جنگ یا ایٹمی جنگ؟
15 مارچ 2019 2019-03-15

چودھری جلال بڑا سفاک وڈیرا ہے، ایک بار اس کے ڈیرے کے قریب ہی گاؤں کے بچے کھیل کود کررہے تھے، کچھ بگڑے بچے رسوئی گھر کے تنور سے نکلتی آگ کو بار بار پکڑنے کی کوشش کرتے، بڑے بزرگوں میں سے کوئی پیار سے تو کوئی ڈانٹ ڈپٹ کرانہیں روک دیتا، لیکن بچوں کی آگ سے کھیلنے میں دلچسپی کم نہ ہوسکی، کافی دیر سے خاموش بیٹھے چودھری کو جلال آیا، وہ اٹھا، اور ایک ضدی بچے کا ہاتھ بھڑکتے شعلوں میں جھونک دیا۔ ننھا منا ہاتھ بری طرح جھلس گیا، کئی ماہ تک چھالوں سے درد رستا رہا، دھیرے دھیرے زخم تو بھرگیا، لیکن انمٹ نشان چھوڑ گیا۔

بدلتی رتوں میں سانپ کینچلی ضرور بدلتا ہے، لیکن اپنا زہر صرف دو ہی صورتوں میں چھوڑتا ہے، جب شکار کرنا ہو یا شکاری سے بچنا ہو۔ ہاتھی شیر کی چنگھاڑ سے نہیں ڈرتے، شیر کبھی چوہے پر حملہ نہیں کرتا اور چوہا کبھی بلی سے پنگا نہیں لیتا۔ شکار کے پیچھے چیتا اپنی پوری طاقت سے دوڑتا ہے، دل پھٹنے سے چند لمحے پہلے رک جاتا ہے۔ یہ نظام قدرت ہے، اس سے ہٹ کر جو ہو اسے انہونی کہتے ہیں، اور انہونی کسی بات پر ہی ہونی ہوتی ہے۔

نظام قدرت کی نفی کا نام ایٹم بم ہے۔ قدرت کا نظام ہے کہ اس فانی دنیا میں کوئی شے فانی نہیں۔ آسمان سے پانی برستا ہے، جانداروں کی پیاس بجھتی ہے، زمین سیراب ہوتی ہے، ندی نالے، دریا سمندر بہتے ہیں، بخارات بنتے ہیں، جتنا برستا ہے اتنا ہی پانی واپس آسمان پر پہنچتا ہے، فنا کچھ نہیں ہوتا۔ لکڑی جلتی ہے، راکھ بنتی ہے، آگ نکلتی ہے، فنا کچھ نہیں ہوتا۔ انسان مرتا ہے، روح راہی عدم ٹھہرتی ہے، بدن رزق خاک بنتا ہے، فنا کچھ نہیں ہوتا۔

دنیا تضادات کا مجموعہ ہے، بڑے سے بڑا پہاڑ توڑنا کتنا آسان ہے یہ کوئی چھوٹے سے چھوٹے ذرے کو توڑنے والے سے پوچھے۔ کائنات اتنی وسیع ہے کہ سورج کے بعد زمین کے قریب ترین ستارے تک پہنچنے کیلئے ہزاروں نوری سال درکار ہوں گے، جبکہ ستاروں کا شمار بے شمار ہے۔ لیکن وسعتوں سے وسیع کائنات کا ڈی این اے "ایٹم" اس قدر چھوٹا ہے کہ انسانی آنکھ سے دیکھ پانا ہی ممکن نہیں، عجب تضاد یہ ہے کہ ایٹم کائنات کا مکمل نقشہ ہے۔ ایٹم کو توڑ دو، قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ ایٹم کو فنا کردو، دنیا فنا ہوجائے گی۔اور ایٹم کو فنا کرنے توڑنے کا نام ہے، ایٹم بم!

