”تمام صوبائی اسمبلیوں میں تنخواہیں برابر کر دیں“
15 مارچ 2019 2019-03-15

وزیراعظم عمران خان نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی جانب سے اراکین اسمبلی، وزراءخصوصا وزیراعلیٰ کی تنخواہوںاور مراعات میں اضافے کا فیصلہ سخت مایوس کن ہے۔ پاکستان خوشحال ہوجاے تو شاید یہ قابل فہم ہو مگر ایسے میں جب عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے بھی وسائل دستیاب نہیں، یہ فیصلہ بالکل بلاجواز ہے۔ بہت ساروں نے اس ٹوئیٹ پر اسی طرح تالیاں بجانی اور ناچنا شروع کر دیا ہے جس طرح وہ دھرنوں میں ناچا کرتے تھے یعنی دماغ کو تکلیف دئیے اورسوچے سمجھے بغیر۔ گورنرپنجاب چودھری سرور نے بھی اس مسودہ قانون پر دستخط کرنے سے انکا ر کر دیا ہے جو پنجاب اسمبلی میںایک روز پہلے ہی متفقہ طور پر منظور کر کے بھیجا گیا تھا اور میرے خیال میں وزیراعظم اور گورنر نے ارکان کی تعداد کے حوالے سے ملک کے سب سے بڑے جمہوری ایوان کی توہین کی ہے۔

اگر آپ بھی تالیاں بجانے والوں میں شامل ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ارکان اسمبلی تو چور اور ڈاکو ہوتے ہیں لہذا انہیں تنخواہوں کی کوئی ضرورت نہیں تو میں اس ’سویپنگ سٹیٹمنٹ ‘کے ساتھ نہیں جا سکتا۔ میں دیگر مراعات کی تفصیلات میں جا کے معاملے کو کنفیوژ نہیں کرنا چاہتا ،حقیقت یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ارکان کی بنیادی تنخواہ اس وقت اٹھارہ ہزار روپے ماہانہ ہے جو شہباز شریف کے دور میں بارہ ہزار روپوں سے بڑھا کے کی گئی تھی اور کیا یہ دلچسپ امر نہیںکہ عمران خان کی جماعت کی حکومت نے خیبرپختونخواہ میںدو برس پہلے ایم پی ایز کی تنخواہ اسی ہزا روپے کر دی تھی۔ مزید دلچسپ امر یہ ہے کہ اس وقت تنخواہ کے حوالے سے ارکان کی سب سے زیادہ بلوچستان اسمبلی والے وصول رہے ہیںجو تین لاکھ روپے ماہانہ ہے، دوسرے نمبر پر قومی اسمبلی ہے جہاں ایک ایم این اے ڈیڑھ لاکھ روپے تنخواہ لے رہا ہے، خیبرپختونخواہ کی اسی ہزار تنخواہ پہلے بیان ہو چکی، سندھ اسمبلی کے ارکان کی بنیادی تنخواہ پچاس ہزار روپے ہے یعنی خان صاحب جو مراعات دو،اڑھائی برس پہلے خیبرپختونخوا کے ارکان اسمبلی کو دے چکے ہیں، وہ اب پنجاب کے ارکان کو دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ پنجاب کے ارکان سے اسی طرح کی دشمنی ہے جیسے عوامی سہولیات کی میٹرو اور اورنج لائن جیسے منصوبوں کی مخالفت کر کے کی جارہی تھی۔

