بے بس اور لاچار کشمیر
15 مارچ 2018 2018-03-15



مقبوضہ کشمیر میں شوپیاں اور اسلام آباد (اننت ناگ) علاقوں میں ایک ہفتہ میں نوکشمیری نوجوانوں کو شہید کیا گیا ہے۔ماضی میں بھارتی فوج کشمیری نوجوانوں کو دراندازی کا الزام لگا کر شہید کرتی تھی لیکن بعد میں پتہ چلتا کہ جنہیں مہمان مجاہد اور پاکستانی کہتے ہوئے شہید کیا گیا وہ تو وادئ کشمیر کے ہی رہنے والے تھے اور ان کا عسکریت پسندی سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ ایسے واقعات آئے دن دیکھنے کو ملتے اور بھارتی فوج کے اعلیٰ افسران سے لے کر عام اہلکاروں تک سبھی ترقیاں و تمغے حاصل کرنے کیلئے بے گناہوں کا خون بہاتے رہے۔ ہزاروں کشمیریوں کو لاپتہ کر کے جنگلوں اور پہاڑوں میں فرضی جھڑپوں کا ڈرامہ رچایا گیااور پھر ہندوستانی فوجی کیمپوں میں دفن کر دیا گیا ۔سالہاسال سے لاپتہ کشمیریوں کی مائیں، ان کی بیویاں ، بہنیں اور دیگر اہل خانہ آج تک ان کی راہیں تک رہے ہیں مگرکوئی نہیں جانتا کہ جس نوجوان کو بھارتی فوج گھر یا دفتر سے زبردستی اٹھا کر لے گئی اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ہے؟ آج تک بھارتی فوجی کیمپوں سے کشمیریوں کی اجتماعی قبریں برآمد ہو رہی ہیں۔ تقریباً دس ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں جن کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں اور ان کے زندہ ہونے کی امید بھی بہت کم دکھائی
دیتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں خواتین ایسی ہیں جو نیم بیوہ کی زندگی گزار رہی ہیں۔ بہرحال پہلے کشمیری نوجوانوں کو مجاہد قرار دے کر شہید کیا جاتا تھا تاہم اب بھارتی فوج نے ایک نئی اصطلاح ایجاد کر لی ہے۔ غاصب اہلکار جب اور جہاں چاہتے ہیں کشمیری نوجوانوں کاخون بہاتے ہیں اور پھر انہیں بالائی ورکر اور عسکریت پسندوں کا سہولت کار کہہ کر معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے۔کوئی بھارتی فوج کو پوچھنے والا نہیں کہ جسے گولیاں مار کر شہیدکیا گیا ہے اس پر الزام کیا تھا؟ اور کون سی عدالت میں اس کے خلاف کیس پیش کیا گیا اور اس پر کیا الزام ثابت ہوا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔کشمیری قیدیوں کی بیرون ریاست جیلوں میں منتقلی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ ہے کہ قیدیوں کو ان کے گھروں کے قریب ترین جیلوں میں رکھا جائے ۔ بھارت میں تو اس پر عمل درآمد ہو رہا ہے لیکن کشمیریوں کیلئے اس قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جس طرح عمر قید کی سزا پانے والے کشمیری قیدیوں کو تاحیات جیلوں میں ڈالا گیا ہے اسی طرح وادئ کشمیر کی جیلوں سے جموں کی جیلوں میں بھیجے جانے کے مسئلہ پر ابھی تک پورا کشمیر سلگ رہا ہے اور حریت قائدین کی اپیل پر شدید احتجاج کیا جارہا ہے لیکن بھارت سرکار اور کٹھ پتلی انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ڈاکٹر محمد قاسم ، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی اور عادل زرگر سمیت جتنے کشمیریوں کو جموں کی جیلوں میں بھجوایاگیا ہے ان کے ساتھ انتقامی رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔کشمیری قیدیوں کو جیلوں میں کھانا بنانے اور صفائی کرنے جیسے کاموں پر مجبور کیا جاتا ہے۔ قیدیوں سے ملاقات کیلئے آنے والے ان کے اہل خانہ کوئی چیز ساتھ لے آئیں تو انہیں اندر لے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور باہر ہی چھین لی جاتی ہے۔ بھارتی فورسز کی جانب سے تمام کشمیری قیدیوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگایا گیا ہے۔ جب بھی عدالتیں ان کی رہائی کے احکامات جاری کرتی ہیں بھارت سرکار کے دباؤ پر ایک مرتبہ پھر ان پرکالا قانون لاگو کر دیا جاتا ہے۔ جموں کشمیر پولیس اسٹیٹ بن چکی ہے جہاں صرف ہندوستانی فوج کی وردی میں ملبوس اہلکاروں کاراج ہے۔پوری کشمیری قوم سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ۔
