غریب عوام اور مہنگائی
15 مارچ 2019 2019-03-15

گزشتہ چند ماہ سے مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد بہت سی ادویات اب غریب عوام کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں۔ تبدیلی سرکار نے عوام کو مہنگائی کے عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔ مہنگائی کی حالیہ لہر کے بعد سے حکومتی وزراء خاموش ہیں۔ جب سبزیوں ، پھلوں اور چکن کی قیمتیں کم تھیں تو حکومتی وزراء کم قیمتوں کا کریڈٹ لیتے تھکتے نہیں تھے مگر جیسے ہی مہنگائی کے اژدھے نے سر اٹھایا ہے تو حکومتی وزراء خاموش نظر آتے ہیں۔

کیا کوئی حکومتی ذمہ دار ادویات ساز کمپنیوں اور در آمد کنندگان سے یہ پوچھنے کی جسارت کرے گا کہ وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بناء پر ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد سے لے کر ڈھائی سو فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ 50 روپے والی گولی کی قیمت اب 100 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ عوام اتنا حق ضرور کھتے ہیں کہ وہ پوچھ سکیں کہ ایسا کیا ہوا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اتنا زیادہ اضافہ ہو اہے؟ کیا خام مال کی قیمتیں دگنی ہو گئی ہیں یا حکومت نے بر آمدی خام مال پر ڈیوٹی اور ٹیکس دوگنے کر دیئے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں ہوا مقامی لاگت میں یکا یک کئی گنا اضافہ ہو گیا ہو۔ حکومت نے اچانک مزدوروں کی کم از کم تنخواہ دگنی کر دی ہو۔ کم از کم اتنا تو بتایا جائے کہ وہ کونسی قیامت ٹوٹ پڑی ہے جس کی وجہ سے ادویات کی قیمتوں میں ہو شربا اضافہ ہوا ہے۔ جب تک کوئی اور وجہ سامنے نہیں آتی یا بتائی نہیں جاتی تو مجھ جیسے کم پڑھے لکھے اور حکمران طبقے کے ماہرین سے کم عقل و فہم رکھنے والے لوگ جو کہ سرمایہ دارانہ معیشت کی پیچیدگیوں اور منڈی کے کام کرنے کے طریقوں سے بہت زیادہ واقفیت نہیں رکھتے۔ وہ تو یہی سمجھیں گے کہ ادویات ساز کمپنیوں اور بر آمدکنندگان کی جانب سے اپنے منافعوں کو بڑھانے اور عوام کے استحصال میں اضافے کے لیے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ در اصل سرمایہ دارانہ نظام میں پیداواری عمل کیا ہی منافع حاصل کرنے کے لیے جاتا ہے۔ سرمایہ داری نظا م کے ماہرین اور اس سے فائدہ اٹھانے والے سرمایہ دار جتنی چاہے دلیلیں دیں۔ جواز پیش کریں۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ سرمایہ دارانہ پیداوار کا پورا عمل منافعوں کے حصول کے گرد گھومتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگ اپنی ضروریات کے لیے اشیاء خریدتے ہیں۔ خوراک، رہائش، لباس، جوتے، ادویات اور دیگر اشیاء کی لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے۔ مگر جس معاشی نظام میں ہم رہتے ہیں وہاں پر بنیادی اشیائے ضرورت صرف اس لیے نہیں بنائی جاتیں کہ عام لوگوں کو اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلکہ ان کو بنانے کا بنیادی مقصد منافع کمانا ہوتا ہے۔ منافع در اصل سرمایہ دارانہ پیداواری عمل کی قوت محرکہ ہے ۔ ریاست کا کردار بنیادی طور پر یہ ہوتا ہے کہ وہ سرمایہ داروں کی طرف سے منافعوں کے حصول کی کوششوں اور شرح کو ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھنے دے۔ پالیسیوں اور نظریات کے عام صارفین کو منڈی کے بے رحم اور استحصالی میکنزم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ پاکستانی ریاست نے ملٹی نیشنل اور پھر قومی کمپنیوں کو صارفین جو کہ محنت کش عوام ہوتے ہیں ( صارفین کی غالب اکثریت عام لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے) کے کھلے استحصال کی مکمل چھوٹ اور آزادی دی ہوئی ہے۔ ویسے تو ہم بھارت سے ہر چیز کا مقابلہ کرتے ہیں کبھی فرصت نکال کر پاکستان اور بھارت میں ادویات کی قیمتوں کا بھی جائزہ لے لیں۔ یقیناًاس میدان میں بھی ہم بھارت سے بہت آگے ہیں کیونکہ انڈیا میں ادویات کی قیمتیں پاکستان سے کافی کم ہیں۔

