Sumera Malik, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
15 مارچ 2021 (11:18) 2021-03-15

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ وہ صوبہ کے محروم طبقے کی پسماندگی دور کرنے کے لئے ڈٹ کر روز و شب کام کر رہے ہیں گویا عوام کے فلاح کے کاموں کی تکمیل میں جان کی بازی لگا رکھی ہے۔ سب تسلیم کر چکے ہیں کہ سردار عثمان بزدار صوبہ پنجاب کی تاریخ کے بہترین وزیر اعلیٰ ہیں۔ محکمہ زراعت ہو یا انہار، لائیو سٹاک اور ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ یا محکمہ خوراک اور محکمہ فشریز، تمام محکموں کی موجودہ شاندار کارکردگی سردار عثمان بزدار کی بے مثال کمان کی بدولت ہے۔

اری گیشن ڈیپارٹمنٹ نے اسلام بیراج کی اَپ گریڈیشن 3 ارب روپے سے زائد لاگت سے مکمل کی ہے، اس منصوبے سے 10لاکھ ایکڑ زمین سیراب کی جائے گی۔ تریموں اور پنجند بیراجوں کی اپ گریڈیشن پر 70% کام مکمل ہو چکا ہے۔ ان منصوبوں سے 30لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کیا جائے گا اور اس سے پانی کے اخراج کی طاقت کو 17 لاکھ کیوسک تک بڑھایا جائے گا۔ کئی نہروں کی اپ گریڈیشن جن میں سندھالی لنک کنال 25ارب کی لاگت، احمد پور برانچ 1.7 ارب روپے اور کھالوں اور دیگر اری گیشن چینلوں کو پکا کر کے ایک ہزار میل تک کیا جا رہا ہے۔ جس پر 10ارب روپے کی لاگت آئے گی۔چھوٹے ڈیموں کی تعمیر جن میں ڈاڈھوچہ ڈیم سے راولپنڈی کے رہائشیوں کے لئے پینے کے پانی کی فراہمی جو راولپنڈی کا دیرینہ مسئلہ ہے، اب حل ہونے کو ہے جبکہ صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایگری کر یڈٹ کارڈ کی سکیم کا اجرا کیا گیا۔ یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ کوہ سیلمان سمیت صوبے مختلف علاقوں میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے صوبے کی تقدیر بدلنے والی ہے۔ جلال پور کینال سمیت کئی نہروں کا پراجیکٹ شروع ہوا ہے۔ اسی طرح 10سال تک نہروں کی ٹیل تک پانی کی فراہمی کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ مظفر گڑھ میں نہری نظام سے متعلق نیٹ ورک کیلئے 391ملین روپے جاری ہوئے ہیں۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ زراعت جو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس کو مضبوط کرنا ہو گا تا کہ تمام لوگوں کی زندگی بہتر ہو۔ انہوں نے نئی اصلاحات میں زرعی پالیسی کا اجرا کیا ہے جس میں پیمرا ایکٹ کی ترامیم بھی شامل اور منڈی ایپ کے ذریعے مارکیٹوں کا ڈیٹا ڈیجیٹل کیا گیا جو محکمے کے خصوصی اقدامات میں سے ایک ہے۔ سب سے بڑا اقدام ایک لاکھ کپاس کے بیجوں کے تھیلے، کھادوں پر سبسڈی واؤچرز کی فراہمی ہے۔ تیل کے بیجوں پر سبسڈی دی گئی۔ 12ہزار کسان سبسڈی سے مستفید ہونگے۔ فصلوں کی بیمہ پالیسی سے کسانوں کو 100ملین روپے کی سبسڈی ملی۔ زرعی ایمرجنسی کے تحت 18ارب کی لاگت سے واٹر کورسز کی تجدید نو کا اہتمام کیا گیا۔ پنجاب میں 13پانی کے تالابوں کی تعمیر کی گئی۔