کوئی 75 برس قبل سفاک چودھری نے شرارتی بچوں کو سبق سکھانے کیلئے ہیروشیما اور ناگا ساکی پر بم گرائے ، جاپان آج جوان ہوگیا لیکن پل بھر میں دو شہروں کی تباہی کا منظر دنیا کبھی نہ بھلا سکی۔ "لٹل بوائے" اور "فیٹ مین" دونوں سے مجموعی طور پر 35 ہزار ٹن ٹی این ٹی کا دھماکا ہوا، جبکہ شمالی کوریا نے تین برس قبل جس چاندی کے گولے (Silver Spherical) کا تجربہ کیا وہ 60 لاکھ ٹن ٹی این ٹی کے مساوی تھا۔ کم جون اْن نے اسے ہائیڈروجن بم کی دنیا میں پہلا قدم قرار دیا، مطلب اس میدان میں دوڑ کا باقاعدہ آغاز ہونا ابھی باقی ہے۔ 35 ہزار ٹن سے شروع ہونے والا قصہ 60 لاکھ ٹن تک پہنچ چکا جبکہ پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔ شاید اسی لئے سفاک چودھری نئے دور کے ضدی بچے کے سامنے خود ہاتھ جوڑے کھڑا ہے۔

پاکستان کے پاس 150 نیو کلیئر وار ہیڈز ہیں، بھارت کے پاس 130۔ پاکستان کو بھارت کا ہر چھوٹا بڑا شہر دنیا کے نقشے سے مٹانے کیلئے 45۔40 وار ہیڈز کی ضرورت پڑے گی، جبکہ بھارت کو آٹھ سے دس ایٹمی میزائل درکار ہونگے۔ چند بار ایک بٹن دبانا ہوگا اور دو دیس دنیا کے نقشے سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مٹ جائیں گے۔ ایسا ہوا تو انہونی ہو جائے گی، لیکن ایسی کیا بات ہوگئی کہ انہونی ہوجائے؟ پلوامہ ڈرامہ، فضائی حدود کی خلاف ورزی کا مس ایڈونچر یا دو جنگی طیارے گرانے کی قیمت، کروڑوں زندگیاں کیسے ہوسکتی ہے؟ جنگی جنون اپنی جگہ لیکن ایٹمی جنگ کے انجام سے بھارت بے خبر ہے، پاکستان انجان ہے یا دنیا دونوں سے بالکل ہی لاتعلق ہے؟

پہلا ایٹم بم چلا کر چودھری بننے والا امریکا، تب سے لے کر آج تک کسی دوسرے محاذ پر جیت نہ سکا، ویتنام ہو یا افغانستان، عراق، شام، لیبیا ہو یا ایران، ہر جگہ رسوائی اس کا مقدر بنی، اس کی چودھراہٹ داؤ پر لگ چکی، لیکن کہیں ایٹم بم نہ چلا سکا، کیونکہ روائتی جنگ میں غیر روائتی ہتھیار نہیں چلائے جاتے، بقا کی جنگ میں بھی غیر روائتی ہتھیاروں کی طویل فہرست میں آخری آپشن ہوتا ہے ایٹم بم۔

حقیقت کیا ہے؟ بھارت دنیا کی ساتویں بڑی معیشت ہے، پاکستان اس فہرست میں 38 نمبر پر ہے، پاکستان کا معاشی حجم 315 ارب ڈالر، بھارت 2 ہزار 885 ارب ڈالر کا مالک۔ رقبے میں بھارت پاکستان سے چار گنا بڑا، لیکن فی کلومیٹر بارڈر فورس کی تعداد میں پاکستان سے ڈیڑھ سو فیصد پیچھے، فضائی طاقت میں پاکستان بھارت سے تین گنا آگے، کہیں ایک آگے تو کہیں دوسرا، ایک ہاتھی ہے تو دوسرا شیر۔ حقیقت یہ ہے کہ ہاتھی کی بدمستی اتارنے کا ہنر شیر سے زیادہ کوئی نہیں جانتا، شیر کے علاقے میں گھس بیٹھ ہاتھی کو کب راس آئی؟ کرگس بھی کبھی شاہین کی رفتار پکڑ سکا؟ بھیا! کرگسوں کو نیچا دکھانا شاہینوں کو سیکھنا نہیں پڑتا۔ ہاں! رت بدل رہی ہے سانپ کینچلی ضرور بدلے گا، تھوڑا پھنکارے گا، لہرائے گا، آخر اپنی بل میں گھس جائے گا۔

