پنجاب اسمبلی بل۔ مالِ مفت دلِ بے رحم
15 مارچ 2019 2019-03-15

جب سے پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں آئی ہے ہمارے قومی سیاسی کلچر میں کھیلوں کی اصطلاحات اور مثالیں کافی بڑھ گئی ہیں جیسا دیس ویسا بھیس کے مطابق ہم بھی ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ 1994 ء میں فیفا ورلڈ کپ فٹ بال مقابلے میں ایک بہت بڑا upset ہوا جب کولمبیا کے مشہور کھلاڑی Escobar نے غلطی سے اپنی ہی ٹیم کے خلاف گول کر دیا جس کے نتیجے میں ان کو ٹیم ٹورنا منٹ سے آؤٹ ہو گئی۔ اس واقعہ کا افسوسناک انجام ہماری اس تمشیل کا حصہ نہیں مگر یہ تاریخی حقیقت ہے کہ Escobar جب واپس کولمبیا پہنچے تو انہیں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

جب سے پنجاب اسمبلی نے اپنی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے کا بل نہایت برق رفتاری سے اور تمام پارٹیوں کے اتفاق رائے سے پاس کیا ہے نہ جانے ہمیں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی گورننس سے کچھ اطمینان کا احساس ہو رہا ہے۔ اب کدھر گئے وہ لوگ جو یہ کہتے تھے کہ وزیر اعلیٰ عثمان کو فائل پڑھنی نہیں آتی یا یہ کہ بزدار صاحب کی حدود حکمرانی میں عمران خان کی مرضی کے بغیر پتہ نہیں ہل سکتا۔ عثمان بزدار نے ثابت کر دیا ہے کہ جب وسیع تر ذاتی مفاد کا معاملہ ہو تو وہ وزیر اعظم عمران خان سے کسی ڈکٹیشن کے پابند نہیں ہیں۔ یہ بل پاس کرا کر عثمان بزدار نے وہ کر دکھایا ہے جو حکومت کے خلاف نہ تو نریند مودی کی جنگ کی دھمکیاں کر سکیں اور نہ ہی ن لیگ اور پیپلز پارٹی دباؤ بڑھانے کی پالیسی کے با وجود حکمران جماعت کو دیوار سے لگا سکے۔ جس عثمان بزدار کو عمران خان اتنی محنت اور شفقت سے دودھ پلایا کرتے تھے اور جسے وسیم اکرم پلس جیسا Pet name دیتے تھے اس نے کولمبیا کے Escobar کی طرح اپنی ہی ٹیم کے خلاف گول کر دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان سن کر حیرت زدہ ہیں کہ سادگی اپنانے اور اخراجات میں کمی کا نعرہ لگانے سے چھوتی ہوئی قیمتوں اور ٹیکسوں کے ہاتھوں جاں یہ لب ہیں انہیں کوئی ریلیف دینے کی بجائے ان کی پیاری حکومت نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تنخواہیں اور مراعات خود ہی ڈیڑھ گنا بڑھا لی ہیں۔ ڈھٹائی اور بے حمیتی کا یہ عالم ہے کہ میڈیا جس ممبر سے سوال کرتا ہے وہ آگے سے غصے سے لال پیلا ہو جاتے ہیں اور بڑے غصے سے جواب دیتے ہیں کہ ہم نے کیا غلط کیا ہے۔

اس پیکج میں عثمان بزدار صاحب کے لیے تا حیات پنشن ، لاہور میں گھر 2500 cc کی ایک بڑی گاڑی 5 گارڈ ایک ڈرائیور ایک سیکرٹری ایک باورچی یہ سب سرکاری خرچ پر حاصل رہے گا۔ وزیر اعظم نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے اظہار ناراضگی بھی کیا ہے اور گورنر چوہدری سرور کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بل پر دستخط نہ کریں۔

اس قانون سازی سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ تحریک انصاف کے اندر تمام معاملات خصوصاً پنجاب پر حکمرانی میں عمران خان سے مائیکرو لیول پر مشاورت نہیں کی جاتی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ صوبائی اور قومی وزیر اطلاعات دونوں حضرات نے پہلے تو اس ناقابل دفاع فیصلے کا دفاع کیا اور جب بات عمران خان تک پہنچی اور انہوں نے ایک غلط قانون کو روکنے کا کہا تو مذکورہ دونوں وزرائے اطلاعات نے انتہائی ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی فنکارانہ رفو گری کی کہ سب حیران رہ گئے۔ ممبران اسمبلی جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے 83 ہزار میں گزارا نہیں ہوتا ڈپٹی سپیکر پنجاب تو مشکل میں ہیں کہ ہم اپنے محافظوں مہمانوں اور حلقہ سے آئے ہوئے لوگوں کے اخراجات کہاں سے پورے کریں گویا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے اگلے الیکشن کی راہ ہموار کرنے کے لیے بھی آپ کو سرکاری مال درکار ہے۔ یہ سارے ممبران اسمبلی کروڑوں روپے لگا کر منتخب ہوتے ہیں ان میں سے کوئی بھی کرائے کے مکان یا قسطوں کی موٹر سائیکل والا نہیں ہے۔ ان کو یہ بھی پتہ ہے کہ جس پیسے سے انہیں تنخواہ ملتی ہے یہ عوام کا خون نچوڑ کر نکالا جاتاہے لیکن 371 کے ایوان میں کوئی ایک بھی مائی کا لال ایسا نہیں تھا جس نے اس بل کی مخالفت میں ووٹ دیا ہو سب کے ضمیر اس بات پر شادباد تھے کہ مال مفت مل رہا ہے تو دل بے رحم کیوں نہ ہو۔

