سابق افغان سفیر ملاعبدالسلام ضعیف سے انٹرویو!
15 مارچ 2018



28فروری2018ء کوافغان دارالحکومت کابل میں"کابل پراسس"کینام سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔جس میں پاکستان سمیت 25ممالک کے نمائندیشریک ہوئے۔ پاکستان اورکابل حکومت نے طالبان کو سیاسی قوت تسلیم کرتے ہوئے انہیں افغانستان کے سیاسی نظام میں شمولیت کی دعوت دی۔لگ بھگ 17سال کے طویل عرصے بعد افغان طالبان کو سیاسی قوت تسلیم کرکے انہیں افغانستان کے سیاسی نظام میں شمولیت کی دعوت دینا نہ صرف امریکا سمیت عالمی طاقتوں کی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے،بلکہ افغان طالبان کی جنگ میں فتح کی علامت ہے۔یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ امریکا نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر جو چڑھائی کی تھی وہ غلط تھی اور افغان طالبان کے ساتھ امریکا کی جنگ امریکی تاریخ کی وہ بدترین جنگ تھی ،جس میں امریکا کو اربوں ڈالر ضائع کرکے اور ہزاروں جانیں دے کربے انتہا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔
سوال یہ ہے کہ کیا افغان طالبان امریکا سمیت عالمی طاقتوں کی طرف سے دی گئی سیاسی قوت کی آفر کو قبول کریں گے یا نہیں؟ اطلاعات کے مطابق طالبان نے افغان حکومت سے مذاکرات کی بجائے براہ راست امریکا سے مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔لیکن اس سوال کا تسلی بخش جواب جاننے کے لیے راقم نے وصال اردو پر اپنے لائیو پروگرام"بات چیت" کے لیے نائن الیون سے پہلے پاکستان میں افغان طالبان حکومت کی طرف سے سفیر رہنے والے ملاعبدالسلام ضعیف سے انٹرویولیا۔ ملاعبدالسلام ضعیف کو پاکستان سے گرفتار کرکے 2002ء میں امریکا کے حوالے کیا گیا تھا۔امریکا نے انہیں تقریبا 3سال گوانتانامو بے جیل میں رکھا۔بعدازاں 2005ء میں رہاکردیا گیا۔ ملاعبدالسلام ضعیف کئی بار افغان طالبان اور کابل حکومت کے درمیان عالمی سطح پر مذاکرات کرواتے رہے ہیں۔امریکا نے انہیں 2010ء تک عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے رکھا،بعدازاں انہیں اس فہرست سے نکال دیاگیا۔ افغان طالبان کو کابل حکومت کی طرف سے سیاسی قوت تسلیم کیے جانے پر ان سیدرج ذیل سوالات کیے،جن کا انہوں نے تسلی بخش جواب دیا۔
سوال: افغان طالبان کو سیاسی نظام میں شامل ہونے کی دعوت کیوں دی گئی؟۔
جواب:"امریکا سمیت کابل حکومت افغانستان میں اب تک امن قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اس لیے پہلی بات یہ ہے کہ وہ افغان عوام کو اب یقین دلانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے دہشت گردوں کا افغانستان سے خاتمہ کردیا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ وہ عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں انہوں نے افغانستان کو ترقیاتی ملک بنادیا ہے۔تیسری بات یہ ہے کہ وہ افغان عوام کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ انہوں نیافغانستان میں سیکورٹی کے مسائل کو حل کرلیا ہے۔میرے خیال میں یہ تین بڑی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے طالبان کو سیاسی نظام میں شمولیت کی دعوت دی۔لیکن وہ ابھی تک افغان طالبان کی مزاحمت کاسامنا کررہے ہیں"۔
سوال:کیا طالبان اپنی ماضی کی جدوجہد کو بھلا کر اب سیاسی نظام میں شامل ہوجائیں گے؟۔
جواب:(1)"طالبان نے ابھی تک سیاسی نظام میں شمولیت کی افغان دعوت کو قبول نہیں کیا۔ابھی تک طالبان کابل حکومت کو غیر آئینی حکومت تصور کرتے
ہیں۔(2) افغان طالبان افغانستان کو تمام فوجوں سے آزاد کروانا چاہتے ہیں۔(3) افغان طالبان افغانستان میں اسلامی حکومت اور اسلامی اسٹیبلشمنٹ لانا چاہتے ہیں۔میرے خیال میں کابل حکومت طالبان کے ان مقاصد کو نہیں سمجھ رہی۔بعض طالبان کا یہ خیال ہے کہ دراصل افغان طالبان کو سیاسی قوت تسلیم کرنے کے پیچھے سازشی تھیوری موجود ہے۔اس لیے وہ آفر کو قبول نہیں کررہے۔
سوال:طالبان کو سیاسی نظام میں شامل کروانے کے لیے کون زیادہ متحرک ہے؟
