لبوں کی شان۔۔۔پان ٹو۔۔۔
15 مارچ 2018



دوستو، گزشتہ کالم میں پان کے حوالے سے اس کا شجرہ نسب بتایا تھا، یہ بھی بتایا تھا کہ پان کی جنم بھومی کیا ہے۔اس کی خاصیت اور حساسیت کتنی ہے، اس میں ڈالے جانے والے لوازمات کتنے فائدہ مند ہیں۔ اب آگے بڑھتے ہیں،کچھ مزید بات کرتے ہیں۔ لکھنؤ اور حیدرآباد دکن کی تہذیب و ثقافت میں پان کو جو عظمت اور دوام حاصل ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کی ایک جھلک علامہ اعجاز فرخ کے اس نثر پارے میں ملاحظہ ہو۔۔ چاندنی کا فرش ، دیوار سے گاؤ تکیہ اور پاندان تو تمام طبقوں میں مشترک تھے۔ امراء اور رئیسوں کی بیگمات کے وقار اور مرتبہ کا اندازہ صرف ان کے پاندان سے لگایا جاتا تھا۔ امراء کے گھروں میں اڑھائی سیری کریم نگر کی مہین جالی کے دو منزلہ پاندان ، بالائی منزل میں مہین تراشی ہوئی چھالیہ کی پرتیں ، کچھ مشک ، کچھ زعفران اور کچھ عنبر میں بسائی ہوئی سونے اور چاندی کے ورق میں لپٹی ہوئی۔ الائچی ، لونگ ، جوز ، جوتری ، زعفران ، سونف ، تراشا ہوا کھوپرا ، حسب ذوق زردہ و قوام ، بریلی کا کتھا اور کانپوری کتھے کی بڑی پپڑی اور چونا خالص عرق گلاب میں بجھایا ہوا اور ململ سے چھانا ہوا۔ پان بنانے کے انداز میں بھی ایک خاص سلیقہ ہوا کرتا تھا۔ زانو پر بچھی ہوئی سرخ صافی ، خاصدان سے کلی دار پان کو چن کر پہلے باریک قینچی سے یوں تراش لیا جاتا تھا کہ کنارے یکساں ہو جائیں یہی تراش تو بیگم صاحبہ کی خاص ہنرمندی تھی جو ان کی مہارت کا ثبوت تھی۔ پھر پان کی نس علیحدہ کرلی جاتی اور پان پر پان جوڑ کر حسب موسم سلائی سے چونا لگایا جاتا تھا کہ جاڑوں میں زعفران اور گرما میں گلاب یا کیوڑے میں کھلی کلی کا چونا ہو۔ بعض گھرانوں میں خشک کتھا اور بعض میں شیر بادام میں پکایا ہوا کتھا استعمال ہوتا تھا۔ چھالیہ ، نرملی ، جوز ، جوتری ، الائچی اور جو پسندیدہ ہو تو گلقند کے اضافہ کے بعد گلوری کو موڑ کر چاندی لپٹا لونگ ٹانک دیا جاتا تھا اور اس پر حسب مراتب چاندی یا سونے کا ورق لپیٹ کر چاندی کی طشتری میں سرخ مخمل اور اس پر گلوری رکھ کر پیش کی جاتی تھی۔ قبول کرنے والا سروقد اٹھ کر تعظیم بجا لاتا اور پان قبول کرکے سلام کے عوض ڈھیروں دعاؤں کی سوغات بھی پاتا تھا۔ ادھر اگالدان ابھی استعمال ہوا ہی تھا کہ کنیز نے فوراً اگالدان بدل دیا۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ’’پاندان‘‘ کیا ہے، جی جی، صبر کرلیں۔سب کچھ بتائیں گے۔ پاندان میں پان سے متعلق سارے لوازمات رکھے جاتے ہیں۔