تنخواہوں میں آپسی تقابل کے بعد دوسرا موازنہ خطے میں ہوسکتا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق انڈیا اپنے ہر رکن پارلیمنٹ پردو لاکھ اسی ہزا ر روپے یعنی پانچ لاکھ پاکستانی روپوں سے بھی زیادہ خرچ کر رہا ہے حالانکہ پاکستان اور انڈیا کے حالات ایک جیسے ہی ہیں۔ تنخواہوںمیں تیسرا موازنہ بیوروکریسی سمیت دیگر اداروں کے ساتھ ہو سکتا ہے اور برسبیل تذکرہ صرف اتنا بتا دینا ہی کافی ہے کہ ہائی کورٹ کے ایک جج کی تنخواہ او رمراعات بارہ لاکھ روپے ماہانہ سے زائد ہیں جبکہ دوسری طرف سرکار جب بیوروکریسی میں پروفیشنلز کو شامل کرتی ہے تو اس اس کے لئے خصوصی پیکجز ہیں جو ایم پی ون، ٹو اور تھری کے نام سے موسوم ہیں۔ ایم پی ون کی تنخواہ اس وقت پانچ لاکھ کے لگ بھگ، ایم پی ٹو کی تنخواہ ساڑھے تین لاکھ سے زائد جبکہ ایم پی تھری کی تنخواہ بھی دو لاکھ سے زائد ہے اور اگر آپ معمول کے گریڈز کی بات کریں تو اس وقت ایم پی اے کی تنخواہ گریڈ انیس اور بیس کے سینئر افسران سے بھی بہت کم بنتی ہے جسے گریڈ بیس کے برابر لایا جا رہا تھا۔

بات صرف اتنی ہے کہ کچھ لوگ سیاستدانوں کو گالی دینے کی ڈیوٹی پر ہیں اور وہ خاص طور پر پنجاب کے سیاستدانوںکو ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمارے کچھ سیاستدان ذلیل ہونا بھی چاہتے ہیں جیسے کہ نئے مقرر کئے گئے وزیر اطلاعات پنجاب صمصام بخاری۔ وہ تنخواہوں میںا ضافے کے حق میں تھے اور اس کی باقاعدہ ووکالت کر رہے تھے مگر جیسے ہی وزیراعظم کاٹوئیٹ آیا انہوں نے فوری طور پر یوٹرن لے لیا ورنہ اندیشہ تھا کہ وہ نئی نویلی وزارت سے ہی واپس گھر نہ بھیج دئیے جائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کسی اصول اور ضابطے پر سیاست نہیں کرتے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ پنجاب میں حکمران جماعت نے ایک فیصلہ کیا اور اپوزیشن کو اپنے ساتھ لیا۔ اپوزیشن کے ایک رکن کے ذریعے مسودہ قانون پیش کروایا گیا اور اسے وزیر قانون نے راتوں رات منظور بھی کروایا مگراس کے ساتھ ہی ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی والے جو بھی فیصلہ کرتے ہیں وہ بغیر کسی ہوم ورک کے کرتے ہیں اور ان کی سیاست کا سب سے بڑا اصول ہی یہ ہے ان کا کوئی اصول نہیں ہے۔

ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں پر مزید دو طرح سے تنقید ہو رہی ہے اور ارکان کی طرف سے خود اپنی تنخواہوں میں اضافے کو مفادات کا ٹکراو کہاجا رہا ہے اور دانش وڑی کی جار ہی ہے کہ ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا اختیار کسی دوسرے ادارے کے پاس ہونا چاہئے یعنی مطالعہ پاکستان پڑھتے پڑھتے ہم ذہنی طور پر قائل ہوچکے ہیں کہ پارلیمنٹ مدر آف دی آل انسٹی ٹیوشنز نہیں ہے اوراس کے فیصلے کسی دوسرے ادارے کو کرنے چاہئیں۔ مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اگر آپ پارلیمنٹ کی تنخواہوں کے تعین کا اختیار کسی دوسرے ادارے کو دے دیں گے تو آپ پارلیمنٹ کو اس کے نیچے لگا دیں گے جو اس وقت بھی نجانے کس کس کے نیچے لگی ہوئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جب یہی فیصلے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہورہے تھے تو تب مفادات کے ٹکراو کا اصول کہا ں تھا کہ وہاں کی اسمبلی اس بارے باقاعدہ قانون منظور کر چکی ہے۔ ثابت یہی ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ پنجاب کے لئے ہے جسے اس کی حقیقی نمائندگی سے بھی محروم کر دیا گیا ہے او راب جوتے بھی مارے جا رہے ہیں۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ فوری طور پر ا س قانون کو منظور کیوں کر لیا گیا جو بچگانہ ہے کہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ایک ماہ بعد تنخواہ میں اضافہ کیا جاتا اوراس کا اطلاق اسمبلی کے پہلے دن سے کر لیا جاتا تو وہ عین قانونی قرار پاتا۔

