Photo Credit Yahoo

نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کے بعد انٹرویو کرنے والے صحافی نے خاموشی توڑ دی
15 مئی 2018 (20:11) 2018-05-15

لاہور :ایک بیان یا ایک انٹرویو نواز شریف ان کی پارٹی اور سیاست کو کس سمت لے کر جا سکتی ہے شاید اس سے متعلق کچھ کہنا قبل ازوقت ہو گا ۔ نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان نے سابق وزیر اعظم کیلئے نئی مشکلات کھڑی کر دیں ،ڈان لیکس کے معاملے پر شہرت پانے والے صحافی سر ل المیڈا ایک دفعہ پھر خبروں کی زینت بن گئے اور اس دفعہ ان کی شہرت پاک و ہند مطلب سرحد کے دونوں پار کچھ زیادہ ہی ہے ۔نوا زشریف کا یہ انٹرویو پری پلان تھا یا اس کی اصل حقیقت کیا تھی سر ل المیڈا نے خاموشی توڑ دی ۔


سابق وزیراعظم نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان اور قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد ان کا انٹرویو کرنے والے صحافی سرل المیڈا بھی میدان میں آ گئے ہیں۔سرل المیڈا نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ”جنوبی پنجاب سے متعلق ایک خبر کی تلاش کیلئے ملتان میں تھا جب پتہ چلا کہ نواز شریف کا جلسہ ہے اور انٹرویو کے لئے ان کے پاس گیا۔ وہ بات کرنا اور سننا چاہتے ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ میں وہاں موجود تھا۔“

نواز شریف کا حالیہ انٹرویو کرنے والے صحافی سیرل المیڈا کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں سے متعلق بیان سن کر ہکا بکا رہ گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے سابق اور نااہل وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے انگریزی اخبار کو ایک خصوصی اور متنازعہ انٹرویو دیا گیا تھا۔ اس انٹرویو نے پاکستان کی سیاست میں خاصی ہلچل مچائی، جبکہ کئی اداروں کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے انگریزی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے ممبئی حملوں کا الزام پاکستان پر ہی دھر دیا۔ سابق اور نااہل قرار دیے گئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کے کہ کیا غیر ریاستی عناصر کو بھارت جا کر ممبئی حملے کرنے کی اجازت دی جانی چاہیئے تھی۔ نواز شریف نے اپنے بیان میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ممبئی حملوں میں ملوث دہشت گرد ناصرف پاکستانی تھے، بلکہ انہیں پاکستان سے مدد بھی فراہم کی گئی تھی۔


نواز شریف کے اس بیان کے بعد جہاں دیگر اداروں اور سیاسی جماعتوں نے سخت ردعمل دیا، وہیں عسکری قیادت کی جانب سے بھی اس حوالے سے شدید ردعمل دیا گیا۔ عسکری قیادت نے قومی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ نواز شریف کے اس انٹرویو کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ یہ انٹرویو اسی صحافی کو دیا گیا جس کی جانب سے ڈان لیکس والی خبر شائع کی گئی تھی۔ نواز شریف سے لیے گئے انٹرویو کے متعلق اب سیرل المیڈا نے خاموشی توڑتے ہوئے وضاحتی بیانات جاری کیے ہیں۔


سیرل المیڈا کا کہنا ہے نواز شریف سے لیا گیا انٹرویو ریکارڈڈ ہے۔ میاں صاحب نے جو کچھ بھی کہا، وہ سب ریکارڈ بھی کیا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم نے جو کچھ کہا، وہ سب کچھ خود کہنا چاہتے تھے۔ ان کا بیان سننے کے بعد واضح لگا کہ اب انتخابات ہی ںہیں بلکہ اور بھی بہت کچھ بدلنے والا ہے۔ صحافی سیرل المیڈا کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نے جب نواز شریف کا ممبئی حملوں سے متعلق بیان سنا تو وہ خود بھی ہکا بکا رہ گئے تھے۔

سیرل المیڈا کا مزید کہنا ہے کہ انہیں انٹرویو کا موقع ملنا قطعی اتفاق تھا۔ وہ پہلے سے ہی جنوبی پنجاب سے متعلق خبر کے سلسلے میں ملتان میں موجود تھے۔ جب انہیں میاں نوازشریف کے جلسے کا علم ہوا تو وہ انٹرویو کرنے کے لیے ان کے پاس چلے گئے۔ سرل المیڈا کے مطابق میاں نوازشریف یہ سب بولنے کے خواہش مند نظر آئے اور وہ چاہتے تھے کہ ان کی یہ باتیں سنی جائیں۔


ای پیپر