پاندان کے ساتھ ساتھ ایک ’’ناگردان‘‘ بھی ہوتا ہے، ناگردان ایسا صاف کپڑا ہوتا ہے جس میں پان کے پتے لپیٹ کر رکھے جاتے ہیں۔ایک ٹرے جواکثر پان ہی کی وضع کی ہوتی جس کے اندر ایک چین رکھی جاتی جس سے متصل چھوٹی چھوٹی چین اور بھی جڑی ہوتی اس میں تھوڑی تھوڑی دور پرلونگ کی طرح بنے ہوئے کانٹے ہوتے جس میں پان کی گلوری کوچبھویاجاتا اور ایسے مختلف ڈیزائن کی تھالیاں یا خاصدان میں رکھ کر کھانے والوں کے سامنے پیش کیا جاتا۔’’سروتہ یا سروطہ ‘‘سے چھالیہ کاٹی جاتی ہے، ساتھ میں اْگالدان بھی رہتا۔ یہ پان کھانے کے بعد پیک کے لئے ہوتاتھا۔اس کی خاص وضع بنی ہوتی ہے،نیچے اور اوپر سے کھلا کھلا اوردرمیان میں کسی خوب صورت حسینہ کی طرح اس کی بھی کمر تنگ ہوتی ہے۔اس وضع سے فائدہ یہ ہوتاہے کہ پیک نظر نہیں آتی اور چھینٹے بھی اچھل کرکپڑوں پر نہیں آتے۔ پہلے زمانے میں نوابوں کے پاس ملازم خدمت پر مامور ہوتے تھے ،جہاں آنکھوں کا اشارہ اگلدان کی طرف کیا جاتا ،وہ دوڑ کر قریب لے آتا۔پاندان جہیز میں دینا لازمی ہوتا تھا۔ پاندان کے ساتھ خاصدان ،اگلدان ، پان کی ڈبیا یا تھالی بھی دی جاتی۔ یہ پاندان مختلف ساخت کے بنائے جاتے جو مختلف سائز اور مختلف دھات کے ہوتے تھے۔ جرمن سلور کے پاندان مرادآباد کے ہوتے ہیں اس لئے یہ مراد آبادی پان دان ہی کہلاتا، جس میں منقش اور بغیر نقش کے بھی ہوتے ہیں اور بعض میں جالی بھی بنی ہوتی۔ یہ بنے تو جست ،تانبہ یا پیتل کے بھی ہوتے ہیں۔ اکثر ان کے اوپر چاندی کی پالش چڑھائی جاتی ہے۔ اور امیرں کے گھروں میں چاندی ہی کے پاندان رہا کرتے تھے۔ پچھلے بیس،تیس سال سے سٹیل کے بھی پاندان بننے لگے ہیں۔
پان کھانے کے آداب بھی ہوا کرتے تھے، چھوٹے بڑوں کے سامنے بنا اجازت کے پان کھانا بد تمیزی سمجھا جاتا، پان کی گلوری منہ میں ڈالتے وقت سیدھے ہاتھ سے کھانا اور دوسرا ہاتھ منہ کے اوپر رکھ کر کھانا، دینے والے اور گھرکی سب سے بڑی ہستی اگر سامنے ہوتو ان کو بھی سلام کرنا ضروری سمجھا جاتا۔ لیڈیز میں اگر کوئی بزرگ خاتون آجائیں تو پھر پاندان ان کے اختیار میں دے دیتے ،اس کو عزت دینے میں شمار کیا جاتاتھا۔ بعض لوگ اپنے ہی ہاتھ کا بنا پان کھانا پسند کرتے تو وہ میزبان کی اجازت لے کر خود ہی بنا لیتا اور امانت کی طرح پاندان میزبان کی طرف بڑھا دیتے تھے۔ بغیر اجازت کے پاندان کو استعمال کرنا بد تمیزی سمجھا جاتا۔بقول مشتاق یوسفی ایک خاص انداز سے پان لگا کر ہلکے سے جھک کر آداب کے ساتھ پان پیش کرنے کے لئے نسلوں کا رچاؤ چاہئے۔ پان پیش کرنے کے طریقے بھی جداگانہ ہیں۔ مہاراشٹر میں اسے تکونی شکل میں لپیٹا جاتا ہے، لکھنؤ میں گلوری بنا کر خاصدان میں لگایا جاتا ہے تو کلکتہ میں بیڑا بنتا ہے۔مغلیہ سلطنت کا ہر بادشاہ پان کے لطف کا قائل تھا اور بادشاہ کے پان کا بیڑا اٹھاتے ہی ہر ضیافت اپنے اختتام کو پہنچتی تھی۔ پان کے پتے کی خاطر بیان سے باہر ہے۔ ہر پتا کیوڑے اور عرقِ گلاب سے ملا جاتا تھا۔ 11 پتوں کے پان کا ایک شاہی بیڑا ہوتا تھا۔ چھالیہ صندل کے پانی میں ابالی جاتی تھی اور چونا زعفران کی خوشبو سے مہک اٹھتا تھا۔
کہاجاتا ہے کہ اردو شاعری بھی پان کی ہی دین ہے، شاید ہی کوئی شاعر ہو جو پان سے شوق نہ فرماتا ہو، ہمارے اساتذہ شعراء نے پان پر بے شمار اشعار بھی کہے ہیں، ایک اور دلچسپ بات بھی سن لیں۔ملکہ ترنم نورجہاں نے پہلی بار مہدی حسن کو ایک پان کی دکان پر ریڈیو کے ذریعے سنا تھا۔ میڈم نور جہاں اکثر رات کو پان کھانے کی غرض سے لاہور گلبرگ کی ایک مشہور پان کی دکان پر جاتی تھیں جہاں بڑے بڑے فنکار آکر پان کھاتے اور یہاں سے پان بندھوا کر لے جاتے تھے، ایک دن میڈم نور جہاں مشہور کلاسیکل اور غزل سنگر اعجاز حضروی کے ساتھ اسی دکان سے پان لے رہی تھیں کہ دکان پر رکھے ہوئے ٹرانسسٹر ریڈیو سے ایک غزل نشر ہو رہی تھی جس کا مطلع تھا۔’’دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے، یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے‘‘۔ میڈیم یہ آواز سن کر چند لمحوں کے لیے ساکت ہوگئیں، پھر چپ چاپ گاڑی میں بیٹھی سنتی رہیں۔ جب غزل ختم ہوئی تو اناؤنسر نے کہا ابھی آپ نے میر تقی میر کی غزل گلوکار مہدی حسن کی آواز میں سنی۔ تب میڈم نے گاڑی آگے بڑھاتے ہوئے اعجاز حضروی سے کہا تھا معلوم تو کرنا اعجاز یہ کہاں ہوتا ہے غزل گائیک؟ اس کی آواز نے تو ہمارے دل کے تار چھیڑ دیے۔ ۔لیجنڈ سنگر مہدی حسن بھی پان کے رسیا تھے اور کہتے تھے کہ پان کی خوشبو کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ اسی طرح قوال اور پان لازم و ملزوم ہیں۔ بغیر پان کھائے آواز میں غلام فرید صابری جیسا ٹانٹا پن پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ اکثر قوال تو پان کی گلوری کلے میں دبا کر قوالی گاتے ہیں۔ چاکلیٹی ہیرو وحید مراد بھی پان کے انتہائی شوقین تھے۔ کراچی اور لاہور دونوں شہروں میں ان کے لئے پان مخصوص دکانوں سے آتے تھے۔ حتی کہ اپنے انتقال کی رات بھی وہ پان منہ میں دبا کر سوئے تھے۔
پان سے متعلق یہ تحریر ابھی جاری ہے۔۔۔ اگلے کالم میں کوشش کریں گے کہ پان کی کہانی مکمل کریں۔ تاکہ ان لوگوں کا بھلا ہوسکے جو پان کے شوقین نہیں لیکن ہماری یہ تحریر پڑھنے پہ مجبور ہیں۔


ای پیپر