جواب: "میرے خیال میں کابل حکومت یہ کوشش کررہی ہیکہ طالبان ان کے ساتھ سیاسی نظام میں شریک ہوجائے ،حکمت یار کی طرح۔پاکستان بھی اس آئیڈیا کو سپوٹ کررہاہے اور افغان حکومت کے ساتھ مل کرطالبان کو سیاسی دھارے میں لانا چاہتاہے امریکی پریشیر کی وجہ سے ۔امریکی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ علاقے میں جو کچھ ہورہاہے وہ امریکی مفاد کے خلاف ہے۔انہیں معلوم ہے کہ جو حشر روس کے ساتھ اس علاقے میں ہوا ،وہی اب امریکا کے ساتھ ہو رہا ہے۔اس لیے اب وہ مسائل کھڑے رہے ہیں۔لیکن افغان طالبان اب اس علاقے میں امریکا کو محفوظ راستہ نہیں دیں گے"۔
سوال:کیا پاکستان افغان طالبان کے سیاسی نظام میں شمولیت کاحامی ہے؟
جواب:"میرے خیال میں پاکستان طالبان کے سیاسی نظام میں شمولیت کا شدید خواہاں ہے۔کیوں کہ پاکستان کو امریکا اور اقوام متحدہ کی طرف سے طالبان کی حمایت کے الزامات کا سامناہے۔لیکن طالبان پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے ان مطالبات کو اس وقت تک نہیں مانے گا جب تک قابض فوجیں یہاں سے نہیں نکل جاتیں۔یہی وجہ ہے کہ امریکا اب بلاواسطہ اور بالواسطہ مسائل کھڑے کررہاہے"۔
سوال:افغانستان میں امن کیسے آسکتاہے؟
جواب:"صرف دوچیزوں سے افغانستان میں امن آسکتاہے۔(1)افغانستان سے غیر ملکی قابض فوجیں مکمل طور پر نکل جائیں۔(2)ایمانداری کے ساتھ افغانستان میں مزاحمت کرنے والے تمام فریقین سیمذاکرات کیے جائیں اور مستقبل کے پرامن افغانستان کے لیے دیانت دار حکومتی نظام کے لیے لائحہ عمل بنایا جائے"۔
سوال:افغانستان میں ایران اور انڈیا کی مداخلت کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب:"یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ایران اورانڈیا افغانستان میں مداخلت کررہے ہیں۔بلکہ افغانستان میں ایران 40 سال سیمداخلت کررہاہے۔یہی حال انڈیا،روس،امریکا اور دیگر ملکوں کا ہے۔مگراب ایران اور انڈیا کی سرگرمیاں پہلی کی بنسبت بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔افغانستان کا امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ اپنے تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات قائم رکھے۔
سوال:کیا طالبان تاپی گیس منصوبے کی حمایت کرتے ہیں؟
جواب:"تاپی گیس منصوبہ دراصل طالبان نے شروع کیا تھا۔میں خود انڈسٹریل کا ڈپٹی منسٹر تھا۔ہم نے اس پراجیکٹ کے لیے بہت زیادہ میٹنگ کیں،پاکستان،تاجکستان اور دیگر ملکوں جیسے یونان ارجنٹائن کے ساتھ۔یہ منصوبہ طویل عرصے تک علاقے کی معاشی ترقی،علاقے کی سیکورٹی اور باہمی توانائی کے تبادلے کے لیے بہت سازگارہے۔اس لیے یقیناًیہ منصوبہ بہت زبردست ہے۔طالبان نے اسی ہمیشہ سپوٹ کیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے"۔
نائن الیون کے بعد امریکاکی افغانستان میں مداخلت کے بعد خطے کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو بدقسمتی سے یہاں دہشت گردی اور فسادات اس قدر بڑھے ہیں جن کا تصور اس سے پہلے بالکل نہ تھا۔اس کی بنیادی وجہ جنگ تھی۔جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے،بلکہ مزید بگڑتے ہیں۔چنانچہ اس جنگ میں افغانستان کے بعد پاکستان کا بہت بڑا نقصان ہوا۔ سترہزار جانیں ضائع ہوئیں،اربوں ڈالر پاکستان کے اس جنگ کی بھٹی میں لگے۔اس لیے یہ ایک اچھی پیش رفت ہے کہ پاکستان بھی افغان طالبان کو سیاسی قوت تسلیم کرواکے انہیں سیاسی نظام میں لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس سے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان میں بھی امن وامان کی صورت حال بہتر ہو گی۔ لیکن اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان سمیت افغان حکومت کو بھرپور کوششیں کرنا ہوں گی۔کیوں کہ طالبان کی طرف سے تاحال یہی مطالبہ سامنے آرہاہے کہ جب تک غیرملکی فوجیں افغانستان سے نہیں نکل جاتیں،تب تک وہ کوئی بھی پیشکش قبول نہیں کریں گے۔اس لیے اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اپنی ہٹ دھرمی سے پیچھے ہٹ کر افغان جنگ سے متاثرہ فریقین کو معاملہ حل کرنے کا موقع دے اور خوامخواہ اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا کر خطے کو مزید بدامنی سے دوچار کرنے سے باز رہے۔


ای پیپر