف نے بھی اپنے بھائی کی طرح بڑے منصوبے شروع کئے اور انہوں نے پاکستان میں میٹرو اور اورنج ٹرین جیسے منصوبے متعارف کروائے جن کو انہوں نے نا صرف اپنے دور میں مکمل کروایا بلکہ ان منصوبوں کو دیکھ کر پی ٹی آئی کی سابق صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا میں بھی یہ منصوبہ شروع کیا لیکن انتیس ارب سے شروع کرنے کا دعویٰ اور تمام انفراسٹرکچر انچاس ارب میں مکمل کرنے کے دعوے نا صرف دعوے رہے بلکہ اب یہ منصوبہ ایک کھرب سے زیادہ تک پہنچ گیا ہے جبکہ پشاور کے شہریوں کو اس کے فائدے کے بجائے زیادہ نقصان کا اندیشہ اس لئے ہے کہ حالیہ بارشوں نے میٹرو منصوبے کی پوری قلعی کھول دی ہے ۔

کپتان صاحب نے سابقہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو نمبر ون وزیراعلیٰ قرار دیا تھا لیکن پشاور کے میٹرو سے اندازہ ہو گیا ہے کہ پرویز خٹک نمبر ون وزیراعلیٰ نہیں تھے بلکہ کپتان صاحب نے جو ش خطابت میں کہا تھا کیونکہ پشاورمیٹرو کی تخمینہ لاگت 49ارب سے بڑھ کر تقریباً ایک کھرب تک پہنچ گئی ہے اور ملک کے نمبرون سابق وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف جنہوں نے لاہو ر میٹرو کو گیارہ ماہ کی قلیل مدت میں 29ارب میں مکمل کیا ۔ملتان میٹرو کو سولہ ماہ میں 28ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جبکہ اسلام آباد اور پنڈی میٹرو کو 33ارب روپے کی لاگت سے سولہ ماہ میں مکمل کر دکھایا ۔تینوں میٹروز کو تقریباً 90ارب روپے میں مکمل کیا۔ کپتان صاحب آپ جنہیں نمبر ون وزیراعلیٰ کہتے تھے یعنی پرویز خٹک نے پشاور بی آر ٹی ستائیس کلو میٹر 19اکتوبر 2017ء کو افتتاح کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ چھ ماہ میں مکمل ہو گی لیکن ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ڈیزائن میں کئی بار تبدیلیاں کی گئیں اور کپتان کے دوسرے نمبر ون وزیراعلیٰ محمود خان نے اس منصوبے کو 23مارچ 2019ء کو مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ 23مارچ کو منصوبہ مکمل نہ ہوا توذمہ داروں کے خلاف کارروائی کروں گا لیکن 23مارچ بھی گزر گیا اور نہ منصوبہ مکمل ہوا اور نہ ہی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ۔پشاور میٹرو کا تیس سے میں اسٹیشن بھی مکمل نہیں ہوا اور نہ ٹرانسپورٹ انٹیلی جنس نظام نصب ہو سکا ہے جبکہ عملے کی تعیناتی بھی نہیں ہو سکی ہے ۔عملے کی تربیت کے لئے کسی ادارے کی خدمات حاصل نہیں کی گئیں ۔220بسوں میں محکمہ ٹرانسپورٹ کو صرف 20بسیں حوالے کی گئیں جبکہ منصوبے کے لئے 220بسوں کی ضرورت ہے ۔

خیبرپختونخوا پسماندہ صوبہ ہے اور عوام پر 39 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیاگیا ہے جبکہ خادم اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ملتان بی آر ٹی کو اٹھائیس ارب روپے میں مکمل کیا تھا ۔ کپتان صاحب صبح و شام کرپشن کے خاتمے کی باتیں کرتے ہیں لیکن پشاور بی آر ٹی میں صوبے کے غریب عوام کی ستائیس ارب روپے کی خطیر رقم ضائع کی گئی ان ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کب عمل میں لائیں گے ۔پشاور کی تاجر برادری کا کاروبار تباہ ہو چکا ہے ۔جی ٹی روڈ اور یونیورسٹی روڈ کے تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے اور پشاور کی مختلف جگہوں پر بینرز آویزاں کئے گئے ہیں کہ ہمیں بی آر ٹی نہیں کاروبار چاہیے ۔اربوں روپے کا کاروبار کرنے والے تاجر قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے ہیں اور کاروبار صرف پچیس فیصد رہ گیا ہے ۔ماہرین نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ بی آر ٹی کی تکمیل کے بعد بھی پشاور میں ٹریفک کا نظام مزید گھمبیر ہو جائے گا کیونکہ جی ٹی روڈ اور یونیورسٹی روڈ کو کشادہ نہیں کیاگیا جس کی وجہ سے ٹریفک جام رہے گی ۔موجودہ حکومت کے پاس کوئی منصوبہ بندی نہیں اور اہلیت و تجربے کا فقدان ہے ۔نوے دن میں کرپشن کا خاتمہ کرنے والوں کے آٹھ ماہ اقتدار میں ہو گئے لیکن کرپشن ختم نہیں کی گئی ۔دنیا میں پاکستان کی واحد وفاقی کابینہ ہے جس میں نیب زدوں اور قرضے معاف کرنے والوں کو وفاقی وزیر بنادیاگیا ہے ۔ایک طرف کرپشن کے نام پر عوام کو بیوقوف بنایا جارہا ہے لیکن جب کپتان کی آدھی کابینہ کرپٹ ہو ۔کرپشن کیسے ختم ہو گی ۔پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخوا میں ایسے وزرائے اعلیٰ بنائے گئے ہیں جو صوبے چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ناتجربہ کار ہیں اور نقصان صوبے کے عوام کو ہورہا ہے ۔ترقیاتی بجٹ بند پڑے ہیں ۔ کپتان صاحب نے الیکشن سے پہلے اعلان کیا تھا کہ میرے پاس دو سو بہترین لوگوں کی ٹیم ہے ۔حکومت میں وہ دو سو بہترین لوگ کہاں گئے ۔موجودہ حکومت میں دو بہترین لوگ بھی نہیں ہیں ۔آٹھ ماہ میں حکومت نے جتنے قرضے لئے ہیں ملک کی تاریخ میں کسی بھی حکومت نے اتنے قلیل عرصے میں اتنے قرضے نہیں لئے ۔آٹھ ماہ میں نئے نوٹ چھاپنے کا ریکارڈ بھی موجودہ حکومت نے قائم کیا ۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح پانچ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور رواں مالی سال مہنگائی کی شرح مزید بڑھے گی ۔


ای پیپر