Photo The West Australian

مسجد النور اور مسجد لنٹن میں اندھا دھند فائرنگ، وزیراعظم کا ردعمل آگیا
15 مارچ 2019 (09:46) 2019-03-15

نیوزی لینڈ دہشتگردی کا نشانہ بن گیا، کرائسٹ چرچ کی مسجد النور اور مسجد لنٹن میں مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ۔ 9 نمازی شہید، متعدد زخمی ہو گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق مسجد میں ایک مسلح شخص داخل ہوا اور خودکار ہتھیار سے فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ آور ہیلمٹ میں لگے کیمرے سے واردات کی ویڈیو لائیو اسٹریمنگ کرتا رہا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے مسجد کو گھیرے میں لے لیا اور لوگوں کو علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی جبکہ کرائسٹ چرچ کے گرجا گھر اور سکول بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق فائرنگ نماز جمعہ کے شروع ہونے کے 10 منٹ بعد کی گئی۔ مسجد النور میں 3 سو نمازی موجود تھے جن میں بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی شامل تھی۔ حملہ آور جدید ہتھیاروں سے لیس اور پیٹرول بموں سے بھری گاڑی کیساتھ پہنچا۔

پولیس نے ایک حملہ آور کو گرفتار کرلیا جس کی شناخت برینٹن ٹیرینٹ نام سے کی گئی جس کا تعلق آسٹریلیا سے بتایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق حملہ آور فوجی وردی میں ملبوس تھے شناخت چھپانے کے لئے کالی ہیلمٹ پہن رکھی تھی۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم جیسنڈا آرڈان نے حملے کو دہشتگر دی قرار دے دیا۔ واقعے کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ آج نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ حکومت حملے کی مذمت کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم سے تحقیقات جاری ہیں، فی الحال تفصیلات نہیں بتاسکتے۔ فائرنگ کی زد میں آنے والے زیادہ تر پناہ گزین ہیں۔

نماز جمعہ کے لیے آنے والی بنگلہ دیشی ٹیم بھی فائرنگ کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئی۔ بنگلہ دیشی کپتان کا کہنا ہے کہ بھاگ کر جان بچائی تمام کرکٹرز خیریت سے ہیں۔

نیوزی لینڈ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے مطابق کرائسٹ چرچ فائرنگ کے واقعے میں کسی پاکستانی کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں۔


ای پیپر