رمضان بازار سے براہ راست
15 May 2019 2019-05-15

آئی ایم ایف نے چھ ارب ڈالر کا پیکج منظور کر لیا جو حکمرانوں کو تین برس میںملے گا جبکہ عوام پر سات سو ارب کے اضافی ٹیکس اسی بجٹ میں لگا دئیے جائیں گے۔ میں نے گلشن راوی کے سستے رمضان بازار میں داخل ہوتے ہوئے وہاں سکیورٹی اور صفائی کے مناسب انتظامات دیکھے توا چھا لگا۔ بہت دن ہو گئے سرکار رمضان بازاروں میں اربوں روپوں کی سب سڈی کا ڈھول پیٹے جا رہی ہے ،صارفین کی شکایات پر یہ دیکھنا ضروری ہو گیا تھا کہ یہ سب سڈی کہاں جا رہی ہے۔ اب تک وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سمیت جتنے بھی ذمے داروں کے بیانات سامنے آئے ہیں ان میں اربوں روپوں کا ذکر ہے مگر یہ کتنے ارب اور کتنے کروڑ ہیں، اس بارے کچھ علم نہیں، میں نے دُعا کی، اللہ تعالیٰ ہمیں مزید کسی سکینڈل سے محفوظ رکھے، آمین کہا اور دونوں ہاتھ منہ پر پھیر لئے تاکہ پسینہ بھی صاف ہوجائے۔ میں نے پوچھا کہ پچھلے دور میں توکنوپیوں اور شادی ہالوں میں ائیرکنڈیشنڈ سستے رمضان بازار لگتے تھے، جواب ملا کہ گلشن راوی میں نہیں، میں نے کہا کہ جو رمضان بازار شادی ہالوں میں نہیں تھے وہاں چِلرز لگائے گئے تھے تاکہ گرمی نہ ہو ، جواب ملا کہ اس مرتبہ یہ فضول خرچی نہیں کی گئی۔ مجھے حیرت ہوئی کہ عام آدمی جہاں خریداری کے لئے آ رہا ہے اگر اسے ٹھنڈی ہوا مل جائے گی تو یہ فضول خرچی ہے، کیا یہ حق بڑے بڑے شاپنگ مالز میں برینڈز کی شاپنگ کرنے والوں کا ہی ہے اور فیصلہ کرنے والوں کے اپنے دفتروں میں جو کئی کئی ائیرکنڈیشنر چل رہے ہیں وہ فضول خرچی نہیں ہے؟

یہ جو سب سڈی ہوتی ہے یہ پرویز الٰہی ہو، شہباز شریف ہو یا عثمان بزدار، کوئی بھی حکمران اپنی جیب سے نہیں دیتا، یہ میرے اور آپ کے ٹیکسوں کی کمائی ہوتی ہے، بہترین منصوبہ بندی یہی ہے کہ اسے میری اور آپ کی سہولتوں پر خرچ کیا جائے اور اگر آپ اس منصوبہ بندی میں ناکام ہوجاتے ہیں تو آپ حکمرانی میں ناکام ہیں۔ جیسے میٹرو پر سالانہ بارہ ارب روپے کی سب سڈی عوام کی سہولت ہے مگر جب اسے ختم کرتے ہوئے شوگر ملزمالکان کو ساڑھے اکیس ارب روپے دے دیتے ہیں تو یہ آپ کی ترجیحات کا اظہار ہے۔ رمضان بازار میں لیموں سستے تھے مگر چکن کی قیمت عام مارکیٹ سے کم و بیش بائیس روپے زیادہ تھی۔ مجھے گلشن راوی کے شہریوں نے بتایا کہ کچھ ہی فاصلے پر رستم پارک میں چکن کی دکانوں پر قیمت دو سو دس روپے کلو ہے مگر یہاں دو سو بتیس روپے کلو۔ میرے ساتھ تحریک انصاف کے کارکن بھی تھے ، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ وہاں چھوٹی مرغی فروخت ہو رہی ہے جبکہ یہاںاچھا بڑا خالص چکن۔ اصل بات اس وقت کھلی جب رمضان بازار کے بہادر دکاندار نے کیمرے کے سامنے کہا کہ انہیںمجبور کیا جارہا ہے کہ وہ مخصوص جگہ سے مہنگا چکن خریدکر لائیںاور اگر نہیں لائیں گے تو نہ صرف سٹال کینسل ہوجائے گا بلکہ انہیں مقدمہ درج کر کے گرفتار بھی کر لیا جائے گا۔ دکانداروں نے بتایا کہ گذشتہ دور میں فارم ریٹ سے بھی پانچ روپے کم پر چکن ملتا تھا مگر اب وہ ہول سیل ریٹ سے بھی دس روپے زیادہ پرلارہے ہیں، وہ مارکیٹ ریٹ پر کیسے بیچ سکتے ہیں۔ رمضان بازار کے ایڈمنسٹریٹر نے وضاحت کی کہ برائلر ایسوسی ایشن کے دو دھڑے ہیں اور ایک نے سازش کے تحت عام بازار میں قیمت کم کر دی ہے۔

