Mushtaq Sohail, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
15 مارچ 2021 (11:47) 2021-03-15

اوپر تلے دو واقعات، جن سے جمہوری سیٹ اپ اپ سیٹ۔ ایک نہیں دو تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے۔ بڑے مقابلے کے لیے بڑے متحرک ہوئے تو تنازعات بھی بڑے بن گئے۔ 6 مارچ بروز ہفتہ وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں 178 اپنوں سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا۔ مخالف باہر کھڑے رہے۔ 10 دن بعد یعنی 12 مارچ کو عددی فوقیت کے باوجود اپوزیشن امیدوار یوسف رضا گیلانی اور عبدالغفور حیدری کو شکست ہوئی جبکہ حکومتی امیدوار صادق سنجرانی اور مرزا محمد آفریدی چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے۔ حکومت نے سینیٹ انتخابات میں 16 ارکان کے انحراف کی دہائی دی تھی پی ڈی ایم 7 سے 10 ’’جادوئی ووٹوں‘‘ کا نوحہ پڑھتی رہی۔ اپوزیشن لیڈروں نے کہا کہ ہمارے 12ارکان کو صبح سے کالیں آرہی تھیں 7 نے کہنا مان لیا کیسے نیک لوگ تھے ریہرسل کے باوجود مہر غلط جگہ پر لگا دی اور ووٹ مسترد کرا بیٹھے۔ بلاول نے ابتدا کی کہ پریزائیڈنگ افسر حکومت کے اتحادی تھے (پہلے معلوم نہیں تھا؟) ووٹ مسترد کرنے کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین نے حلف اٹھا لیے اب بیٹھے ڈھول بجائو۔ جمہوریت کے کارنامے زرداری اپنی ہر ٹرک کو جمہوریت کا حسن کہا کرتے ہیں، جمہوریت کا یہ روپ بد صورت ہے لیکن حکمران جماعتوں کو بڑا ’سوہنا‘ لگتا ہے۔ پہلا تنازع اظہار اعتماد کا ووٹ۔ اندر اظہار اعتماد، نعرے، تالیاں، چہروں پر کھیلتی مسکراہٹیں، مبارکبادیں، وزیر اعظم سے مصافحہ کے لیے ارکان کی بھیڑ، باہر کھلم کھلا عدم اعتماد کا اظہار، دھواں دھار تقریریں، حکومتی پارٹی کے ارکان کا حملہ، ہاتھا پائی، گالم گلوچ، دھینگا مشتی، مصدق ملک نشانہ بنے۔ احسن اقبال  کے سر پر جوتا لگا۔ مریم اورنگزیب سے بد تمیزی، گالیوں تھپڑوں کا تبادلہ مری کے صاف شفاف چشموں کا پانی پینے والے شاہد خاقان عباسی کی للکار ’’میرے سامنے آئو اسٹریچر پر نہ بھیجا تو نام بدل دینا‘‘ کارکن کہاں سے آئے کون لایا۔ کس نے اظہار اعتماد کے لیے سیاست میں تشدد اور دھینگا مشتی کا انوکھا فارمولا ایجاد کیا؟ اندر بیٹھے 178 ارکان کی جانب سے تحقیقات نہ مذمت، شیخ صاحب نے افسوس کا اظہار کیا تاہم کہا کہ اپوزیشن کو اس جگہ پریس کانفرنس نہیں کرنی چاہیے تھی۔ کہاں کرتے؟ پارلیمنٹ کی حدود میں پریس کانفرنس کی اجازت نہیں، عمارت سے باہر ہی بات ہوسکتی تھی۔ دھول دھپا اور دھینگا مشتی کی روایت صدیوں پرانی، غالب کے ساتھ بھی یہ حادثہ رونما ہوا تھا۔ چچا پر حملہ ہوا تو چیخ اٹھے۔ ’’دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیں، ہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیش دستی ایک دن‘‘ اپوزیشن نے پیش دستی نہیں پیش قدمی کی جس پر مریم اورنگزیب کو ٹھڈوں اور مصدق ملک کو تھپڑوں کا سامنا کرنا پڑا ہم بلا سوچے سمجھے صدیوں پرانے دور کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ جس دور میں چچا پر آوازے کسے جاتے تھے یقینا پتھرائو بھی ہوتا ہوگا۔ چچا آوازوں سے پریشان ہوئے۔ ’’یوں پکاریں ہیں مجھے کوچہ جاناں والے، ادھر آ او ابے او چاک گریباں والے‘‘ بڑے متحمل مزاج تھے کہا ’’گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا‘‘ اپوزیشن البتہ بے مزہ ہوگئی۔ معاشرے میں اخلاق یافتہ لوگوں کی اکثریت سدباب کون کرے،’’ گھر کا گھر بیمار ہے کس کس کو دیں تسکین ہم‘‘۔ غیر متوقع حملہ تھا ورنہ پنڈی سے ن لیگی اور کے پی کے سے مدارس کے طلبہ بھی آجاتے تو پانی پت کا معرکہ رونما ہوجاتا۔ خیر گزری کہ اپوزیشن لیڈروں نے ’’قومی مفاد‘‘ میں جوتے تھپڑ کھا لیے۔ مولانا فضل الرحمان نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی دھمکی دی لیکن انہیں پتھر میسر نہ آئے۔ لانگ مارچ کے خطرے کے پیش نظر تمام روڑے پتھر صاف کر دیے گئے ہیں، تحریک کے ایک کارکن نے ٹوئٹ بھیجا۔ ’’سیاست میں تیرے سر کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے۔‘‘ حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیے سر سب کو عزیز ہیں سیانے کہتے ہیں کہ ایسے واقعات سے ملکی سیاست میںبگاڑ بلکہ مزید بگاڑ پیدا ہوگا۔ کشیدگی اور بڑھے گی۔ تدارک نہ کیا گیا تو خونریزی تک نوبت آجائے گی۔ طوفان بد تمیزی سب کچھ بہا لے جائے گا۔ ملک عدم استحکام کا شکار ہوگا۔ مقابلے کی چوٹ ہے۔ فریق ثانی بھی ’’ہم کسی سے کم نہیں‘‘ کا نعرہ بلند 

کرتے ہوئے ڈی چوک کے میدان کارزار میں آدھمکا تو کون سنبھالے گا۔ لا محالہ ایمپائر کو انگلی کھڑی کرنی پڑے گی۔ تب ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے والوں کا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟ اعتماد اور عدم اعتماد کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ یوسف رضا گیلانی کے وفاقی دار الحکومت کی نشست پر کامیابی سے وزیر اعظم کو مایوسی ہوئی۔ پی ٹی آئی 26 ووٹوں کے باوجود اکثریت حاصل نہ کرسکی اس کے مجموعی ووٹ 48 اپوزیشن کے 53 ، صورتحال کو سنبھالنے کے لیے چیئرمین کے الیکشن میں کسر نکال لی گئی۔ اپوزیشن کے 8  ووٹ مسترد کردیے گئے اس طرح صادق سنجرانی 48  ووٹ لے کر چیئرمین منتخب ہوگئے۔ منتخب چیئرمین نے اللہ اور سنیٹروں کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم ’’فرشتوں‘‘ کا ذکر بھول گئے۔ جنہوں نے 8 ووٹروں کے ہاتھوں میں لرزش پیدا کردی۔ کیا یہ بھی ڈیل تھی؟ جس سے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے۔ چیئرمین الیکشن کے فورا بعد داد و تحسین کے نعرے بلند کرتے ترجمان اور معاونین  اسکرینوں پر چھا گئے۔ کہا پی ڈی ایم ہمیشہ کے لیے دفن ہوگئی۔ پتا نہیں سیانے تو کہتے ہیں کہ جمہوریت کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔ سیانوں کو اس بات کا بھی دکھ ہے کہ آپس کے سر پھٹول میں عوامی مسائل نظر انداز کردیے گئے ہیں’’ون ملین ڈالر‘‘ کا سوال کہ حکومت اور اپوزیشن الیکشن الیکشن کھیل رہی ہیں۔ مہنگائی کون روکے گا؟ جواب ندارد، حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ پر غور کے لیے کسی کے پاس فرصت نہیں، پوری حکومتی مشینری رات دن اپوزیشن کو ’’کارنر‘‘ کرنے میں مصروف۔ کوئی مہنگائی پر بات کرنے کو تیار نہیں اکیلے وزیر اعظم نے مہنگائی کے خلاف جہاد کا اعلان کیا جہاد کا چیپٹر 2000ء کے شروع ہی میں نصاب سے خارج کردیا گیا تھا۔ اب جہاد کیسے ہوگا۔ مافیائیں اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ چنانچہ وزیر اعظم کے اعلان کے ساتھ ہی بجلی مہنگی، مرغی کا گوشت 5 سو روپے کلو اور 22 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ ٹھڈے مارنے اور گریبان  پکڑنے والوں کو مہنگائی کی فکر نہیں وہ احمد جاوید کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں کہ ’’اچھی گزر رہی ہے دل خود کفیل سے، لنگر سے روٹی کھاتے ہیں پانی سبیل سے‘‘ طویل موضوع ہے وزیر اعظم نے کہا جس قوم میں اخلاقی معیار نہ ہو وہ کبھی انصاف نہیں کرسکتی۔ ’’نو کمنٹس‘‘ ماضی میں بھی اخلاق سے گری حرکات ہوتی رہیں۔ سیاستدانوں کو برے ناموں سے پکارا گیا۔ لیکن ایسا برا وقت کبھی نہیں آیا کہ سیاستدانوں پر حملے میں ’’ مارمکا مار ٹھڈا مار لات، فاعلاتن فاعلاتن، فاعلات‘‘ کا عملی مظاہرہ کیا جائے، حملہ کرنے والے کارکن بے قصور، گزشتہ چھ سات سالوں سے یہی تربیت دی جا رہی ہے 126 دنوں کے دھرنے میں قومی اسمبلی کی عمارت اور پی ٹی وی کی عمارت پر حملوں سے آغاز ہوا۔ جلائو گھیرائو کی اپیلوں نے اپنا رنگ دکھایا۔ تربیت رائیگاں نہیں جاتی کارکن کھل کھیلے۔ ملکی سیاست میں دھینگا مشتی کے کلچر کا آغاز ہوا جواب بلا خوف و خطرپروان چڑھ رہا ہے۔ جو ہوا برا ہوا ایک اینکر پرسن نے بڑے دکھ سے کہا کہ اس وقت سے ڈرنا چاہیے جب اقتدار رخصت ہوگا تو کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ برے حالات سے سب کو بچائے۔

