صرف قراردادیں ہی کیوں ؟
15 مارچ 2019 2019-03-15

سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر کے صوبے کے تمام اسکولوں کو پابند کیا ہے کہ سندھی لازمی طور پر پڑھائیں۔ قرارداد کے پس منظر میں وزیرتعلیم سردار علی شاہ نے زبردست قسم کی سندھ دوست اور سماج دوست باتیں کی۔ بلاشبہ یہ قرارداد سندھ کے ہر باسی کی سوچ کی عکاسی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف باتیں کرنا ہی کافی ہے؟ کیا عملی حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہونی چاہئے؟ سندھ کے لوگوں کو شاید خوشی ہوتی اور عملی طور پر کچھ ہوتا ہوا نظر آتا اگر وزیر تعیلم یا وزیراعلیٰ سندھ ان اسکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا نوٹیفیکیشن منسوخ کرتے جو سندھی نہیں پڑھاتے۔ ایسا ہوتا تو لوگوں کو سمجھ میں آتا کہ سندھ حکومت صرف سندھ کارڈ کھیلتی نہیں بلکہ سندھ کاز کے لئے کچھ کر کے دکھاتی ہے۔ وزیراعلیٰ یا وزیر تعلیم سندھی نہ پڑھانے والے اسکولوں کے کرتوت عوام کے سامنے لے آتے تو اچھا تھا۔

وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے بھارت میں کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ وہاں سندھی سمیت 36 زبانوں کو قومی زبان کا رتبہ حاصل ہے۔ لیکن انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا پاکستان میں سات زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے سے متعلق بل قومی اسمبلی میں کئی برس سے رکا ہوا ہے اس کے لئے کوئی خط وکتابت کی؟ اس سے قبل وزیرتعلیم قومی اسمبلی میں زیر التوا بل پر افسوس کا اظہار کر چکے ہیں۔ لیکن سندھ کو افسوس کے بجائے عمل کی ضرورت ہے۔ سندھ کے عوام جانتے ہیں کہ سندھ اسمبلی یہ قرارداد 2010، مارچ 2011 ، اور ستمبر 2016 میں بھی منظور کر چکی ہے۔ ان قراردادوں کا نتیجہ کیا نکلا؟ حیرت کی بات ہے کہ جو کام حکومت کو کرنے ہیں وہ کرنے کے بجائے دلاسے کیوں دیئے جارہے ہیں؟

حالیہ قرارداد کے بعد سندھ کے لوگ سوچنے لگے ہیں کہ آخر کیوں قرارداد کے اوپر قرارداد منظور کی جارہی ہیں؟ اس کی کیا ضرورت پیش آرہی ہے؟ اور یہ کہ حالیہ اور ماضی کی قراردادوں میں فرق کیا ہے؟

سندھ میں ساڑھے بارہ ہزار نجی اسکول ہیں۔ ان میں سے اگر چالیس پچاس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی تو لگتا کہ سندھ حکومت سندھی زبان کو رائج کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔ جن نجی اسکولوں کے خلاف کارروائی کی بات کی جارہی ہے وہ اسکول سندھ حکومت کی حیثیت کو ہی نہیں مانتے۔

حکومت سندھ کی جانب سے نجی اسکولوں میں سندھی کی لازمی تدریس کا قانون ایسا ہی ہے جیسا ٹرانسپورٹ میں کرایوں کے نفاذ کا قانون۔ سرکاری طور پر کرایے ایک ہوتے ہیں لیکن بسوں، ویگنوں اور کوچز میں مقررہ کرایے سے دگنا، اور تین گنا کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ کرایہ ناموں کے ایسے متعدد نوٹیفکیشن ہر ضلع اور ڈویژن میں پڑے ہوئے ہیں لیکن ان کی حیثیت ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں۔ ایسے میں سندھ اسمبلی کے حالیہ قرارداد سے کیا فرق پڑے گا؟

