میر صادق کا راستہ۔۔۔۔
15 مئی 2018 2018-05-15

جسے صادق اور امین قرار نہیں دیا گیا وہ میر صادق بننے کے راستے پر چل نکلا ہے، کیا حسین” حسن اتفاق“ ہے کہ سیرل المیڈا اور ان کا اخبار اسی نوع کی ایک خبر پر پہلے بھی خبروں میں آئے اور اب پھر وہی اخبار اور اس کا نمائندہ ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہیں۔ نیشنل سیکورٹی کونسل کے اجلاس کی سربراہی کرنے والے وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے جو کہ ریاست کے چیف ایگزیکٹو ہیں ، نیشنل سیکورٹی کونسل کے اجلاس کے بعد جاری شدہ وزیراعظم ہاﺅس کے اعلامیہ میں جو مشترکہ طور پر طے شدہ امور تھے ان کو اپنی الگ سے کی گئی پریس کانفرنس میں ایک مرتبہ پھر جھٹلا دیا ہے۔ بہت افسوس ہوا یہ جان کرکہ شاہد خاقان عباسی نے مملکت خداداد کی وزارت عظمیٰ کو اللہ کی مہربانی اور ”جمہور“ کے اعتماد کے بجائے ایک احسان فراموش شخص نواز شریف کی دین سمجھا اور پریس کانفرنس میں انہوں نے ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کی زحمت گوارہ نہیں کی بلکہ وہ ذاتی وفاداری کا ثبوت دینے میں مصروف نظر آئے۔
میرے محبوب قائد کی زبان پر آج تک کلبھوشن یادیو کا نام نہیں آیا لیکن وہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہمیں نان اسٹیٹ ایکٹرز کو سرحد پار کر کے ڈیڑھ سو افراد کے قتل عام کی اجازت دینی چاہیے؟ میاں نواز شریف ایک ”سچے آدمی “ ہیں لیکن بدقسمتی سے ان سے یہ تمام ”سچ“ اقتدار سے رخصتی کے بعد ہی سرزد ہوتے ہیں۔ موصوف بریفنگ میں شرکت کرتے ہیں کارگل کے بعد امریکہ جا کر سیز فائر کراتے ہیں لیکن اقتدار سے باہر نکلتے ہی وہ اس مہم جوئی کا سارا ملبہ پرویز مشرف پر گرا دیتے ہیں، وہ چار سال سے زائد عرصہ وزیراعظم ہے لیکن کبھی انہوں نے یہ سوال سامنے نہیں رکھا کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کس کی اجازت لے کر ڈیڑھ سو افراد کا قتل عام کرتے ہیں، صد افسوس!
کچھ دنوں پہلے انہوں نے دھمکی دی تھی کہ ان کے سینے میں بہت سے راز ہیں، ظاہر ہے تین مرتبہ وزیراعظم اور اس سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب رہے ہیں یقیناً ان کے سینے میں بہت سے راز ہوں گے مثلاً انہیں معلوم ہو گا کہ انہیں پہلے پنجاب کا وزیرخزانہ اور پھر وزیراعلیٰ کس نے اور کیوں بنایا تھا؟ انہیں یہ بھی معلوم ہو گا کہ آئی جے آئی کے قیام کا فیصلہ کس نے اور کیوں کیا تھا؟ اس حوالے سے جو رقوم تقسیم کی گئی تھیں وہ کس کو کتنی کتنی موصول ہوئی تھی؟
یہ پرانے سوال ہیں کچھ نئے سوال بھی ہیں میاں صاحب
1:۔ پن بجلی کے منصوبوں کی بریفنگ کے بعد آپ کے ذاتی سٹاف میں موجود اعوان صاحب کس حیثیت میں کمیشن اور کک بیکس طے کرتے تھے؟ آپ یہ بریفنگ جاتی امراءرائے ونڈ میں ہی کیوں لیتے تھے؟
2:۔ سابق وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی یونس ڈاگا اور آپ کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے مابین کن معاملات پر اختلاف ہوئے ؟ اور پھر اس وفاقی سیکرٹری کا تبادلہ کیوں کیا گیا؟
3:۔ فواد حسن فواد نے راولپنڈی صدر میں ارب روپے سے زائد مالیت کا پلازہ کس طرح سے اپنی بیوی کے نام حاصل کیا؟
4:۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کون کرتا رہا ہے؟ گلگت بلتستان میں فرقہ ورانہ اور فاٹا و دیگر علاقوں میں پختون حقوق کے نام پر افواج پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کون کراتا ہے؟
5:۔ محمود اچکزئی ، ایم کیو ایم اور اے این پی کے ساتھ آپ کی قدر مشترک کیا ہے؟
خدا واسطے کوئی میرے راہبروں کو بتائے کہ عزت دوسروں کو بدنام کرنے یا برا کہنے سے نہیں ملتی عزت آپ اپنے افعال کے ذریعے دوسروں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں، دنیا کی کسی بڑی یا مضبوط جمہوریت میں سربراہ حکومت خود توپ یا ٹینک کے ڈویژن کا مالک نہیں ہوتا وہ اپنے بلند کردار کے ذریعے ٹینکوں اور توپوں والے سے عزت کراتا ہے، اسے جھوٹ بولنے، بے ایمانی کرنے، رشتہ داروں اور جان پہچان کے لوگوں کو عہدے بانٹنے پر عزت نہیں ملتی، وہ کمیشن نہیں کھاتا وہ کمپنیوں پر کمپنیاں نہیں بناتا اور نہ ہی امور مملکت سے قرضے لینے اور قرضے معاف کرانے جیسے کاموں میں پڑتا ہے۔
