عمران خان کا سیاسی زوال
15 مارچ 2018

سب جانتے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما عمران خان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما میاں نواز شریف پر انگلی اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ لیکن ان کا رویہ اگر پی پی پی کے مرکزی رہنما آصف علی زرداری کے بارے میں دیکھا جائے تو وہ ہمیشہ آصف زرداری پہ انگلی کیا ہاتھ اٹھانے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ وہ زرداری کو بیماری کہا کرتے۔ مگر اب ذرا عمران خان کے کڑھی کے ابال والی سیاست کا انجام ملاحظہ فرمائیے کہ زرداری کی بیماری بنی گالہ پہنچ گئی ہے۔ آصف علی زرداری کے سینیٹ کے چیئرمین کے لیے نامزد نمائندے صادق سنجرانی عمران خان کی حمایت سے سینیٹ کے چیئرمین مقرر ہوگئے ہیں۔ چنانچہ عمران کے تبدیلی والے نعرے کا مطلب اب کھل کر سامنے آگیا ہے۔ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ عمران خان آصف زرداری کو سینما کی ٹکٹیں بیچنے والا بلیکر کہا کرتے۔ مگر اب وہ اسی زرداری کے سامنے گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے نظر آتے ہیں۔ غیر معروف صادق سنجرانی جو آصف زرداری کی آشیرباد سے سینیٹ کے چیئرمین بنے ہیں، کوئی بھی قدم آصف زرداری کی منشاء سے بالا تر ہو کر نہیں اٹھائیں گے۔ ا سی کو کہا جائے گا عمران خان کا اس ملک کی تقدیر بدلنے والا نظر بند انصاف۔ لامحالہ عمران خان کو صادق سنجرانی کو بیچ میں لاتے ہوئے آصف زرداری کی ہر آواز پہ لبیک کہنا ہوگا۔ چنانچہ ملک کی گرتی پڑتی جمہوریت کی گاڑی میں عمران خان اور ان کی پارٹی کی حیثیت ایک سٹپنی سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔ چار پہیوں پہ چلتی ہوئی گاڑی کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ پانچواں پہیہ سٹپنی کہلاتا ہے۔ سٹپنی چار پہیوں میں سے کسی ایک پہیے کے پنکچر ہونے کی صورت میں ایمرجنسی کے طور پر تھوڑے عرصے کے لیے استعمال میں لائی جاتی ہے۔ اپنے اس قسم کے استعمال ہونے کی وجہ سے سٹپنی ایک گھسا پٹا سا ٹائر ہوتا ہے۔ عمران خان کی گھسی پٹی یہ حالت ان کی سوچ اور پالیسیوں نے کردی ہے۔ ذرا آج عمران خان کا معیار تو ملاحظہ فرمائیں۔ (1) جس کو پارٹی کا صدر بنایا اسے مسلم لیگ کا ایجنٹ کہا۔ (2) جس کو ڈاکو اور بلیکر کہا اسے اتحادی بنالیا۔ (3) جس کو چور، جھوٹا کہا اسے اپنا وکیل بنالیا۔ (4) جس نے پارٹی کارکنان کو جانور سے تشبیہ دی اسے پارٹی کا ترجمان بنالیا۔ (5) جسے کرپشن کی ماں کہا اسے پارٹی میں مرکزی عہدہ دے دیا۔ اس سب کا عملی مظاہرہ سینیٹ کے چیئرمین کے چناؤ کے بعد اس وقت دیکھنے میں آیا جب ہال میں ایک زرداری سب پہ بھاری کے نعرے گونج رہے تھے اور تحریک انصاف کے اراکین ڈیسک پیٹ رہے تھے۔
عوام کی بات کرنے والے، غریبوں کی حالت کو سدھارنے والے، عوام کو سیاسی شعور عطا کرنے کا وعدہ کرنے والے عمران خان کیا نہیں جانتے کہ صادق سنجرانی کا عوامی سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا؟صا د ق سنجرا نی کی پہچان ایک کاروباری شخصیت کی ہے۔ ان کا کاروبار بلوچستان کے علاوہ دبئی میں بھی پھیلا ہوا ہے۔ وہ 1998ء میں میاں نواز شریف کے کوآرڈینیٹر رہے۔ بعد میں دس سال انہوں نے حکومت سے کنارہ کشی اختیار کی۔ جب 2008ء میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو انہیں یوسف رضا گیلانی کا کوارڈینیٹر مقرر کیا گیا اور وہ پانچ سال اسی منصب پر فائز رہے۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے چیئرمین کے لیے انوارالحق کاکڑ اور صادق سنجرانی کے نام تجویز کیے تھے جن میں سے پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے صادق سنجرانی کا نام منظور کیا جس کے بعد ان کی نامزدگی کا اعلان کیا گیا۔ قارئین آپ دیکھ رہے ہوں گے کہ سینیٹ چیئرمین کی نامزدگی میں تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عمران خان کا کہیں نام نہیں آیا۔ یہی وہ صورتِ حال ہے جس کی بناء پر ان پہ سٹپنی کی مثال بالکل صادق بیٹھتی ہے۔ یہ نہیں کہ عمران خان کو زندگی میں کبھی جمہوریت کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کا موقع نہیں ملا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں ایسے ایسے مواقع میسر آئے کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ مگر فوراً اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنے میں مشہور عمران خان نے ان مواقع کو مشک کافور کی مانند بھک سے ضائع کرنے میں ذرا دیر نہیں کی۔ آج اگر عمران خان میڈیا کے بارے میں شکایت کرتے ہیں کہ ان کے نجی معاملات پر تبصرہ آرائی کی جاتی ہے تو وہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ میڈیا کو یہ راہ کس نے دکھلائی؟ انہوں نے معاملات کو پبلک کرکے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہا تھا۔ تسلیم کہ اس طرح کے معاملات میں الجھا شخص اپنے دوستوں اور لواحقین سے مشورہ لینا چاہتا ہے لیکن وہ دوست اور لواحقین انتہائی قابل اعتماد ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس خان صاحب جن شخصیات سے یہ مشورے لیتے نظر آئے آج وہی شخصیات اس امر کو اپنی اہمیت جتانے کے لیے استعمال کررہی ہیں۔ بظاہر تو وہ خان صاحب سے ہمدردی کرتے نظر آتے ہیں مگر وہ خان صاحب کے نجی معاملات سے اس حد تک پردہ اٹھاتے ہیں کہ وہ یہ قصہ ان کی جمائما کی طلاق سے شروع کرتے ہیں۔ پھر وہ براستہ ریحام خان ان کی اپنی پیرنی سے شادی پہ لے جا کر ختم کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ ڈھکے چھپے الفاظ میں تبصرہ کرتے ہیں کہ یہ پیرنی ہی کے وظیفوں کا نتیجہ ہے کہ اب عمران خان بطور سٹپنی آصف علی زرداری کی گاڑی سے بندھے نظر آرہے ہیں۔
میں نہیں جا نتا کہ عمران خان کی اس طرح کی کارروائیوں سے خود ان کا اپنا کس قدر نقصان ہوا ہے۔ مگر میں بات کرتا ہوں اس ملک کے سادہ لوح عوام کی۔ جنہوں نے کرکٹ کے ایک کپتان کو ایک بار عالمی چیمپئن کا اعزاز اس ملک میں لانے کی بناء پر اپنا نجات دہندہ سمجھ لیا۔ مگر اس کپتان نے جو عوام کی توقعات کا تابوت بنانا شروع کیا تو ماہِ رواں کی بارہ تاریخ کو سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے موقع پر آصف زرداری کے نمائندے کے پلڑے میں اپنا سارا وزن ڈال کر اس تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دی۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہوگا کہ سینیٹ کے محاذ پر بننے والے اس غیر فطری اتحاد کا مستقبل کیا ہوگا اور اس کے آنے والے انتخابات پر کیا اثرات ہوں گے اور یہ کہ کیا سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے رجحانات کا سلسلہ آئندہ ہونے والے عام انتخابات تک بھی وسیع ہوگا؟ سینیٹ کے انتخابات میں صادق سنجرانی کے چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے پر خود پیپلز پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار کہہ رہے ہیں کہ ’’افسوس صد افسوس! آج ہماری پارٹی نے ایسے بندے کو چیئرمین سینیٹ کے لیے چنا ہے جس کا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی پارٹی۔ جو ووٹ خرید کر سینیٹر بنا ہے۔ اس کو چیئرمین سینیٹ بنانا جمہور کی روایات کی خلاف ورزی ہے۔‘‘ پھر بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اس کا اثر تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین عمران خان پر کچھ اس طرح پڑا کہ مقتدر حلقے کہتے نظر آرہے ہیں کہ ’’پہلے ممبر بکے اور اب لیڈر بک گیا ہے۔ کہاں گیا نظریہ، کہاں گیا وژن اور کہاں گیا وہ فلسفہ کہ ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان‘‘۔ کپتان نے عوام کا اور جمہوریت کا جو نقصان کیا سو کیا، مگر بھلا اپنے ساتھ بھی نہیں کیا۔ ویسے تو یہ وطنِ عزیز کی سیاست ہے۔ یہ ہمیشہ سے غیر متوقع رہی ہے۔ کل نہ جانے کیسا نیا موڑ کاٹے۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں نے ہمیشہ ان غیر متوقع امور سے بالا تر ہوکر سوچنا ہوتا ہے۔ تو ان غیر متوقع امور سے بالا تر ہوکر سوچا جائے تو آئندہ کی سیاست میں عمران خان اور ان کی پارٹی کی حیثیت ایک سٹپنی سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔


ای پیپر