ہم لوگ در اصل اپنی دولت کی ہوس اور منافع خوری کو منڈی کی حرکیات کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً جب کوئی کمپنی چائے کی پتی کی قیمت میں اچانک 200 روپے کا اضافہ کر دے جبکہ عالمی منڈی میں چائے کی قیمت میں اضافہ نہ ہوا ہو تو اسے اورکیا کہا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے محنت کش عوام کو امید تھی کہ تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد معاملات بہتر ہو جائیں گے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہو جائے گی ۔ کیونکہ ہمیں تحریک انصاف کی قیادت نے بتایا تھا کہ ملک میں مہنگائی اس لیے ہے کیونکہ ملک میں کرپشن بہت زیادہ ہے۔ جیسے ہی ایماندار، دیانتدار اور بد عنوانی سے پاک حکومت وجود میں آئے گی تو مہنگائی کم ہو جائے گی۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ چکن کے گوشت کی قیمت زیادہ اس لیے ہے کیونکہ حمزہ شہباز یہ کاروبار کرتے ہیں۔ اس وقت چکن کی قیمت 240 سے 260 روپے فی کلو کے درمیان ہے اب اتنا تو بتایا جائے کہ اس حکومت میں کون ہے جو مرغیوں کا کاروبار کرتا ہے یا اب بھی مرغی کی قیمتوں کا تعین حزب اختلاف میں بیٹھے حمزہ شہباز شریف کر رہے ہیں۔

اب تو تحریک انصاف کی کرپشن فری حکومت قائم ہوئے 7 ماہ ہونے کو ہیں مگر مہنگائی میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر چوہدری اکرم پوری ایمانداری اور تندہی سے قیمتوں میں اضافے کو روکنے کی سعی کر رہے ہیں۔ اتوار بازاروں اور مارکیٹوں کے دورے بھی کر رہے ہیں مگر مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ حکومتوں کا سارا زور ریڑھی والوں اور چھوٹے دکانداروں پر چلتا ہے۔ مگر بڑے سرمایہ داروں ذخیرہ اندازوں اور کمپنیوں کے سامنے یہ بے بس ہیں۔ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ جب تیل، گیس، بجلی اور خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے لاگت بڑھ جاتی ہے اور پیداواری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے مگر یہ اضافہ اسی تناسب سے ہونا چاہیے جس تناسب سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر پیداواری لاگت 20 فیصد بڑھی ہے تو اسی تناسب سے قیمتوں میں اضافہ ہونا چاہیے۔ مگر صورت حال بہت مختلف ہے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مہنگائی کی موجودہ لہر پاک بھارت کشیدگی کے نتیجے میں آئی ہے تو کشیدگی میں کمی کے بعد مہنگائی کی شرح کم ہونی چاہیے تھی مگر ایسا نہیں ہوا۔ حب الوطنی کا تقاضا تو بظاہر یہ تھا کہ ملک میں قیمتوں کو مستحکم رکھا جاتا اور انہیں بڑھنے نہ دیا جاتا تاکہ غریب عوام پر مشکل حالات میں مزید بوجھ نہ بڑھے اور اشیائے ضروریہ ان کی پہنچ سے باہر نہ جائیں مگر جن لوگوں نے فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کارخاموں اور مارکیٹوں میں سب سے زیادہ بینر لگائے مگر جب بات منافعوں کی آئی تو کوئی مذہب ہوتا ہے نہ ہی کوئی قوم۔

حکومت اس وقت تک مہنگائی کو روکنے کی سنجیدہ کوشش کرتی نظر نہیں آئے گی جب تک وہ یہ تسلیم نہیں کر لیتی کہ ملک میں غریب عوام واقعی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اب تک تو شاید حکومت یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے اور غریب عوام کو براہ راست متاثر کر رہی ہے۔ خوراک، ادویات، مکانات کے کرائے۔ علاج، تعلیم، ٹرانسپورٹ کے کرائے، بجلی ، گیس، اور پٹرول کے نرخ سب بڑھ چکے ہیں۔ ایک عام پاکستانی کو جسم اور روح کا رشتہ بر قرار رکھنے کے لیے پہلے سے زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے۔ مہنگائی میں اضافے نے لوگوں کی قوت مزید پہلے سے بھی کم کر دی ہے۔ غریب عوام کی زندگی پہلے سے بھی زیادہ اجیرن ہو چکی ہے۔ حکومت کو اب تک سمجھ آ جانی چاہیے کہ عام لوگوں کے مسائل کو کم کرنے اور ان کی معاشی مشکلات میں کمی کے لیے صرف اچھے جزبات اور نیک نیت ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ پالیسیاں بھی درکار ہوتی ہیں۔


ای پیپر