صورت گری : ایک وہ ہیں جنہیں تصویربنا آتی ہے!
15 مارچ 2018



برادرمکرم جناب فاروق عادل صاحب کی کتاب "جو صورت نظرآئی" ایسے وقت پرشائع ہوئی ہے جب پاکستانی صحافت Muckraking phaseسے گزررہی ہے۔پرنٹ والیکٹرانک میڈیاملک بھرکو کچرہ وغلاظت کا ڈھیرثابت کررہاہے، یہ وقت 1900میں روزویلٹ کے امریکا پربھی گزرچکا ہے، ہرچندکہ یہ ترقی پسندانہ واصلاح پسندجرنلزم قراردیا جاتاہے تاہم خوش ذوق ونفاست پسندطبقے پرایسی صحافت برق بن کرگرتی ہے ، چشم وگوش پرگراں ہے۔ایسے میں "جو صورت نظرآئی" ایک نعمت غیرمترقبہ سے کم نہیں۔یہ سیاست ومذہب کی منتخب شخصیات کی ایسی صورت گری ہے جوکسی کہنہ مشق کمہارکے "چاک "پرڈھلی کسی قدیم ہندی وچینی ساخت کے نادرآرٹ کا مظہرہو، یہ ہلکی آنچ پربنی وہ چائے ہے جو مئے ناب کا اثررکھتی ہو۔ درحقیقت یہ صحافت کے بحرذخارسے ابھرتاغواص ہے جس نے خس بودکو چھوڑکرموتیوں سے دامن بھراہے ہرچند کہ بازارمیں خس بودزیادہ فروخت ہو رہا ہے۔ فاروق عادل صاحب نے دراصل خارزارصحافت وسیاست کو جام غزالی بنایا ہے اورقارئین کی بھٹکتی و لہوروتی بصیرت کو قبلہ روکیا ہے۔یہ کتاب ایسے مغنی کا نغمہ ہے جودلوں کو حوصلہ وامیدکی نوابخشتا ہے۔المختصریہ صحافی سے زیادہ ایک خوش نوا، امیدافزااورمشفق وکریم ادیب کی تحریروں کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب میں ادب اور صحافت کے دوبحرہیں جن کے درمیان پردہ حائل ہے وہ آپس میں نہیں ملتے بس متوازی بہتے چلے جارہے ہیں ۔
یہ کتاب ایسا عجوبہ ہے جومنتخب شخصیات کی ایسی خوبیوں کو سامنے لاتی ہے جس سے شایدوہ کردارخودبھی ناواقف ہوں ۔مثلاسرگودھا کا نعیم جس نے کامرس پڑھنے پربرف کوٹنے کو ترجیح دی کب جان سکتا تھا کہ وہ فطرتآآزادآدمی ہے اورزمانے کی رومیں بہنے کے برعکس دریا کے مخالف تیرناپسندکرنے والا جری پہلوان ہے اورجب صحافت میں جگہ ملی تو یہ بادل ٹوٹ کربرسا۔ایم ایم عالم کا خاکہ ان کی پاکستان سے محبت اورفرسٹریشن کی مکمل تصویرہے،میاں طفیل اورقاضی صاحب کے خاکے ان کے اخلاص وسیاسی ناپختگی کا بیان ہیں۔ بینظیر بھٹو جنہیں مفاہمت وصلح کا پیکرقراردیا جاتا ہے مصنف نے اسے عملیت پسندی قراردیا ہے کہ این آراواور میثاق جمہوریت کے بطن سے مرحومہ جو کشید کرنا چاہتی تھیں ، وائے تمنائے خام ! سٹریٹ سمارٹ حسین حقانیAmerican Realismکی بھینٹ چڑھ کربھی گال سے گال ٹکائے ناظم جمعیت کواعانت کا لفافہ پیش کررہے ہیں، گویا فکرمودودی لوح دماغ پرحرف مکررنہیں جسے مفادپرستی کھرچ ڈالے۔"