تو کیا پاک بھارت جنگ کا کوئی امکان نہیں؟ پہلے جاننا ہوگا، دونوں ملکوں کے حالات کیا ہیں، بھارت میں اقلیتوں پر زندگی تنگ ہوچکی، علیحدگی کی پچاس سے زائد تحریکیں زور پکڑ چکیں، کشمیر کے چکر میں پنجاب بھی ہاتھ سے نکل رہا، خطے کی چودھراہٹ کا خواب دکھانے والا امریکا افغانستان سے رسوائیاں سمیٹ کر رخت سفر باندھ چکا، روس سے دوری اور چین سے سرد جنگ ، داخلی اور خارجی ہر محاذ پر بھارت کو ایک سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ دوسری جانب پاکستان دہشتگردی سے بڑی حد تک نجات حاصل کرچکا، ملک سے راء کا نیٹ ورک توڑ چکا، امریکا کو ٹاٹا بائے بائے کہہ چکا، سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جیسے گیم چینجر منصوبوں کیلئے ریڑھ کی ہڈی بن چکا، بقا کے خطرے سے دوچار ازلی دشمن ایسے حالات میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے تو بیٹھا نہیں رہ سکتا۔ دنیا بھر میں خفت اٹھانے کے بعد بھارت بالاکوٹ جیسی حرکت دو بارہ کرے گا، لگتا تو نہیں، افغان جنگ کے فاتح طالبان اب پاکستان سے تلخیاں کم کرنا چاہتے ہیں، لہٰذہ خودکش حملوں کا جواز بھی معدوم ہوچکا، کولڈ اسٹارٹ اسٹریٹیجی بابر نے مٹی میں ملا دی، اب بظاہر بھارت کے پاس ففتھ جنریشن وار کا محاذ گرم رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ گرمی سردی اور تو تو میں میں چلتی رہے گی، لیکن دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان براہ راست جنگ کا امکان فی الحال تو نظر نہیں آرہا۔ بدقسمتی سے اس وقت ہماری زیادہ توجہ زمینی سرحدوں کے تحفظ اور دفاع پر مرکوز ہے، جبکہ نیوکلئیر ہتھیاروں کے دور میں علاقائی سرحدوں پر حملوں کی صرف دھمکی ہی دی جاسکتی ہے، کبھی کبھار چھوٹی موٹی جھڑپوں سے زور بازو دکھایا جا سکتا ہے۔ براہ راست حملے کے بارے میں کوئی انتہائی بے وقوف حکمران ہی سوچے گا۔ ففتھ جنریشن وار فئیر سے نمٹنے کیلئے علاقائی سرحدوں سے کہیں زیادہ ضروری نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ہوتی ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کیلئے بھارتی سازشیں ، پاکستان کو بنجر کرنے کیلئے دریاؤں کا رخ موڑنا، ضرورت پڑنے پر پانی چھوڑ کر سیلاب سے تباہی پھیلانا، میڈیا پراپیگنڈے کے ذریعے تاریخی حقائق کو مسخ کرنا،فلموں ڈراموں اور سوشل میڈیا کے ذریعے نظریاتی سرحدوں پر حملہ آور ہونا، یہ سب اقدامات ففتھ جنریشن وار فئیر کا حصہ ہیں۔ قوی الحبثہ شجر کو کاٹنے کی ہر کوشش جب ناکام ہوجائے تو اس کی جڑیں کھوکھلی کرکے دھول چٹانے کا نام ہے ففتھ جنریشن وار فیئر۔

زمینی سرحدوں کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے اقدامات ناگزیر ہیں، اس جانب سے یکسر غافل نہیں ہوا جاسکتا، لیکن پاکستان کیلئے اصل چیلنج بھارت کو آبی وسائل پر قابض ہونے سے روکنا ، آئی ٹی میں اسے پچھاڑنااور سوشل میڈیا پر نظر رکھنا ہے۔ سانپ چھپ کر ڈسنے کی کوششیں تیز کرے گا،خوش آئند بات یہ ہے کہ مارخور نے ہر بار ثابت کیا، وہ سانپ کا ماہر شکاری ہے۔

رہی بات ایٹمی جنگ کے خطرے کی تو اس بارے یہی کہا جاسکتا ہے،

’’اے کوئی مذاق اے‘‘


ای پیپر