ماں تیری عظمتوں کو سلام !

15 مئی 2018

توفیق بٹ

اگلے روز ”ماں“ کا عالمی دن منایا گیا، میں کہیں پڑھ رہا تھا ” ایک بار حضرت موسیٰؑ نے اللہ سے پوچھا ”جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا ؟“....اللہ نے فرمایا ”فلاں شہر کا فلاں قصاب جنت میں تیرا ہمسایہ ہوگا“.... حضرت موسیٰؑ حیران ہوئے وہ قصاب ایسا کون سا عمل کرتا ہوگا جو اللہ اُسے اتنا بڑا رتبہ عطا فرما رہے ہیں ؟“ .... حضرت موسیٰ ؑ اِک روز اُس شہر میں گئے، قصاب کو تلاش کیا اور دِن بھر خاموشی سے دیکھتے رہے آخر وہ قصاب کون سا ایسا عمل کرتا ہے جس پر اللہ اُسے جنت میں میرا ہمسایہ ہونے کا شرف بخش رہے ہیں، آپؑ نے دیکھا وہ قصاب دن بھر گوشت بیچتا رہا، گوشت کا ایک ٹکڑا اُس نے الگ سے رکھا ہوا تھا، شام ہوئی اُس نے وہ ٹکڑا تھیلے میں ڈالا اور وہاں سے رخصت ہوگیا، آپؑ اُس کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ وہ قصاب جب اپنے گھر داخل ہونے لگا آپؑ نے اُسے روک لیا اور کہا ”میں آج تمہارا مہمان بننا چاہتا ہوں “....قصاب کو کچھ خبر نہیں تھی آپؑ کون ہیں؟ وہ آپؑ کو اپنے ساتھ گھر کے اندر لے گیا۔ آپؑ نے دیکھا اُس قصاب نے گوشت کا وہ ٹکڑا تھیلے سے نکالا، اُسے اچھی طرح صاف کیا، پھر اُسے پکنے کے لیے رکھ دیا۔ جب گوشت پک گیا وہ اُسے گھر کے صحن میں ایک چارپائی پر لیٹی ایک بوڑھی عورت کے پاس لے گیا۔ اُس نے اُس عورت کو بڑے پیار سے چارپائی سے اُٹھایا، پہلے اُسے پانی پلایا پھر گوشت اُسے کھلانا شروع کردیا، بوڑھی عورت گوشت کھا کر فارغ ہوئی اُس نے قصاب کے کان میں کچھ کہا جسے سُن کر قصاب مسکرادیا، اُس کے بعد اُس نے اُس بوڑھی عورت کا بستر وغیرہ ٹھیک کیا اور اُسے لیٹا دیا۔ اُس نے حضرت موسیٰؑ کو کھانا کھلایا ، کھانا کھانے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ نے اُس سے پوچھا چارپائی پر لیٹی ہوئی بوڑھی عورت کون ہے اور کھانا کھانے کے بعد اُس نے تمہارے کان میں کیا کہا ہے ؟“.... قصاب بولا ”وہ میری ماں ہے ، بہت سادہ عورت ہے، میں جب بھی اُسے کھانا کھلاتا ہوں وہ میرے کان میں یہ دعا دیتی ہے ”یا اللہ میرے بیٹے کو جنت میں اپنے نبی موسیٰ ؑکا ہمسایہ بنانا “.... جس پر میں مسکرا دیتا ہوں کہ کہاں میں معمولی قصاب اور کہاں حضرت موسیٰؑ....اللہ کے برگزیدہ نبی ....اِس پر حضرت موسیٰؑ نے قصاب کو بتایا ” میں موسیٰؑ ہوں اور مجھے اللہ نے بتایا ہے فلاں قصاب جنت میں تمہارا ہمسایہ ہوگا، اِس لیے تم سے ملنے چلے آیا “ ....ماں کی عظمت کا ایک اور واقعہ سن لیں ....امریکہ ییلوسٹون نیشنل پارک میں ایک بار ایسی آگ بھڑکی ہرشے کو جلا کر بھسم کردیا، اگلے روز آگ بجھی تو ایک ریسرچ ٹیم وہاں آئی۔ اُس ٹیم کے ایک رُکن نے ایک بہت بڑے جلے ہوئے درخت کے تنے کے نیچے دیکھا ایک مری ہوئی چڑیا پڑی تھی جو مکمل طورپر جل چکی تھی۔ ٹیم جلی ہوئی چڑیا دیکھ کر بڑی حیران ہوئی کیونکہ عموماً پرندے آگ کا نشانہ نہیں بنتے، وہ ذرا سی آگ اور دھواں دیکھ کر فوراً اُڑجاتے ہیں۔ریسرچ ٹیم کے ایک رُکن نے ایک ڈنڈی سے اُس جلی ہوئی چڑیا کو ایک طرف سرکایا تو اُس کے نیچے سے اُس کے تین چھوٹے چھوٹے بچے نکلے جو جلنے سے بچ گئے تھے۔ بچے چونکہ اُڑ نہیں سکتے تھے لہٰذا وہ چڑیا اُنہیں آگ سے بچانے کے لیے اپنے پرپھیلا کر اُن کے اُوپر بیٹھ گئی،....اِس چڑیا کی جلی ہوئی باڈی نیشنل جیوگرافک کی ایک ڈاکومنٹری میں بھی دکھائی گئی۔ اِس ڈاکومنٹری کے ذریعے اصل میں دنیا کو ایک پیغام دینا مقصود تھا ماں کیا چیز ہوتی ہے،....ایسا ہی ایک واقعہ مجھے بھی یاد ہے۔ بہت برس قبل ہم لاہور کے ایک علاقے حبیب اللہ روڈ پر رہتے تھے۔ ہمارے گھر کے ساتھ ایک خالی پلاٹ تھا، جس پر محلے کی مرغیوں نے قبضہ کررکھا تھا۔ ایک روز میں چھت پر کھڑا تھا۔ میں نے دیکھا ایک مرغی اپنے چوزوں کے ساتھ اِدھر اُدھر سے اپنا رزق تلاش کررہی تھی، اِس دوران ایک چیل آئی اور اُس کا ایک چوزہ پنجوں میں دبا کر اُڑ گئی، مرغی شورمچاتے ہوئے اُس کے پیچھے اِس طرح اُڑی جیسے وہ مرغی نہیں خود چیل ہو، میں مرغی کی اُڑان کی اُس حد پر بڑا حیران ہوا۔ تب میں نے سوچا اصل میں یہ مرغی نہیں ”ماں“ اُڑی تھی، چیل سے اپنا چوزہ وہ واپس نہ لاسکی۔ پھر پلاٹ میں واپس آکر وہ اِدھر اُدھر بھاگتی رہی اور چیخ و پکار کرتی رہی، اُس کے بعد خاموشی سے اپنے باقی چوزوں کو لے کر ایک کونے میں بیٹھ گئی ....میرا ایک دوست بتارہا تھا وہ جب بہت چھوٹا تھا اُس کے باپ کا انتقال ہوگیا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا ”میری ماں بہت جھوٹ بولتی تھی “ ....میں نے اُسے ڈانٹا ، میں نے اُس سے کہا ”ماں کے عیب بیان نہیں کرتے“ .... وہ کہنے لگا ” میں ماں کے عیب نہیں اُس کی عظمت بیان کرتا ہوں“.... پھر اُس نے مجھے اپنی کہانی سنائی کہ اپنی ماں کا اکلوٹا بیٹا تھا، ہم بہت غریب تھے، باپ کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد ہمار اکوئی مالی سہارا نہیں تھا، ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا۔ جس روز کچھ مِل جاتا ماں مجھے دے دیتی۔ میں کہتا ”ماں تم بھی کھالو“۔ وہ کہتی ”مجھے بھوک نہیں ہے“۔ وہ مجھ سے جھوٹ بولتی تھی، ایک روز میرا آٹھویں کا فائنل پیپر تھا، اُس روز بڑی گرمی تھی۔ ماں نے ضد کی وہ بھی میرے ساتھ جائے گی۔ میں اندر پیپر دے رہا تھا، وہ باہر دعائیں کررہی تھی، میں امتحان دے کر باہر آیا وہ پسینے سے شرابورتھی۔ اُس کے ہاتھ میں جوس کا ایک پیکٹ تھا۔ وہ اُس نے میرے لیے خریدا تھا۔ میںنے ایک گھونٹ پی کر اُس سے کہا ”ماں تم بھی پیو“۔ ....اُس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا، وہ بولی ” مجھے پیاس نہیں ہے“.... ماں مجھ سے جھوٹ بول رہی تھی، جب میں نے تعلیم مکمل کی مجھے ایک کمپنی میں ملازمت مِل گئی۔ ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی، ملازمت مِلنے کے بعد ماں سے میں نے کہا ”اب تم کام نہیں کرو گی“ .... میری پہلی تنخواہ آئی۔ میں نے اُس میں سے کچھ رقم ماں کو دی۔ ماں نے کہا ”مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے“۔ میں جانتا تھا ماں مجھ سے جھوٹ بول رہی ہے۔ پھر ماں بہت بوڑھی ہوگئی، اُس کے سارے بال سفید ہوگئے۔ کمزوری بڑھتی چلی گئی۔ وہ بیمار ہوگئی، میں نے کہا ” ماں چل تجھے ڈاکٹر کے پاس لے جاﺅں“۔ وہ بولی ” میں بالکل ٹھیک ہوں، مجھے کیا ہوا ہے ؟؟؟“.... وہ بالکل ٹھیک نہیں تھی۔ وہ مجھ سے جھوٹ بول رہی تھی، اس دوران میرا تبادلہ دوسرے شہر ہوگیا، میں اُسے بیماری کی حالت میں اکیلے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتاتھا ، میں نے بہت کوشش کی پر تبادلہ نہ رُک سکا، مجبوراً مجھے جانا پڑا، میں اکثر ماں کو خط لکھتا۔ اُس سے اُس کا حال پوچھتا۔ وہ ہر بار جواب میں یہی لکھتی ” میں بالکل ٹھیک ہوں“،.... چھ ماہ کے بعد ایک روز چھٹی پر میں گھر آیا۔ پتہ چلا ماں کو کینسر ہوگیا ہے، وہ بہت کمزور ہوچکی تھی۔ بس ہڈیوں کا ڈھانچہ ہی رہ گیا تھا۔ مجھ سے اُس کی حالت دیکھی نہ گئی۔ میرا دِل خون کے آنسو رونے لگا، میں اُس کی چارپائی کے سرہانے کھڑاتھا۔ اُس نے مجھے روتے ہوئے دیکھا اور یہ کہہ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرلیں کہ ”بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں“....یہ میری ماں کا آخری جھوٹ تھا !

مزیدخبریں