ریاستی اداروں میں طاقت کا توازن
15 مئی 2018 2018-05-15

پاکستان میں پچھلے ستر برس میں دو طرح کا طرز حکمرانی رہا ہے ایک آمرانہ اور دوسرا جمہوری مگر المیہ یہ ہے کہ جب کوئی آمر آیا تو اس نے جمہوری طریقے سے حکومت کرنا چاہی اور جب کوئی جمہوری طریقے سے منتخب ہوکر آیا تو اس نے آمرانہ طرزِ حکمرانی اپنانے کی کوشش کی جس کی وجہ سےآج تک ارضِ پاک میں کوئی بھی حکمران ملک و قوم کو منزل تو دور کی بات ٗسمت بھی نہ دے سکا اور ملک دن بدن ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف بڑھتا گیا۔ہر حکمران نے قوم کو ذاتی غلام اور اداروں کو ذاتی ملکیت سمجھ کر چلانے کی کوشش کی۔
ہر دورِ حکومت میں اگر کوئی چیز کامن رہی ہے تو وہ اداروں سے اختیارات کے حصول کی جنگ ہے، ہر حکومت اپنے آپ کو مطلق العنان سمجھتی رہی ہے جس کے نتیجے میں کوئی ادارہ بھی پنپ نہیں سکا، اختیارات کی اس رسہ کشی میں ملکی سلامتی تک کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے، اگر آپ کےذہن میں سوال اٹھے کہ اختیارات کی رسہ کشی کا ملکی سلامتی سے کیا تعلق تو جواب یہ ہے کہ ستمبر 2016 میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹرمحمد طاہر القادری نے راولپنڈی میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتےہوئے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف پر الزام لگایا تھا کہ نوازشریف کے اقتدار کی جنگ بھارت لڑ رہا ہے کیونکہ نواز شریف کا اقتدارمیں رہنا بھارتی عزائم اور مفادات کے حق میں ہے، ڈاکٹر صاحب نےاپنی تقریر میں کچھ دستاویزی ثبوت بھی پیش کئے تھے اور ملکی سلامتی کےاداروں کو مخاطب ہو کر کہا تھا کہ اگر ادارے ان کو بلاتے ہیں تو وہ اپنی کہی ہوئی ایک ایک بات ثابت کریں گے۔
اس کے فوراً بعد اس وقت کے وزیر اطلاعات پرویز رشید نے ڈاکٹر طاہرالقادری کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کیا مگر آج کے دن تک وہ صرف اعلان ہی ثابت ہوا، افسوس ناک امر یہ ہے کہ قومی سلامتی کےاداروں نے صرف اس ڈر سے کہ ان پر اختیارات سے تجاوز کا الزام نہ لگے نہ تو ڈاکٹر طاہر القادری کو ثبوت پیش کرنے کی زحمت دی اور نہ نوازشریف سے کوئی پوچھ گچھ کی جس کے نتیجے میں اگلے ہی ماہ یعنی اکتوبر 2016 میں ڈان لیکس نامی اسکینڈل سامنے آ گیا مگر افسوس صد افسوس ڈان لیکس کو قومی سلامتی پر دراڑ کا نام دینے کے باوجود مصلحت کی نظر کر دیا گیا اورذمہ داروں کو دوبارہ قومی سلامتی پر حملہ کرنے کا موقعہ فراہم کر دیا گیا، اداروں کی اس بے حسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوبارہ اسی صحافی کواستعمال کرتے ہوئے 12 مئی 2018 کو پھر قومی سلامتی پر حملہ کیا گیا ہےاور ڈان لیکس ٹو منظر عام پر آئی ہے اور یہ حملہ پچھلے حملے سے کہیں زیادہ بڑا حملہ ہے، جبکہ موصوف جس امر کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اپنی وزارت عظمیٰ کے دور میں کیوں اس امر پر خاموش رہے، مگر شاید اس باربھی قومی ادارے کسی نہ کسی مصلحت کو جوازبنا لیں۔
دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں پارلیمنٹ، عدلیہ اور آرمی ہوتی ہے مگرسوائے پاکستان کے یہ مسئلہ کہیں بھی درپیش نہیں کیونکہ ہر ادارہ اپنےبنائے ہوئے آئین اور قانون پر مکمل عملدرآمد کرتا ہے چاہے وہ عمل کسی پارلیمنٹ ممبر کے خلاف ہو، کسی عدلیہ یا کسی فوجی کے خلاف یا کسی بھی عام شہری کے خلاف اگر کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اسکو سزا ضرور ملے گی۔

ریاست کے تمام ستون اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں ، جمہوریت اور بادشاہت میں اصل فرق یہی ہے کہ بادشاہت میں جو شخص صاحب اقتدار ہوتا ہے وہی ریاست کے سیاہ وسفید کا مالک ہوتا ہے جبکہ جمہوریت میں کوئی فرد نہیں بلکہ ریاست کا آئین اور قانون سب پر فوقیت رکھتا ہے، ادارے تمام تر طاقت کے ساتھاپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں قانون سب کے لئے برابر ہوتا ہے اوراختیارات نچلی سطح تک منتقل کئے جاتے ہیں نہ کہ ووٹ کو جواز بنا کرصرف ایک شخص کو پوری ریاست اور جمہوریت سمجھا جاتا ہے، اگرریاست کا ہر ستون اپنی حدود میں رہ کر کام کرے اور آئین و قانون پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے تو طاقت کا توازن بھی برقرار رہتا ہے اور ریاست ہر شعبےمیں ترقی کی منزلیں طے کرتی جاتی ہے، آج ملک پاکستان کو بھی اسی طرزعمل کی ضرورت ہے۔

سلطان محمود

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)


ای پیپر