چیئرمین سینیٹ کا انتخاب
15 مارچ 2018 2018-03-15



’’مجھے کیوں نکالا‘‘ یہ سوال نواز شریف وزیراعظم کے عہدے سے ہٹنے کے بعد پوچھ رہے ہیں۔ جن لوگوں نے ابتدا میں نواز شریف کے اس سوال کو غیر سنجیدہ لیا تھا، جب نواز شریف نے کیوں نکالا کے ساتھ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے کو بلند کیا تو نواز شریف کی مقبولیت نہیں بڑھی بلکہ اس نعرے سے ’’مریم نواز‘‘ قومی لیڈر کے طور پر متعارف ہو گئی۔ باپ اور بیٹی نے مل کر سال 2018ء کے آغاز سے ایسا رنگ جمایا کہ ان کا بیانیہ بہت سے لوگوں کو پریشان کرنے لگا۔ نواز شریف کی صدارت سپریم کورٹ کے فیصلے سے ختم ہو گئی۔ 13 مارچ کو نواز شریف مسلم لیگ کی صدارت سے سبکدوش ہوئے تو پنجاب کے خادم اعلیٰ نے یہ منصب حاصل کیا ۔ یہ تقریب کنونشن سینٹر میں ہوئی جہاں نواز شریف نے انتہائی جذباتی تقریر کی۔ وہاں انہوں نے اپنے دوسرے نعرے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کو اپنے منشور کا حصہ بنانے کا اعلان بھی کیا۔ نواز شریف کی تقریر میں سوالات زیادہ تھے ، پوچھا ’’ سینیٹ الیکشن میں بنی گالا اور بلاول ہاؤس ایک ہی بارگاہ میں سجدہ ریز کیسے ہو گئے؟ عوام سے اپیل کی 2018ء کے انتخابات کو ریفرنڈم بنا دو۔ انہوں نے سینیٹ انتخابات اور چیئرمین سینیٹ پر کھل کر تنقید کی۔ ’’ سینیٹ کے انتخابات میں جو کام ہوا پاکستان کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا‘‘۔ اب معاملہ خاصا سنجیدہ ہو رہا ہے۔ جو کچھ ہوا اس سے 1983ء کا احساس محرومی کا نقشہ بھی ابھرے گا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت بلوچستان میں کیسے گری اور سینیٹ کا انتخاب جس طرح ہوا اب نواز شریف نے کھل کر اس کا ذکر کرتے ہوئے پختونخوا ملی عوام پارٹی کے صدر محمود اچکزئی کے الزامات کی روشنی میں تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ نواز شریف نے احتساب عدالت کے باہر کہا کہ ’’ایک آفیسر نے لڑائی کرائی اور بلوچستان حکومت تبدیل کی، آخر وہ کون تھا جس نے عمران خان اور زرداری کو سنجرانی ہاؤس کا پتا دیا تھا۔ اہم سوال تو یہ ہے کیا اس ملک میں جمہوریت نے زندہ رہنا ہے یا ڈکٹیٹر شپ نے؟ اگر خفیہ ہاتھ جن کا نام سیاست دان کھل کر نہیں دے رہے مگر پاکستان کے عام انتخابات اگر 1990ء کی طرز پر ہوئے جس کے بارے میں سپریم کورٹ یہ فیصلہ اکتوبر 2012ء میں دے چکی ہے جس میں مرزا اسلم بیگ اور جنرل (ر) اسد درانی کو 1990ء کے انتخاب میں دھاندلی کا ذمہ دار قرار دیا۔ وہاں یہ بھی کہا تھا کہ یہ ان افسروں کا ذاتی فیصلہ تھا۔ وہاں یہ بھی کہا گیا کہ ’’ایوان صدر میں غلام اسحاق خان کی سربراہی میں دھاندلی کے لیے سیل قائم کیا گیا‘‘۔ سینیٹ کے انتخابات اعلیٰ پارلیمانی آداب کے مطابق نہیں ہوئے۔ سپریم کورٹ کو چاہیے کہ وہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے میدان میں آئے گرچہ وہ پہلے ہی اس کا نوٹس لے چکی مگر سارا زور ایک طرف سیاست دانوں کی طر ف ہے۔ مگر ان خفیہ ہاتھوں کو تلاش کرنے کے لیے چیف جسٹس کو میدان میں آنا چاہیے جس کا شور ہر طرف برپا ہو چکا ہے۔ اگر سینیٹ کی طرز کی جمہوریت کا تجربہ ہونا ہے تو اُن کو کہہ دیا جائے ہماری ’دکان جمہوریت‘ بند ہے آپ جانیں اور آپ کا کام ۔