یہ ایک خاص طبقہ ہے جو چاہتا ہے کہ اسمبلیوں میں ہمیشہ جاگیردار اور سرمایہ دار ہی رہیں اور جو سیاسی کارکن کسی طرح ٹکٹ حاصل کر کے اسمبلی میں پہنچ بھی جائیں تو ان کی اہمیت مراثیوںر سے زیادہ نہ ہو۔ میرے خیال میں تنخواہیں زیادہ کرنے کی مخالفت کرنے کی بجائے ہمیں اس امر پر زور دینا چاہئے کہ ہمار ے ارکان اسمبلی ہمارے مفادات کی زیادہ بہتر انداز میں ترجمانی کریں۔ مختلف محکموں پر احتساب کرتے ہوئے زیادہ بہتر سوالات اور تحاریک التوائے کار پیش کریں، وہ مسودہ ہائے قوانین پر اپنی بحث اور شرکت کے معیار کو بہتر بنائیں اور اتنے جرات مند ہوجائیں کہ حق اور سچ بات کو ڈیفنڈ کر سکیں۔ قومی ہو یا صوبائی اسمبلی، اس کے ارکان اس لئے نہیں ہونے چاہئیں کہ وہ کچھ خاص میٹنگوں میں کئے گئے فیصلوں پر دوسروں پر حملہ آور ہوں۔ انہیں اپنی عزت اور وقار کا تحفظ کرنا چاہئے اور رہ گئی بات دولت مند ارکان اسمبلی کی تو انہیں از خود ہی تنخواہ او رمراعات سے دستبردار ہوجانا چاہئے جس کی بہت ساری مثالیں موجو د ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت میںجو شے سب سے عنقا ہے وہ انصاف ہے۔ عمران خان کی جماعت جوتنخواہ دو برس پہلے جنوری میں خیبرپختونخوا کے ارکان اسمبلی کودے چکی ہے وہ اب دو برس کے بعد بھی پنجاب کے ارکان کو نہیں دینا چاہتی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پنجاب کوپڑنے والے جوتے ارکان اسمبلی تک پہنچ رہے ہیں اور ان جوتوں پر ہونے والی واہ واہ سے سیاسی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے حالانکہ اگر انصاف ہی کی بات کی جائے تو پھر عمران خان صاحب کویہ ٹوئیٹ کرنا چاہئے اور وفاق کو مداخلت کرتے ہوئے تمام صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی تنخواہیں او رمراعات یکساں کروا دینی چاہئیں یعنی اگر آپ ملکی معیشت بارے پریشان ہیں توقومی اور تمام صوبائی اسمبلیوںکے ارکان کی تنخواہ بھی اٹھارہ ہزار روپے کر دیں ورنہ پنجاب کی تنخواہ بھی اپنی حکومتوں والی اسمبلیوں کے برابر کر دیں۔ درخواست یہی ہے کہ پنجاب کو کمی کمین سمجھنا چھوڑ دیں کہ اگر یوٹرن لیتے ہوئے کچھ ارکان اسمبلی نے اس ٹوئیٹ پرواہ واہ بھی کی ہے تو ایسے خوشامدی تمام صوبوں میں موجود ہیں لہذا صرف پنجاب کو جوتے مارنا درست نہیں۔ پنجاب والوں نے کچھ نہیں کیا صرف اپنی تنخواہیں خیبرپختونخواہ کے برابر ہی کی ہیں۔


ای پیپر