حریت کانفرنس جموں کشمیر کے قائدین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایشیا واچ جیسے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ساری صورت حال کا نوٹس لیں اور ہندوستانی حکومت پر دباؤ بڑھائیں کہ وہ کشمیری قیدیوں کو جموں یا بھارتی جیلوں سے نکال کر وادی کشمیر کی جیلوں میں منتقل کرے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جہاں مسلمانوں کا مسئلہ ہو وہاں یہ ادارے بھی خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے کشمیر کے حوالہ سے درجن سے زائد قراردادیں پاس کر رکھی ہیں مگر اس کے باوجود کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلانے کیلئے اس کا کوئی کردار نظر نہیں آتا بلکہ بھارتی خوشنود ی کی خاطر کشمیریوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والی تنظیموں، اداروں اور شخصیات پر پابندیاں لگوائی جاتی ہیں تاکہ کوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی کیخلاف بات کرنے والا نہ ہواور وہ آٹھ لاکھ فوج کے ذریعہ مقبوضہ کشمیر پر اپنا فوجی قبضہ برقرار رکھ سکے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت سرکار کی بوکھلاہٹ کا عالم یہ ہے کہ بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی جو مختلف امراض میں مبتلا ہیں اور ان کی صحت دن بدن مزید گر رہی ہے لیکن بھارتی فورسز اور کٹھ پتلی حکومت نے ان کے عزیز و اقارب ، رشتہ داروں اور دوست احباب پر بزرگ قائد کی عیادت پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ وہ پچھلے سات برسوں سے اپنی رہائش گاہ پر قید ہیں اور انہیں نماز جمعہ اور عیدین کی نمازوں کی ادائیگی کی بھی اجازت نہیں ہے۔ اس دوران اگر کوئی عیادت کیلئے آجائے تو بھارتی فورسز اہلکار یہ کہہ کر زبردستی واپس بھیج دیتے ہیں کہ ان سے ملاقات کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ سید علی گیلانی کی سربراہی میں کام کرنے والی تحریک حریت کا دفتر بھی یہیں قائم ہے ۔ بھارتی فوج اس دفتر میں کام کرنے والے عملہ کو بھی خوف و ہراس کا شکار کر رہی ہے اور انہیں کام نہیں کرنے دیا جارہا جس پر تحریک حریت نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ ایک طرف آٹھ لاکھ بھارتی فوج ظلم و بربریت ڈھا رہی ہے اور دوسری طرف کئی بیماریوں میں مبتلا بزرگ رہنما سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ جیسے ان کے اقتدار کیلئے وہ بہت بڑا خطرہ ہیں۔ ترجمان نے کہاکہ ریاستی وزیر اعلیٰ جب حزب اختلاف میں تھیں تو بار بار سید علی گیلانی کی غیر قانونی، غیر جمہوری اور غیر انسانی نظر بندی کی شدید مخالفت کرتی تھیں، مگر اقتدار کے ایوان پر قبضہ کرنے کے ساتھ ہی موصوفہ نے اپنے پیشرو عمر عبداللہ کے نقش قدم پر چل کر نہ صرف سید علی گیلانی کی گھر میں نظربندی کو مزید سخت کردیاہے بلکہ ان سے ملاقات کیلئے اور دفتری عملہ کو بھی اندر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے بھی کشمیر میں اپنی کاروائیاں تیز کر دی ہیں اور مودی سرکار اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ کشمیری لیڈروں اور سرگرم حریت کارکنان کی طرح این آئی اے وکلاء، تاجروں اور صحافیوں کو بھی نہیں چھوڑ رہی۔ بھارتی فورسز نے پیلٹ گن سے متاثر ہ افراد کی تصویریں شیئر کرنے والے صحافی کامران یوسف کوگزشتہ برس گرفتار کر کے بلاوجہ تہاڑ جیل میں بند کر دیا جسے ایک دن قبل عدالت کے حکم پر رہا کیا گیا ہے۔ مذکورہ صحافی پر کوئی الزام ثابت
نہیں ہوا صرف تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ایک طرف کشمیر میں قتل و غارت گری اور انسانی حقوق کی پامالی کی یہ صورتحال ہے تو دوسری جانب حکومت پاکستان جسے کشمیری مسلمان اپنا سب سے بڑا وکیل سمجھتے ہیں ‘ اس نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کیخلاف کوئی مضبوط آواز بلند نہیں کی جارہی۔ حکمران جماعت کو سینٹ الیکشن میں ہارنے کا دکھ کھائے جارہا ہے۔ دن رات اعلیٰ عدلیہ اور دبے لفظوں میں افواج پاکستان کے خلاف بیان بازی کی جارہی ہے۔ بغاوت کی باتیں کر کے لوگوں کے جذبات بھڑکانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ یہ روش انتہائی تکلیف دہ اور خطرناک ہے۔ آپ کی اپنی پارٹی کے بعض لوگ اگر آپ کے حق میں ووٹ نہیں ڈالتے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟۔ آپ جو چاہے کرتے رہیں وہ ٹھیک ہے اور اگر کوئی دوسرا جیت جائے تو پھرنہ عدالتوں کو چھوڑا جائے اور نہ دفاعی اداروں کے وقار کا خیال رکھا جائے۔ سیاست کا یہ انداز کسی طور درست نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی لیڈر بے سروپا بیان بازی کے ذریعہ عوام میں انتشار پھیلانے کی بجائے عدالتوں اور ووٹ کے ذریعہ سینٹ میں ہونیو الے فیصلوں کو کھلے دل سے قبول کریں اور ذاتی مفادات کے حصول کی بجائے مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و بربریت کو بین الاقوامی سطح پر بے نقاب کیا جائے۔


ای پیپر