Photo Credit Neo Tv

 بدقسمتی ہے حکومت بھی پاکستان کیخلاف بیانیے کا حصہ ہے، فواد چوہدری
15 مئی 2018 (19:27)

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 5کے تحت کسی بھی شخص کی پہلی وفاداری ریاست کے ساتھ ہے، نواز شریف کو یہ معلوم نہیں کہ ان کے اثاثے کیسے بنے، ان کے بچوں کے 16اکاﺅنٹس میں 300ارب روپیہ کیسے آیا،البتہ یہ ان کو معلوم ہے کہ ہندوستان میں دہشت گردی کیسے ہوئی؟ نواز شریف نے کارگل کے معاملے پر پاکستان کی پیٹھ پر خنجر گھونپا، نواز شریف کو کارگل کا دکھ ہے، کیا ہمیں سیاہ چن کا دکھ نہیں ، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے اپنا نمک بھی ہلال کرنا چاہتے ہیں, کمال ہے کہ وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی ان کو آرٹیکل 5یاد نہیں،نواز شریف کا بیان پاکستان کو پابندیوں کی طرف لے کر جاتا ہے، کیا یہ ایک محب وطن شخص کر سکتا ہے کہ وہ ریاست پر پابندیوں کےلئے دشمن ملک کا آلہ کار بن جائے۔

منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان پی ٹی آئی فواد چوہدری نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 5کے تحت کسی بھی شخص کی پہلی وفاداری ریاست کے ساتھ ہے، اس لحاظ سے پہلی وفاداری ریاست کے ساتھ ہے چاہے ہم کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، بدقسمتی سے نواز شریف کو یہ معلوم نہیں کہ ان کے اثاثے کیسے بنے، ان کے بچوں کے 16اکاﺅنٹس میں 300ارب روپیہ کیسے آیا،انہوں نے ایون فیلڈ میں پراپرٹی کیسے خریدی، یہ ان کو معلوم نہیں ہے، البتہ یہ ان کو معلوم ہے کہ ہندوستان میں دہشت گردی کیسے ہوئی؟۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اس سے پہلے بھی یہ باتیں کر چکے ہیں، سہیل وڑائچ نے اپنی کتاب غدار کون میں لکھا ہے کہ 1993میں جب نواز شریف وزیراعظم تھے تو انہوں نے کہا کہ ممبئی حملے پاکستان نے کروائے،ان فقروں کو بعد میں ہٹوا دیا گیا، نواز شریف نے کارگل کے معاملے پر پاکستان کی پیٹھ پر خنجر گھونپا، نواز شریف کو کارگل کا دکھ ہے، کیا ہمیں سیاہ چن کا دکھ نہیں ہے، کیا یہ ہمارا علاق نہیں تھا جہاں ہندوستان رات کو آ کر بیٹھ گیا تھا، کارگل آپریشن کی منظوری خود نواز شریف نے دی تھی، انڈین حاضر سروس آفیسر کلبھوشن یادیو پاکستان میں پکڑا گیا، اگر پاکستان کا حاضر سروس آفیسر ہندوستان میں پکڑا جاتا تو کیا ہندوستان کا وہی رد عمل ہوتا جو نواز شریف کا ہے،کلھبوشن کراچی میں شیعہ سنی فساد پلان کر ہا تھا، کلبھوشن کوئٹہ میں (بی ایل اے) کو اسلحہ کی فراہمی میں ملوث تھا، کلبھوشن کے پاکستان ایران بارڈر پر اسلحہ سپلائی کا نیٹ ورک بنا رکھا تھا، یہ نیٹ ورک کراچی تک پھیلا ہوا تھا لیکن نواز شریف اب بھی کلبھوشن کو دہشت گرد قرار دینے کو تیار نہیں ہے، نواز شریف کلبھوشن یادیو کو جاسوس کہتے ہیں ہیں دہشت گرد نہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان اپنی پریس کانفرنس میں مطالبہ کر چکے ہیں کہ نواز شریف کے بچوں کے کاروبار ی تعلق کی تحقیقات ہونی چاہیے، نواز شریف بھارتی لابی کے ساتھ اتنے جڑے کیوں ہوئے ہیں، نیب کی جانب سے نواز شریف کو نوٹس دیا گیا کہ انہوں نے پیسے ہندوستان بھیجے، ہمیں معلوم نہیں ہے کہ نوٹس درست ہے کہ نہیں، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے اپنا نمک بھی ہلال کرنا چاہتے ہیں، کمال ہے کہ وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی ان کو آرٹیکل 5یاد نہیں، شاہد خاقان عباسی ریاست سے زیادہ خود کو نواز شریف کا وفادار ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، حالانکہ شاہد خاقان عباسی کو عزت پاکستان کی ریاست نے دی ہے، نواز شریف کو بھی عزت پاکستان کی ریاست نے دی ہے، نواز شریف 3مرتبہ وزیراعظم رہے اور وہ چار سال وزیراعظم کے ساتھ وزیر خارجہ بھی رہے، جب کرپشن کے الزام میں اترے تو یہ کہیں کہ کمیشن بنایا جائے، اس کا مطلب ہے کہ وہ یا تو بہت نااہل ہیں یا وہ معاملات کو کہیں اور لے جانا چاہتے ہیں.

ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ نواز شریف پانامہ پیپرز کے نتیجے کو سبوتاژ کر نا چاہتے ہیں، پانامہ پیپرز کا نتیجہ آنے والا ہے، نواز شریف چاہتے ہیں کہ پاکستان عالمی طاقتوں سے مڈھ بھیڑ میں پڑ جائے اور اس ساری لڑائی میں نواز شریف کا مقدمہ پیچھے چلا جائے، نواز شریف نے وہی بات کی جو حسین حقانی اور لیزا کرکٹس کی رپورٹ میں کی گئی، نواز شریف کا بیان پاکستان کو پابندیوں کی طرف لے کر جاتا ہے، کیا یہ ایک محب وطن شخص کر سکتا ہے کہ وہ ریاست پر پابندیوں کےلئے دشمن ملک کا آلہ کار بن جائے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ میں نواز شریف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ 5سال سوئے رہے، نواز شریف 3مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم بنے، نواز شریف سب سے زیادہ اقتدار میں رہے، اگر 20سے 25 سال میں پاکستان میں کوئی ایشو رہے تو نواز شریف اس کے براہ راست ذمہ دار ہیں چاہے وہ خارجہ معاملات ہوں یا اندورنی معاملات ہوں، اس وقت یہ قصہ چھیڑ کر نواز شریف نے ملک دشمنی کی ہے، تحریک انصاف نواز شریف کے کمیشن کا معاملہ مسترد کرتی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ دوبارہ ہونی چاہیے اور اس میں وہ راست اقدامات اٹھانے چاہئیں جو پاکستان کے عوام پوچھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ڈان لیکس کی بھی کنفرمیشن کی ہے اور نواز شریف کی ہندوستان کے بارے میں جو پالیسی رہی ہے وہ تحقیقات کا تقاضا کرتی ہے، نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے نواز شریف کا بیان صرف ریجیکٹ کرنا کافی نہیں ہے، نواز شریف نے سازش کے تحت بیان دیا، غیر ریاستی عناصر کہیں جاتے ہیں تو پاکستانی قرار نہیں دیئے جاتے، نواز شریف نے ریاست اور اداروں کو وہی کہا جو بھارت کہتا رہتا ہے۔


ای پیپر