باہر کی صورتحال دھماکہ خیز، اندر کی صورتحال حیرت انگیز،   16 ضمیر فروش بھی دربار میں حاضر، اچھے برے ارکان ایک ہی چھت کے نیچے ناشتے کی میز پر جمع ہوگئے ’’نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز‘‘ 16 کو ضمیر فروش قرار دے کر انہیں پارٹی سے نکالنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ شیخ رشید نے کروڑوں میں اپنے آپ کو بیچنے والوں کی تعداد 20 بتائی۔ جتنے بھی تھے ان کے خلاف کارروائی کہاں ہوئی؟ سیاسی مجبوری حمایت کرنے والے 178،  16 نکل جاتے تو تعداد 162 رہ جاتی۔ اپوزیشن ارکان کی تعداد بھی کم و بیش اتنی ہی ہے۔ اعتماد کے ووٹ کے لیے340  ارکان میں سے 172 کی حمایت لازمی، مزید دس کہاں سے آتے۔ ارکان بھی چھپے رستم نکلے ان کے دل کہیں تلوار کہیں ’’مناسب وقت‘‘ آنے پر دل چیر کر دکھائیں گے۔ فی الحال تو وفاقی وزیر غلام سرور خان نے یہ کہہ کر سچ اگل دیا ہے کہ معاشی بحران اور مہنگائی کی وجہ سے عوام ہم سے ناراض ہیں۔ اصل حقائق بھی یہی ہیں۔ اپنے ارکان حکم ملنے پر کچے دھاگے سے بندھے چلے آئے لیکن سینیٹ الیکشن میں بندے اور ضمیر کا سامنا ہوا تو 6 ارکان نے سید ضمیر الدین کا کہنا مانا اور عبدالحفیظ شیخ کی بجائے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دے دئے۔ پارلیمنٹ ہائوس کے اندر قول و فعل میںتضاد، محترم سراج الحق نے بر ملا کہا کہ یو ٹرن لینے والا لیڈر نہیں ہوتا نہ ہی قیادت کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے۔ قول و فعل میں یکسانیت کی ضرورت ہے نہ اہمیت، اقتدار کا گھوڑا اپوزیشن کے اسپیڈ بریکرز کے باوجود سر پٹ دوڑ رہا ہے۔ تھک جائے گا تو دیکھیں گے۔ ابھی ارکان کی حمایت کی ضرورت ہے اپوزیشن بھی تو تحریک عدم اعتماد کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ابھی سے فکر دامن گیر ہوگئی۔ ارکان کی تعداد پوری رہنی چاہیے کوئٹہ کے عبدالقادر کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا۔ ارکان کے شور و غوغا پر واپس لے لیا۔ لیکن انہیں 11 کے 11 ووٹ ملے۔ بندہ سیدھا اسلام آباد پہنچا اور مشرف بہ تحریک ہوگیا۔ وزیر اعظم نے تحریک کا جھنڈا یوں پہنایا جیسے گلے میں طوق ڈال رہے ہوں۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمان کو دو نمبر کا لیڈر قرار دیا لیکن عبدالغفور حیدری کو ڈپٹی چیئرمین کی پیشکش کردی، کھیل وہی طریق کار مختلف ،2008 میں نمل کالج کی افتتاحی تقریب میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا لیکن سینیٹ چیئرمین کے امیدوار بنتے ہی وہ دنیا کے کرپٹ ترین انسان بن گئے۔ اپوزیشن کو سر عام گالیاں لیکن اندرخانے اپوزیشن سے رابطے۔ لوگ کہنے لگے ہیں کہ انتہائی قریبی دوست ہی بند گلی کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ احساس ہوا  لیکن کیا کریں راستہ دکھانے والے بھی کسی کے ہیں۔ کسی کے کہنے پر ہی اپنوں میں شامل ہوئے۔ اپنوں سے ناراضی خطرناک اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو کسی نہ کسی طرح ناکام بنانا ہے۔ اس لیے فی الحال 16 ضمیر فروشوں کا علم نہیں موقع پرستوں پر نظر نہیں، آئندہ اپریل میں دیکھا جائے گا۔ 


ای پیپر