گلشن راوی کے رمضان بازار میں چیف سیکرٹری،وزیر صنعت اور لاہور کی ڈپٹی کمشنر سمیت بہت سارے فوٹوشوٹ کروا کے جا چکے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے ان تمام لوگو ں سے شکایت نہیں کی، جواب ملا کہ شکایت کی اور ایک دو بندے معطل بھی ہوئے مگر مسئلہ حل نہیں ہوا، یہ معطلیاں محض گونگلوو ں سے مٹی جھاڑنے کے لئے تھیں، گراں فروشی کرانے والے گونگلو وں کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ میں نے اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے فاسد خیالات اور بدگمانیوں پر توبہ کی کہ اگر ان سب کا خود شئیر نہ ہو وتو وہ مہنگی اشیاءکیوں بیچنے دیں چونکہ میراپکا خیال ہے کہ چیف سیکرٹری، وزیر صنعت اور ڈپٹی کمشنر سب کرپشن سے پاک ہیں لہٰذا میں نے زیر لب توبہ توبہ کا ورد شروع کر دیا مگرمعاملہ صرف چکن تک نہیں تھا کہ چینی کے بارے حکم تھا کہ وہ گاہک کو صرف ایک کلو دی جائے اور یہاں پر بھی پیازوں کی طرح ’گوسلو‘ کی پالیسی تھی۔ اب چینی سے پہلے پیازوں کی کہانی سن لیں، ایک ہی اتوار بازار میں پیاز تئیس روپے کلو بھی تھا اور اڑتیس روپے کلو بھی، سستا پیاز ڈیڑھ کلو سے زیادہ نہیں دیا جا رہا ، پوچھا گیا کہ یہ کیا حکمت ہے۔ جواب ملا کہ یہ عوام کو چوائس دی گئی ہے کہ وہ لائن میں لگے بغیر مہنگا جتنا مرضی خرید لیں مگر یہاں وہ مجبور عورت پھٹ پڑی جو سبزی منڈی سے پیاز بیچنے کے لئے لائی تھی اوراس کے سامنے محکمہ زرعی مارکیٹنگ کا سٹال لگا دیا گیا تھا۔ میرے سامنے تربوز کا ریٹ پینتیس روپے لکھا ہوا تھا جس پر مجھے حیرت ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ بازار میں تو پچیس سے تیس روپے عام مل رہا ہے یہاں پینتیس روپے کلو کیوں ہے تو جواب ملا کہ سڑکوں کنارے جو ٹرک اتارے گئے ہیں وہ سب پرانے ہیں جبکہ رمضان بازار کا تربوز فریش ہے۔ انتظامیہ کی اس موقعے پر بس ہو گئی کہ اور ان کا ایک ہرکارہ گاہک بن کے میرے سامنے آیا اور بولا کہ پچیس ، تیس روپے والی باتیں جھوٹی ہیں، وہ چالیس سے پینتالیس روپے خرید کر روزانہ گھر لے جاتا ہے۔ا س سے سوال تھا کہ بھائی اگر تم سڑک سے مہنگا خریدتے ہو تو یہاں رمضان بازار سے سستا خرید کے گھر کیوں نہیں لے جاتے جس کا جواب آئیں بائیں شائیں کے سوا کچھ نہ تھا۔ دہی بھلوں کی پھلکیوں کے بارے بھی بتایا گیا کہ باہر لگی ہوئی پک اپ پر ایک سو تیس روپے کلو مل رہی ہیں جبکہ رمضان بازارکا ریٹ ایک سو ساٹھ روپے کلو ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس میں کیا سائنس ہے تو بتایا گیا کہ یہ خالص بیسن سے بنی ہوئی اعلیٰ معیار کی پھلکیاں ہیں، اب اس کا کیا جواب دیا جائے ؟

بات چینی کی ہو رہی ہے کہ لوگ پچپن روپے کلو خرید بھی رہے ہیں اور چیخیں بھی مار رہے ہیں لیکن اگر آپ ا ن کی بات سنیں تو وہ منطقی ہے۔ وہ کہتے ہیںکہ بازار میں کچھ عرصہ پہلے عام ریٹ ہی باون سے پچپن روپے کلو تھا مگر رمضان سے پہلے اسے خاص طور پر مہنگا کیا گیا اور اب سب سڈی دے کر پچپن روپے کلو رمضان بازاروں میں اس طرح دی جا ر ہی ہے کہ کسی کو بھی ایک کلو سے زیادہ خریدنے کی اجازت نہیں جبکہ گذشتہ دور میں دوکلو دی جا رہی تھی۔اب ہر روز پیاز کی طرح چینی کی بھی لائن میں لگنا پڑتا ہے۔ یہاں بھی انتظامیہ کا شکوہ تھا کہ ’کرپٹ‘ لوگ یہاں سے سستی چینی خرید کر باہر لے جا کرمہنگی بیچ رہے ہیں کیونکہ اس وقت اکبری منڈی میں بھی چینی کا ریٹ چھیاسٹھ روپوں سے زائد ہے اور چونکہ موجودہ حکومت کا فلیگ شپ سلوگن ہی کرپشن کا خاتمہ ہے لہٰذا اس نے چینی کے سٹال پر لائنین لگوا کے کرپٹوں کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔میرا بھی یہی خیال ہے کہ عام آدمی کرپٹ ہو چکا ہے، وہ روزانہ دو روٹیاں کھا رہا ہے اور جو اس دور میں بھی دو کلو چینی خریدنے کی ہمت اور استطاعت رکھتا ہے اس کی چیخیں ضرور نکلنی چاہئیں۔


ای پیپر