1973ء سے سندھی کو صوبے میں ایک قانون کے ذریعے سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ پھر کیوں سندھ کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں خط و کتابت کے لئے انگریزی استعمال کی جاتی ہے؟ 1972ء کے قانون میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ دفتری زبان سندھی ہوگی۔ صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں سندھی لازمی طور پر پڑھائی جائے گی۔ اس قانون کے تحت سندھ حکومت کو اختیار ہے کہ وہ سندھی زبان کے فروغ کے لئے قواعد و ضوابط بنا سکتی ہے۔ اس قانون میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے کے محکموں اور اداروں میں سندھی زبان رائج کرنے کے مکمل اختیارات رکھتی ہے۔ اسی طرح سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز ایکٹ 2005 کے تحت بھی سندھ حکومت نجی تعلیمی اداروں میں اپنی پالیسیاں نافذ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اور نجی تعلیمی ادارے سندھی زبان کی تدریس کے پابند ہیں۔ لیکن عملی طور پر صوبے میں تقریبا تمام نجی اسکول سندھی کو لازمی مضمون کے طور پر نہیں پڑھاتے۔ یہاں تک کہ کراچی کے تعلیمی اداروں سے سندھی زبان نکال دی گئی ہے۔ ایک خاص گروہ کو خوش کرنے کے لئے ہمارے رہنماؤں نے بھی سندھی زبان کی کراچی بدر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اب صرف سندھ کارڈ کا کھیل نہیں چلے گا حکومت کو عملی طور پر کچھ کر کے دکھانا پڑے گا۔

سندھ میں بڑھتی ہوئی غربت کے عنوان سے روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ ٹنڈوالہیار کے قریب کولہی برادری کی ایک خاتون دھرمی کولہی کی خودکشی کی خبر سے صوبے میں غریب طبقے کے لوگوں کی خود کشی کے واقعات میں ایک اور اضافہ ہوگیا۔خودکشی کرنے والی خاتون کسان تھی۔ سندھ کے غریب طبقے کے افراد کی روز انہ خودکشی کے واقعات بتاتے ہیں کہ صوبے میں معاشی طور پر زندگی کی اذیت اب موت کی اذیت سے بدتر ہو تی جاررہی ہے۔ کہ لوگوں کو اب موت کا تصور اتنا تکلیف دہ محسوس نہیں ہوتا۔ نچلے طبقے کا معاشی استحصال انہیں خود کشی کے بارے میں سوچنے اور اس پر عمل کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتیں اپنے لوگوں کو کس معیار کی زندگی دے رہی ہیں۔

خودکشی کرنے والوں میں اکثریت کا تعلق کولہی، بھیل اور میگھواڑ برادریوں سے ہے۔ خودکشی کرنے والے کسان اور مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں خود کشی کے واقعات زیادہ ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ سال تھرپارکر میں خودکشیوں کا رجحان زیادہ دیکھا گیا۔ خاص طور پر تھر اور دیگر ایسے پسماندہ علاقے جہاں زراعت زیادہ نہیں، وہاں پسماندہ اور غریب لوگ مائکروفنانس بینکوں اور این جی اوز کی طرف دیکھتے ہیں۔ مائکر و قرضہ جات دینے والے اداروں کا تھر کے علاقے میں کئی سال سے وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔ جو غریب لوگوں کو سود پر قرضے دیتا ہے ۔ اور بعد میں ماہانہ وصولی کرتا ہے۔ بعض خاندان ایسے ہوتے ہیں جو قرضے کی قسط دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ قرض خواہان ادائیگی کرنے کی صورت میں انہیں ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ نتیجے میں گھر کے بڑے کے پاس سوائے خود کشی کے کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ سندھ کے وہ علاقے جہاں زراعت بہتر ہوتی ہے، وہاں کا غریب طبقہ بھی قرضے کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔ لیکن یہاں پر خودکشی کی وجہ بینک قرضوں کے بجائے زمیندار کا استحصال ہے۔

یہ سوال سندھ حکومت پر اٹھتا ہے کہ آخر عام آدمی قرضہ لینے پر مجبور کیوں ہوتا ہے؟ پیپلزپارٹی کے منشور میں موجود کسان اور مزدور کا نعرہ ہونے کے باجود پارٹی مسلسل تیسرے دور حکومت میں بھی ان طبقات کے لئے کوئی پیکیج نہیں دے سکی۔ جس سے ان کے حالات زندگی میں تبدیلی آسکے۔ اور نہ ہی نچلے طبقے کے لئے حکومت اتنی ملازمیں پیدا کر سکی ہے۔ بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کے تحت پانچ ہزار روپے دینے کے بجائے لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع کا بندوبست کرے۔ تاکہ غریب طبقہ بھی زندگی گزار سکے۔


ای پیپر