میاں نواز شریف میں نے آج تک آپ کو رعائتی نمبر دیئے، مجھے افسوس ہے 2013ءکے انتخابات میں ووٹ بھی دیا، اللہ تعالیٰ مجھے معاف کرے آپ کے نزدیک آپ ہیں تو پاکستان ہے اور اگر آپ نہیں تو خدانخواستہ نہ پاکستان ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کی کوئی اہمیت ہے۔ آج آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ محض ایک خود پسند، نرگیست کے مارے وہ خوش قسمت شخص ہیں جسے قدرت نے ہمارے کردہ ناکردہ گناہوں کی سزا کے طور پر ہمارے سروں پر مسلط کیا تھا۔
فرمان ہے کہ کسی شخص کو دنیا سے نہیں اٹھایا جائے گا جب تک کہ اس کی حقیقت دنیا پر آشکار نہ ہو جائے تو میاں صاحب آپ کی مہربانی کہ آپ نے میری غلط فہمی دور کر دی ، بے شک میرے رب کا وعدہ سچا ہے اور وہ پورا ہو کر رہے گا۔
ممبئی حملہ کیس کے ٹرائل کو منطقی انجام تک پہنچانا ہر حکومت وقت کی ذمہ داری تھی اور میاں صاحب اگر پیپلز پارٹی نے اس ٹرائل کو مکمل نہیں کیا تو آپ کی حکومت بھی ایسا کرنے میں ناکام رہی، ابھی ثاقب بشیر نے پرانے اخبارات میں شائع ہونے والے اسلامی جمہوری اتحاد کے اشتہار کا عکس مجھے بھجوایا ہے کہ ”پاکستان سے غداری اور دشمنوں سے یاری“ کا جو بیانیہ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی سے منسوب کیا گیا تھا وہ آج مسلم لیگ (ن) کے ساتھ چپک کر رہ گیا ہے اسے مکافات عمل کہیے یا کچھ اور کہ آج میاں نواز شریف نے احتساب عدالت کے باہر پھر اپنے بیان کو دہرایا ہے، جس نے پنجاب کے ووٹر کو شدید ناراض کیا اور ابتدائی تجزیہ یہی ہے کہ آئندہ پندرہ سے بیس روز میں مزید انتخابی امیدوار پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ کر جائیں گے، میاں نواز شریف نے اپنے سیاسی مقدر پر آج مہر ثبت کر دی ہے۔ زیادہ افسوس ناک امر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس ہے جس میں وہ وزیراعظم کہیں سے بھی نہیں لگے بلکہ وہ شریف فیملی بلکہ میاں نواز شریف کے ”منشی“ یا ”مالشی“ لگے ہیں، بیس کروڑ سے زائد عوام کے منتخب وزیراعظم کے کردار کی بجائے انہوں نے فرد واحد کی جوتیاں سیدھی کرنے کو ترجیح دی۔ میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار کی سیاست اب ایک فیصلہ کن موڑ پر آ ن کھڑی ہوئی ہے انہیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ مسلم لیگ (ن) ایک سیاسی جماعت ہے یا کسی فرد واحد کے ملازمین پر مشتمل ایک لمیٹڈ کمپنی؟
شاہد خاقان عباسی نے تو آج اداروں کے ایک پیج پر ہونے کا بھرم برسر بازار توڑ دیا ہے، دیکھیئے مری بائیکاٹ سے ادھ موئی ان کے حلقے کی عوام آئندہ انتخابات میں ان سے کیا سلوک کرتی ہے!
میاں نواز شریف مجھے نہیں پتہ افواج پاکستان تمہارے ساتھ ہے یا خلاف لیکن افواج قدرت ختم نبوت ، کرپشن، لوٹ مار کے کلچر کو فروغ دینے، اداروں کو تباہ کرنے اور تکبر کے ساتھ بنی نوع انسان کے ساتھ پیش آنے پر تم سے سخت ناراض ہیں، تقریروں میں ووٹ کی حرمت اور وطن کی خاطر جان دینے والے شخص کی حقیقت صرف یہ ہے کہ وہ اپنی جائیداد کی حرمت اور ٹکے ٹکے پر جان دینے کو تیار ہے، حبیب جالب پہلے ہی کہہ گئے ہیں
خاک میں مل گئے نگینے لوگ
حکمراں بن گئے کمینے لوگ
یا پھر
دس کروڑ انسانو!
زندگی سے بے گانو!
صرف چند لوگوں نے حق تمہارا چھینا ہے
خاک ایسے جینے پر یہ بھی کوئی جینا ہے
بے شعور بھی تم کو بے شعور کہتے ہیں
سوچتا ہوں یہ ناداں کس ہوا میں رہتے ہیں
یہ ملیں ، یہ جاگیریں کس کا خون پیتے ہیں
بیرکوں میں یہ فوجیں کس کے بل پہ جیتی ہیں
کس کی محنتوں کا پھل داشتائیں کھاتی ہیں
جھونپڑوں سے رونے کی کیوں صدائیں آتی ہیں
دس کروڑ انسانو
زندگی سے بے گانو
پس تحریر: کہا جا رہا ہے کہ حکومت کو اب کسی وقت بھی رخصتی کا پروانہ تھمایا جا سکتا ہے مگر میرے نزدیک عصر کے وقت روزہ توڑنے کی تک نہیں بنتی۔ باقی یہ کہ کسی ”عورت“ کی حکومت بھی آنے کی خبریں ہیں۔ واللہ اعلم و بالصواب


ای پیپر