چیف الیکشن کمشنر سردار رضا نے سینیٹ انتخاب میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات کی تحقیقات کا آغاز تو کر دیا ہے اور اس کے لیے خفیہ اداروں سے مدد لینے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کے یہ پہلے انتخابات ہیں جس نے پاکستان کی جمہوریت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں جو مبینہ خرید و فروخت ہوئی ہے اس نے جمہوریت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ خاص طور پر حاصل بزنجو نے سینیٹ میں جو تقریر کی اس کے کچھ حصوں پر اعتراض کے باوجود اتفاق کیاجاتا ہے۔ انہوں نے جو باتیں کیں وہ بڑی اہم ہیں کیونکہ ساری انگلیاں پیپلزپارٹی
کی طرف اُٹھ رہی ہیں کہ اس میں آصف علی زرداری کی سوچ نمایاں نظر آتی ہے۔ اربوں روپے چلے ہیں یہ الزام ہر طرف سے اٹھا ہے تبھی جا کر ایک زرداری سب پر بھاری نظر آیا ہے اور ایسے نعرے خود سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے لیڈروں نے بھی لگائے۔ تبھی تو سینیٹر حاصل بزنجو کی تقریر نے کافی توجہ لی ہے۔ سینیٹ کے انتخابات کے بعد محسوس ہوا کہ وہ خود نہیں بول رہے اُن کے والد میر غوث بخش بزنجو بول رہے ہوں۔ وہ بلوچستان حقوق کی ایک مضبوط آواز تھی۔ قومی سیاست میں وہ ایوب دور سے ہی حصہ لے رہے تھے۔ وہ پاکستان میں آمرانہ حکومتوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کرتے رہے تھے۔ 1970ء میں بلوچستان میں قومی اسمبلی کی چار نشستیں تھیں وہ نیشنل عوامی پارٹی جو اس زمانے میں ’نیب‘ کے مختصر نام سے پہچانی جاتی تھی کے پلٹ فارم سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 300 کے ایوان میں پیپلزپارٹی کے پاس صرف 83نشستیں حاصل تھیں جبکہ مجیب الرحمن کو 162پر کامیابی ملی تھی۔ جمہوری آداب کو نہ بھٹو نے مانا اور نہ یحییٰ خان نے مانا پھر جو کچھ ہوا ابھی تک اس کی تاریخ درست نہیں بتائی جاتی۔ جو ملک جمہوریت کے نام پر بنا تھا جمہوریت سے انکار پر وہ ٹوٹ گیا ۔ اگر کسی میں ہمت ہے تو ہماری تاریخ کا المناک چہرہ حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ شائع کر کے دکھا دیا جائے ہونی تو ہو کر رہتی ہے۔ جمہوریت بحال کیا ہوئی ملک ہی ٹوٹ گیا بھٹو جس کی پارٹی عوام کی طاقت کو سرچشمہ سمجھتی تھی وہ بھٹو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر پاکستان بن گئے، شاید یہ اس زمانے میں بہترین آپشن تھی اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ بھٹو صاحب کو چاہیے تھا سانس لے لیا تھا جمہوریت فوری بحال کرتے جو کام کرنا چاہیے تھا نہیں کیا اس زمانے میں حاصل بزنجو کے والد نے جمہوریت کو پٹری پر چڑھانے کے لیے شاندار کردار ادا کیا۔ ولی خان مشرقی پاکستان ٹوٹنے کے بعد پارلیمنٹ کے اندر بھٹو کے بہت بڑے ناقد تھے۔ جس کی اہم وجہ یہ تھی ولی خان اور مولانا مفتی محمود اس زمانے میں اتحادی تھے ۔ بلوچستان اور صوبہ سرحد میں ان جماعتوں نے شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ خاص طور مولانا مفتی محمود نے تو 1970ء کے انتخاب میں ذوالفقار علی بھٹو کو ڈی جی خان کے قومی حلقے سے عبرت ناک شکست دی تھی۔ ولی خان چاہتے تھے جمہوریت بحال ہو، بھٹو چیف مارشل کا عہدہ چھوڑ دیں تاکہ دو صوبوں میں ان کی حکومتیں قائم ہوں ۔ یہاں تو یہ معاملہ ہو گیا جمہوریت کا مطالبہ کرنے پر پیپلزپارٹی کا ہر چھوٹا بڑا لیڈر ولی خان کے خلاف بیانات داغنے لگا۔ انتقال اقتدار ہوا تو تین جماعتوں کے درمیان انتقال اقتدار کا معاہدہ ہوا۔ بلوچستان میں گورنر کا عہدہ غوث بخش بزنجو کے حصہ میں آیا۔ اہم بات یہ ہے کہ 1973ء کے متفقہ آئین پر اتفا ق رائے قائم کرنے میں حاصل بزنجو کا بڑا حصہ تھا۔ پھر بھٹو کے دور میں اُن پر غداری کا الزام لگا۔ حیدر آباد کی جیل میں نیپ کے دیگر لیڈروں کے ساتھ اُن پر بھی غداری کا الزام لگایا۔ بھٹو نے یہ مقدمہ چلانے اور سزا دینے کے لیے نہیں بنایا تھا بلکہ ان کو غدار کی حیثیت سے بدنام کرنے کے لیے بنایا تھا۔ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ بھٹو ان سے جمہوری اور سیاسی انداز سے نمٹتے مگر افسوس کی بات تو یہ تھی ضیاء الحق نے مارشل لاء لگانے کے بعد حیدر آباد ٹربیونل توڑ دیا اور غداری کا یہ مقدمہ ختم ہو گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ولی خان نے بیگم نسیم کے ہمراہ ضیاء الحق سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں جنرل کے ایم عارف بھی موجود تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’ضیاء الحق کے ہمراہ‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ ولی خان نے بھٹو کو سانپ قرار دیا اور اسے کچلنے کا مشورہ دیا۔ اگر چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کو دیکھا جائے تو سیاست دانوں نے جو کردار ادا کیا وہ کافی افسوسناک ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 25 سال سے جاری بیانیہ بدل لیا اور پیپلزپارٹی سے ہاتھ ملا لیا ہے۔ اب دونوں شرمسار ہیں۔ کیوں شرمسار ہو جو کام ڈنکے کی چوٹ پر کیا ہے مانو یہ معاملہ ختم نہیں ہوا، اور آگے بڑھے گا، جن خفیہ ہاتھوں نے کام لینا تھا لے لیا، اب 2018ء کے انتخاب میں جوتوں میں دال بٹے گی۔ عمران خان کا کافی نقصان ہوا ہے۔ مسلم لیگ تو پہلے ہی رضا ربانی کو چیئرمین بنا رہی تھی۔ عمران خان کافی وضاحتیں دے رہے ہیں مگر مولا بخش چانڈیو اور سید خورشید علی شاہ کپتان کو شرمندہ بھی کر رہے ہیں۔ دو دن بعد صورت حال یوں ہے اب پیپلزپارٹی اور کپتان دونوں حلیف ہونے کے تاثر کو مٹانے کا تاثر دے رہے ہیں۔ اب کیا حاصل کیونکہ استعمال کرنے والوں نے، کپتان اور زرداری سے مفاہمت کرانے والوں نے اپنا کام نکال لیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے مولانا فضل الرحمن کی سیاست پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔ وہ تسلیم تو کرتے ہیں ان کے تین سینیٹرز نے بات نہیں مانی۔ سینیٹ کی پوری تاریخ میں ایسا اودھم پہلے کبھی نہیں مچا۔ وفاداریاں بدلنے کی ایسی تاریخ کبھی رقم نہیں ہوئی۔ کپتان کہتا ہے کہ اس کے 14 ارکان سرحد اسمبلی بکے اور کتنے میں بکے وہ بھی ریٹ موجود ہے۔ انگلیاں اٹھنا بجا ہے۔ جہاں کے پی کے میں پیپلزپارٹی کے پاس آدھے سینیٹرز کے ووٹ نہیں تھے اس نے 2 سینیٹرز کیسے منتخب کرا لیے۔ فاٹا کے ارکان جو رضا ربانی پر متحد اور متفق تھے انہوں نے اپنا بیانیہ کیسے بدل لیا۔ تحریک انصاف کے پاس اتنے ارکان ہی نہیں تھے۔ چودھری سرور نے ویسا ہی جادو سینیٹ کے انتخاب میں دکھایا جیسا انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ کے انتخاب میں امیدوار کی حیثیت سے دکھایا تھا۔ ادھر نہ بکنے والی ایم کیو ایم سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ سینیٹ کے انتخاب کے لیے بلوچستان کی پوری حکومت کو ہی اٹھا لیا گیا افسوسناک منظر تھا۔ اس طرح بکنے اور لوٹا کہنے میں ’’نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز‘‘ نواز شریف کا بیانیہ مقبول ہوا اور ووٹ کی عزت نیلام ہو گئی۔ سینیٹرز طوائفوں کی طرح بکے جی بھر کر بکے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں حاصل بزنجو نے دل رلانے والی باتیں بھی کی ہیں اور دل دکھانے والی بھی۔ ان کی یہ تقریر جو انہوں نے صادق سنجرانی کے چیئرمین سینیٹ بننے پر کی اس میں مبارک باد دینے کی بجائے سوالات اٹھائے گئے اور کہا ’’ثابت ہوا ہے کہ بالادست طاقتیں پارلیمنٹ سے زیادہ طاقت ور ہیں اور پارلیمنٹ مکمل طور پر ہار چکی ہے۔ آج اس پارلیمنٹ کا منہ کالا کیا گیا ہے اور اس ایوان میں بیٹھتے ہوئے شرم آتی ہے۔ آج عملی طور پر ثابت ہو چکا کہ بالادست طاقتیں پارلیمنٹ سے طاقت ور ہیں۔ آپ نے رضا ربانی کو کہا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کا نمائندہ ہے اگر رضا ربانی جیت جاتے تو میں ضرور کہتا کہ بینظیر اور ذوالفقار علی بھٹو جیتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی مگر جمہوریت ہار گئی ہے۔ جب سنجرانی نے کہا کہ مبارک باد دیں برنجو نے کہا کس بات کی مبارک باد، کیا پارلیمنٹ کو مسمار کرنے کی مبارک باد دوں، اس بلڈنگ کو گرانے کے لیے بلوچستان کا نام لیا جا رہا ہے، صوبائی اسمبلیوں کو منڈی بنا دیا گیا۔ جب ہم نے لوگوں سے ووٹ مانگنے کی بات کی تو انہوں نے سولڈرز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجبوری ہے ووٹ نہیں دے سکتے۔ انہوں نے 12 مارچ 2018ء کے دن کو تاریخ کا بدترین دن بھی قرار دیا۔ ان کی تقریر کے بعد اسلام الدین شیخ اور مولانا بخش چانڈیو ان سے الجھے البتہ لاہوری منڈے رضا ربانی نے اپنا بیانیہ پیش کیا۔ میاں رضا ربانی کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ یہیں پیدا ہوئے انہوں نے مبارک باد کے ساتھ چیئرمین سینیٹ کو بتایا ’’پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے اسے نہ تو قید کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہتھکڑیاں لگائی جاسکتیں ۔ سینیٹ کا ادارہ اتنا کمزور کبھی نہیں تھا جتنا آج ہے۔ اب وقت آیا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے۔ اس انتخاب نے پاکستان کی کمزور اور بے بس جمہوریت کا جو نقشہ کھینچا ہے اس پر تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بننی چاہیے۔


ای پیپر