سنا ہے کہ عثمان بزدار صاحب کو ممبران اسمبلی نے تا حیات مراعات کا بھاری بھر کم پیکج دے کر راضی کر لیا ہے کہ وہ یہ بل پاس ہونے دیں انہیں یقین دھانی کرائی گئی کہ یہ معمول کی قانون سازی ہے اس سے کچھ نہیں ہو گا مگر جب ہر طرف عوام میڈیا اور وزیر اعظم تک ہنگامہ کھڑا ہو گیا تو عثمان بزدار نے شہباز گل کے کان میں کہا کہ خان صاحب کو بتا دیں۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے میں نے فائل نہیں پڑھی حالانکہ یہ وہ واحد فائل ہے جو انہوں نے پڑھی بھی اور پڑھوائی بھی کہ جو مراعات تاحیات دی جا رہی ہیں اپوزیشن کی حکومت آ گئی تو یہ کہیں بند تو نہیں ہو جائیں گی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا تعلق جنوبی پنجاب کے ایسے قبیلے سے ہے جو ماضی میں وسیع علاقے میں بھیڑ بکریاں پالتے اور ان کی نگہداشت کرتے تھے۔ بزدار کا مطلب ہی چرواھا ہے یہ خاندانی نام ان کے قدیم پیشے کی وجہ سے ہے۔ یہ پیغمبری پیشہ ہے۔ وسیع معنوں میں دیکھا جائے تو حکمران یا قیادت کا مقام بھی وہی ہے جو بھیڑ بکریوں کے ریوڑ میں ایک چرواہے کا ہوتا ہے۔ عیسائیوں کی مذہبی کتابوں میں حضرت عیسیٰ کو The schepherd ( شیفرڈ) یعنی چرواھا کہا گیا ہے۔ دوسری جانب عوام کو عربی میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھیڑ بکریوں کی طرح ہوتے ہیں ۔ یہاں سے ہی بھیڑ چال کی اصطلاح وجود میں آئی۔ عثمان بزدار کے لیے پنجاب کے 12 کروڑ عوام کو کنٹرول کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے یہ کام وہ نسل در نسل کرتے آ رہے ہیں۔ ان کی کامیابی کا ثبوت یہ ہے کہ حالیہ قانون سازی کے ذریعے انہوں نے ثابت کروایا ہے کہ تم سب بھیڑ بکریاں ہو اور یہ چرواہے کی مرضی ہے کہ وہ آپ کو کمانے کو کچھ دے یا نہ دے۔

اس بل کے بارے میں پورے قومی میڈیا میں شور مچا ہوا ہے اور اس کے مندرجات پر بحث ہو رہی ہے آپ نے دیکھا ہو گا کہ پارٹیوں کے تمام سیاستدان اس معاملے میں حکومت کے ساتھ ہیں پنجاب اسمبلی کی تاریخ کا پہلا قانون ہے جو بغیر بحث مباحثے کے صرف ایک دن میں پاس ہو گیا۔ گویا ایک دن شادی اور اگلے دن بچے کی پیدائش۔ یہ فطری طور پر غیر منطقی مگر آئینی طور پر ممکن ہے۔ لہٰذا یہ ہو گیا ہے ۔

اس قانون کے بارے میں اہم ترین بات نہ تو آئینی ماہرین کر رہے ہیں نہ سیاستدان اور نہ ہی میڈیا ہر ایک لکیر پیٹنے میں مصروف ہے۔ بہت سے ممالک میں یہ اخلاقی اصول طے پایا ہے کہ اگر پارلیمنٹ اپنی تنخواہوں یا مراعات میں اضافے پر قانون سازی یا ترمیم کرتی ہے تو اس کا اطلاق آنے والے الیکشن کے بعد نئی پارلیمنٹ پر نافذ العمل ہوتا ہے۔ اس کی روح یہ بھی ہے کہ کوئی بھی سرکاری عہدیدار اپنی تنخواہ کا تعین خود نہیں کر سکتا۔ لیکن ہمارے ہاں یہ اخلاقی سخاوت آئین کا حصہ نہیں جو اسمبلی ایک دن میں یہ قانون پاس کر سکتی ہے عدالتی طور پر پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے نا اہل شخص بھی اپنی پارٹی کا سربراہ بن سکتا ہے۔ اور یہ قانون پاس بھی ہو جاتا ہے۔ ایسا قانون کیوں نہیں لایا جاتا کہ تنخواہوں میں اضافے پر عمل در آمد اگلے Tenure سے لاگو ہو گا تو یہ سارا قصہ ختم ہو جاتا ہے۔

جسٹس افتخار چوہدری اور جسٹس ثاقب نثار میں سے کوئی ہوتا تو اب تک اس پر suo moto آ چکا ہوتا۔ جب فہمیدہ مرزا کے لیے بطور سابق سپیکر لائف ٹائم مراعات کا قانون پاس کیا گیا تو اعلیٰ عدالت نے اس کو ساقط کر دیا تھا۔ عثمان بزدار کا کیس 100 فیصد وہی ہے۔

بہر حال وزیر اعظم عمران خان نے اس بل کو روک کر ثابت کر دیا ہے کہ کچھ یوٹرن اچھے ہوتے ہیں۔


ای پیپر