8 ماہ میں محکمہ کی دو ارب مالیت کی زمین واگزار کرائی گئی۔ گندم کپاس، چاول، مکئی، دالوں اور سبزیوں کے 10لاکھ من بیجوں کی فروخت سے ارب روپے جمع کئے گئے۔ ایک لاکھ 60ہزار کسانوں کو دس ارب روپے کے بلاسود قرضوں کی فراہمی کی گئی ہے۔ پنجاب میں ماڈل مارکیٹ کے قیام کے لیے ایک ارب کی زمین خریدی گئی جبکہ جنوبی پنجاب Horizontal لینڈ ڈویلپمنٹ کی گئی۔ 2 ارب سے ماحول دوست فارمنگ کا نفاد کیا گیا۔ ڈی جی خان میں 5کروڑ کی لاگت سے باری کے سٹیلائٹ سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا۔

راجن پور میں 20کروڑ کی لاگت سے کاٹن ریسرچ سے سٹیشن کا قیام عمل میں لایاگیا۔ پھولوں کی کاشت کے لئے 4سو ملین کا پروگرام پنجاب بھر میں شروع کیا گیا۔ پنجاب میں معیاری اشیائے خور و نوش کے لئے ایگر یکلچر مارکیٹنگ بنانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی لائیو سٹاک اور ڈیری ڈویلمپنٹ پر خصوصی توجہ ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکومت لائیو سٹاک پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

بیماریوں کے پاک زونز کا قیام عمل میں آ گیا جس میں پنجاب بھر کو لائیو سٹاک کے حوالے سے غیر ملکی سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کا پروگرام کا انعقاد ہوا۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ بین الاقوامی سطح پر بفلو کانفرنس کا انعقاد اور تربیتی ورکشاپیں کا آغاز ہوا۔ پنجاب کے فوڈ ڈیپارٹمنٹ پر خاصی توجہ دی، اس کا اثر اب گراس روٹ لیول پر نظر آ رہا ہے۔ 20 کلو آٹے کا تھیلا 805روپے، 10 کلو آٹے کا تھیلا 400 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

ملوں کو 4000 میٹرک ٹن گندم کا اجرا روزانہ کی بنیاد پر ہو رہا ہے اور ملوں میں آٹے کی سخت نگرانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے عوام کو مناسب نرخ پر معیاری آٹے کی فراہمی کا تہیہ کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں نا صرف اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ بلکہ نگرانی کا مؤثر عمل یقینی بنایا گیا ہے۔ فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں 58 معذور افراد کو ملازمت دی جا رہی ہے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے 1459 ملین روپے کی وصولی کے بعد شوگر ملز کی تعداد 14 سے کم ہو کر اب 3 رہ گئی ہے۔ گنے کی کاشت کاروں کو 8ماہ کی قلیل مدت میں 138ارب کی ادائیگیاں کی گئی۔

پنجاب میں 20,000 کنال اراضی پر گندے پانی سے کاشت کاری کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا ہے اور پنجاب حکومت کے ٹریننگ پروگرام سے اب تک 30ہزار افراد فوڈ ہینڈ کرز سفید ہو چکے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ پنجاب کا ہر ڈیپارٹمنٹ کام کر رہا ہے۔ یہ سب وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کی سربراہی میں ہو رہا ہے۔ شاندار گرین پاکستان مہم کے تحت صوبے بھر میں شجر کاری، صاف پانی کی فراہمی کے لئے ایگری کریڈٹ کارڈ سکیم، گندم اور گنے کے امدادی نرخ میں اضافہ، عوام کو براہ راست اجناس فروخت کرنے لئے کسان کارنر کا قیام، وہ سلیمان سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر، جلال پور کینال سمیت نئی نہروں کا پراجیکٹ، نہروں کی ٹیل تک پانی کی فراہمی کا ہدف، جنوبی پنجاب کے بجٹ میں ملنے والے فنڈز دوسروں علاقوں میں منتقل نہیں ہو سکیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے خود کو اپنی کارکردگی سے ثابت کیا ہے۔

یہ حقیقت عیاں ہے کہ سردار عثمان بزدار کی قیادت میں صوبے کے تمام محکمہ جات بھر پور کام کر رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت میں صوبہ پنجاب تیزی سے ترقی کے زینے طے کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ سردار عثمان بزدار کی بحیثیت وزیر اعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں ممکن ہو رہا ہے۔ جنہوں نے خود کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا بہترین انتخاب ثابت کر دکھایا ہے۔ بلا شبہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی اب تک کی کارکردگی کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔


ای پیپر