جوتا کلچر ۔۔۔قابلِ مذمت فعل
15 مارچ 2018



جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہور کے ساتھ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا تعلق بہت پرانا ہے اور وہ اپنے اسی تعلق کونبھاتے ہوئے گزشتہ دنوں مفتی محمد حسین نعیمی اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں خطاب کے لئے سٹیج پر آئے تواُن پر جوتا اچھالتے ہوئے اور خود بھی ساتھ اچھلتے ہوئے نعرۂ لبیک یا رسو ل اللہ لگایا ۔ میاں نواز شریف اپنے عارض پر اپنے ہاتھ سے ٹکور کرتے ہوئے میڈیا پر دیکھے گئے۔ جوتا مارنے کے اس کلچر کی کوئی بھی انسان وکالت نہیں کرسکتا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ دلیل کی قوت جوتے کی ذلت سے بہت زیادہ ہے۔ آپ دلائل و براہین کے میزائلوں سے تابڑ توڑ حملے کر سکتے ہیں اس پر کوئی پابندی نہیں ہے مگر جوتا اچھالنا اور اپنے گھر آئے ہوئے مہمان سے یہ سلوک انتہائی گھٹیا اور انسانیت سے گرا ہوا ہے ۔ نواز شریف پر جوتا اچھالنے یا مارنے کی مذمت عمران خاں، بلاول اور زرداری نے بھی کی ہے۔ دوسری طرف عمران خاں کی گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے والا جوتا بردار بھی پکڑا گیا۔ اُس کی موقع پر ہی کارکنوں نے خوب پٹائی کی اور اس نے اعتراف کیا کہ مجھے رانا ثناء اللہ کے داماد شہر یار نے بھیجا ہے ۔ جوتے مارنے کی یہ رسم پہلے نہیں تھی ۔ بھٹو دور میں جوتے دکھائے جاتے تھے ۔ جوتوں کو اچھالا نہیں جاتا تھا مگر ہمارے ہاں نفرت اور انتقام کے زہر میں بجھے ہوئے جذبات شعلۂ جوالا میں بدل رہے ہیں جو ملک و ملت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کو اپنے کارکنوں کی اخلاقی تربیت کے کورسز کروانے چاہئیں اور دلائل و براہین کی قوت سے ایک دوسرے کو بڑے حوصلے سے برداشت کرنا وقت کی بھی ضرورت ہے اور انسان کی اخلاقی تربیت کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ سیاست کے میدان میں ایک اچھی روایت فروغ پائے اور حالات کی سنگینی میں رنگینی پیدا ہو۔ میاں نواز شریف کی ذہنی کیفیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جاتی امرا میں آپ کا مکمل چیک اپ کروایا گیا کیونکہ جوتے کی شدت سے لگنے سے میاں صاحب کو کاندھوں اور چہرے پر تکلیف محسوس ہوئی ہے کیونکہ اُن کی اوپن ہارٹ سرجری بھی ہوچکی ہے اس لئے اپنی بیٹی مریم نواز کے شدید اصرار پر مکمل چیک اپ کروایا گیا اور ڈاکٹروں نے تمام رپورٹیں ٹھیک آنے کے بعد مکمل فٹ قرار دیا۔ اب یہاں تک تو بات درست ہے کہ میاں صاحب پر جوتا پھینکنے والے اور خواجہ آصف کا روشن چہرہ سیاہ کرنے والوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے مگر اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ردِ عمل میں جو انداز مریم نواز اپنا رہی ہے وہ بھی قابلِ تعریف نہیں۔ محترمہ مریم نواز کو یاد رکھنا چاہئے کہ جوتا کلچر کا آغاز بھی مسلم لیگ (ن) نے ہی کیا تھا اور اس وقت دلیل کو چھوڑ کر جوتے کا سہارا لینے والے میرے نزدیک ناکام ہوچکے ہیں ۔ مریم نواز کو مقدس ہستیوں کی نسبت سے بیان بازی سے انتہائی محتاط رہنا چاہئے ۔ جوتے پھینکنے کا دفاع کیا جاسکتا ہے آپ کے بیانات کا دفاع ناممکن ہوجائے گا۔ اپنے آپ کو سیاسی حدود میں رکھیں اور دنیا داری میں جو کچھ ہوتا ہے وہی پیمانے استعمال کریں۔ آپ کا اخلاقی لحاظ سے کیس کافی مضبوط ہے مگر آپ کی زبان کی لغزش کہیں سب کچھ نہ لے ڈوبے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر آپ کے خلاف بھرپور مہم چلی ہوئی ہے۔ اس لئے آپ کو اجتناب برتنا ہوگا۔ جوتا سیاست ہمارے ملک کے خلاف بہت بڑی سازش ہے اور ہم عالمی منظر نامے پر بدنام ہورہے ہیں۔ اس لئے اپنے حریفوں کا بھی احترام کریں گے تو آپ کا احترام ہوگا۔ لفظی بارودی میزائل کے تاثر سے ماحول آلودہ ہوتا جارہا ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جارہے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کے ترجمانوں نے جو فضا پیدا کر رکھی ہے اور عدالت عظمیٰ کی توہین کا جوانداز اپنارکھا ہے وہ مسلم لیگ کے لئے بھی نیک شگون نہیں ہے ۔ عمران اور زرداری کی قربت میں ن لیگ کا کرب بھی شامل ہے ۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ عمران خاں کا زرداری کے ساتھ یہ اتحاد کب تک رہے گا کیونکہ عمران خاں یوٹرن کے بادشاہ ہیں ۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے لیے یہ عمل حیرت انگیز کیوں ہے ۔ اگر میاں نواز شریف کی دوستی زرداری صاحب سے ہوجائے تو وہ جائز ہوجاتی ہے ۔ عمران خاں نے نظریہ ضرورت کا استعمال کیا ہے تو ا س میں کیا حرج ہے۔ سینٹ میں پارلیمنٹ میں ہارس ٹریڈنگ زروں پر ہوئی ہے اور اس کے بھی موجد ہمارے میاں نواز شریف ہی کی ذات شریفہ ہے اور آج تاریخ اپنے آپ کو پھر دہرا رہی ہے ۔ اس لئے جو کام میاں صاحب نے خود کئے ہوئے ہیں اُن پر کوئی دوسرا عمل پیرا ہوجائے تو انہیں تو کم از کم بات نہیں کرنی چاہئے کیونکہ وہ خود اس کے ایجاد کرنے والے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی جب اقتدار کے چبوترے سے نیچے آئے تھے تو میاں نواز شریف نے اُن کے احتجاج کو عدالت کی توہین قرار دیا اور آج خود توہین عدالت کے مرتکب ہورہے ہیں
اُن کی زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
یہ تیرگی جو میرے نامۂ سیاہ میں ہے


ای پیپر