رائے ونڈ دہشت گردی کے پس پردہ کون؟
15 مارچ 2018



رائے ونڈ میں پولیس چیک پوسٹ کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے میں 5 پولیس اہلکار اور 4 شہری شہید جبکہ 30 زخمی ہو گئے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ بزدلانہ کارروائی میں پولیس کو ٹارگٹ کیا گیا۔
صدرممنون ، وزیراعظم شاہد خاقان، سابق وزیر اعظم نواز شریف، وزیر داخلہ احسن اقبال، عمران خان، شجاعت حسین، آصف زرداری، بلاول بھٹو، سراج الحق ، طاہرالقادری سمیت دیگر رہنماؤں نے دھماکے سے ہونے والے نقصان پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلی شہباز شریف نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس سے فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی۔
6روزہ جوڑ (منی اجتماع) میں عشاء کی اذان کے بعد نماز کی تیاری کا عمل جاری تھا کہ اچانک زور دار دھماکہ ہوا ۔ اجتماع گاہ کو گھیرے میں لے لیا گیا جبکہ آنیوالے مندوبین کو پنڈال جانے سے روک دیا گیا ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پنڈال میں 4لاکھ افراد موجود تھے جو نوافل کی ادائیگی میں مصروف تھے۔
دھماکے سے پہلے حملہ آور نے اجتماع میں جانے کی کوشش کی۔چیک پوسٹ پر اہلکاروں نے روکا تو خود کو اڑا لیا۔ اگر خدانخواستہ حملہ آور اجتماع میں داخل ہو جاتا تو نقصان بہت زیادہ ہونا تھا۔ حملہ آور کے اعضا اور دیگر شواہد اکٹھے کرکے فرانزک کے لیے بھجوادئیے ہیں۔حملہ آور کیسے اورکس کے ساتھ آیا یہاں پہنچا ، اس کے بارے میں سیکورٹی اداروں کے ساتھ مل کر تحقیقات جاری ہیں۔
مساجد میں نماز ادا کرتے ہوئے مسلمانوں کو خودکش حملوں کا نشانہ بنانا اتنا بڑا ظلم ہے جس سے بڑے ستم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح نہ صرف کعبہ کی بیٹی (مسجد) کو شہید کیا جاتا ہے بلکہ بے گناہ مسلمانوں کے بھی چیتھڑے اڑا دیئے جاتے ہیں۔ ان میں کوئی اپنے گھر کا واحد کفیل ہوتا ہے تو کوئی معصوم اور ننھے منے بچوں کا باپ جو ا چانک یتیم ہو جاتے ہیں اور ان کا مستقبل سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ ان گنت جوان عورتیں بیوہ ہو جاتی ہیں۔ ماؤں کے لال بچھڑ جاتے ہیں۔ بوڑھے باپ کی کمر ٹوٹ جاتی ہے لیکن ان کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی جو اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔کیا مسجد میں امریکی نماز پڑھتے ہیں اور اگر نہیں تو اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو یوں بے دردی کے ساتھ مارنے کا کیا جواز ہے؟
سورہ المائدہ ‘ آیت نمبر 32میں ارشادباری تعالیٰ ہے ’’ جو شخص کسی کو ناحق قتل کرے گا(یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یاملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے۔ اس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جس شخص نے ایک شخص کی جان بچائی اس نے گویا تمام لوگوں کی جان بچائی‘‘۔سورۂ النساء آیت 29 میں خودکشی کو واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ خود کو قتل نہ کرو ‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے ‘‘ خودکشی کرنا اللہ تعالیٰ کے کاموں میں مداخلت کے مترادف ہے ۔ اسے کفر ان نعمت ہی تصور کیاجائے گا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی کا چراغ خود ہی بجھا دیا جائے ۔کسی بھی انسان کو ناقابل برداشت مصائب اور آزمائش کی گھڑی میں بھی اپنی جان لینے کی اجازت نہیں ہے ۔
ملک میں جاری دہشت گردی کی وارداتوں کے حوالے سے یہ بات محسوس کی جا رہی ہے کہ پہلے دہشت گردوں کا نشانہ حفاظتی چوکیاں اور سیکورٹی فورسز کے قافلے ہوتے تھے۔ بعدازاں حساس ایجنسیوں اور اداروں کے دفاتر اور اہم عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد دہشت گردوں نے بازاروں میں آگ اور خون کا کھیل کھیلا اور اب مساجد، مزارات اور جنازوں پر بھی خود کش حملے ہونے لگے۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی یہ کوشش ہے کہ ایک طرف تو زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو تو دوسری طرف وطن عزیز کو غیر مستحکم کیا جائے۔ دہشت گرد جس طرح پولیس و فوجی جوانوں، حساس اداروں کے دفاتر ، مساجد، مزارات اور بے گناہ لوگوں کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں یہ باقاعدہ کسی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ تعلیمی اداروں کی تباہی اور دوست ممالک سے تعلقات میں بگاڑ ، ان ممالک کے ماہرین کا قتل اور اغوا بھی اسی جانب
اشارہ کرتے ہیں۔ ملکی معیشت کو نقصان پہنچا کر ، عالمی اداروں کی امداد کے حصول کیلئے ان کے دروازے تک پہنچانا بھی ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔
جہاں تک دہشت گردی کے مقاصد کا تعلق ہے تو جب سے سی پیک کے ذریعے بلوچستان سے پسماندگی کے خاتمہ اور احساس محرومی کے سدباب کیلئے ترقیاتی منصوبوں خصوصاً گوادر کا فعال کردار سامنے آیا ہے دشمن اسے ہضم نہیں کر پا رہا اور یہ ترقیاتی منصوبے دشمن کی آنکھ میں کھٹک رہے ہیں ۔جس کے خلاف دشمن نے منظم منصوبہ بنا رکھا ہے۔اس منصوبے کے تحت بیرونی اور اندرونی طور پر گروپ سرگرم ہیں۔ افغانستان کے اندر ایسے ٹریننگ کیمپ موجود ہیں جو ’’را‘‘ اور’’ این ڈی ایس ‘‘چلا رہے ہیں جہاں دہشت گردی کی ٹریننگ ہوتی ہے اور ٹارگٹ سونپے جاتے ہیں ۔
پاکستان کے ریاستی اداروں خصوصاً فوج ،پولیس اور ایف سی نے بلوچستان میں حکومتی رٹ کی بحالی کیلئے ممکنہ اقدامات کئے اور کر رہے ہیں اور ان اقدامات کے باعث بہت حد تک نہ صرف حکومتی رٹ بحال ہوئی بلکہ امن و استحکام آیا ہے۔


ای پیپر