راہرو" جاویداحمد غامدی کا خاکہ ہے جو مصنف کو فکراقبال کی عملی تصویرنظرآتی ہے، فاروق عادل صاحب کاکہنا ہے جوکام مولانا مودودی کو پٹھان کوٹ کو مرکز بناکرسونپا گیا تھاوہ سیاست کی نذرہوگیا اورغامدی صاحب اس پرجتے ہوئے ہیں ، عرض ہے کہ اقبال نے ریکٹر جامعہ الاظہرکو خط لکھا تھا کہ ہمیں ایسے فقہا کی کہکشاں درکارہے جو فقہ اسلامی کی تدوین نو کا کام کرسکے اورخودکہا کہ دورغلامی میں اہل اسلام کی فکربانجھ ہوچکی ہے اس کام کو سیاسی آزادی تک موقوف رکھا جائے۔جبکہ مخدومی غامدی صاحب اس ناؤ کو اکیلے پارلگانے چلے ہیں، ہرچندکہ انہوں نے با صلاحیت شاگردپیداکیے ہیں، مگرشرق وغرب میں کوئی سکالریا دانشورایسا نہیں جن سے غامدی صاحب فکری مشاورت کرتے ہوں یا انہیں ساتھ چلنے کی دعوت دیں، شنید ہے ڈاکٹراسراراحمد، مفتی محموداورسیاسی قائدین کی طرح موصوف نے الموردکا بارگراں بھی اپنے لخت جگرپرڈال دیا ہے۔ میں اگرچہ غامدی صاحب کے لبرل تصورات کو قدرکی نگاہ سے دیکھتاہوں اورپھربھی کہیں کہیں انہیں قدامت پسندکے طورپردیکھتا ہوں کہ مجھ پرعلامہ اقبال ،ڈاکٹر محمد اسد، ڈاکٹرفضل الرحمان، ڈاکٹرطارق رمضان وغیرہ سمیت کئی جدت پسندوں کے گہرے اثرات ہیں تاہم راہرو والے خاکے نے مجھے غامدی صاحب کا ہمدردبنادیا ہے، میڈیا گلیمرکی تصویرغامدی صاحب نے جب کسی ملاقات میں مصنف کودرخوراعتنا ہی نہ سمجھا فاروق عادل نے پروین جگری کا مظاہرہ کیا "مگر کیا روٹھنا اس سے وہ اپنی دھن میں رہتاہے" مگر مصنف نے جو وجہ جوازبنائی وہ دیدنی ہے، کہتے ہیں جس شخص نے اقبال کی سفارش پرپٹھان کوٹ میں ادارے کیلئے اراضی دی تھی وہ مودودی صاحب سے ملنے گیا تو اسے درخوراعتنا نہ سمجھا گیا اقبال سے شکایت کی تو فرمایا وہ تحقیق کا رسیا بھلا کہاں خوش گپیوں کیلئے وقت بچا سکتا ہے۔ایسی ہی خوش گمانی مصنف نے غامدی صاحب کیلئے پالی ، مگر خدا جانے یہ کیسا تبحرعلمی ہے جو پیارکرنے والوں سے بے نیاز کرے، خود پیغمبر انقلاب نے جب رؤسائے قریش کو اسلام کی بھلائی کیلئے ام مکتوم پرتھوڑی ترجیح دی تو قرآن نے کیسے اس بات کا نوٹس لیا۔بہرحال ان خاکوں میں مجھے سب سے اچھا راہرو والا خاکہ لگا۔اورغامدی صاحب کی تحریروتقریرمیں سیاسی اسلام کی نفی کے باوجوداسلام کیلئے ان کی اپنے تئیں کدوکاوش کا میں معترف ہوں۔
مصنف نے ان شخصیات کی صورت گری کا حق اداکیا ہے،حضرت قائداعظم محمد علی جناح کا خاکہ بھی منفردنوعیت کا ہے ، ہارون رشید صاحب نے کچھ معمولی ردوبدل کے ساتھ یہ خاکہ پورا پورا کالم میں چھاپ دیا ہے ، یہ خاکے بنیادی طورپر تعقل پسندی، ندرت، خوش اسلوبی اورجرح وتعدیل کے ہمارے حسین تہذیبی ورثے کا خوبصورت امتزاج ہیں۔ان خاکوں کے تنقیدی اسلوب سے لگتاہے جیسے کوئی تتلی گوٹھ مارکر گلاب کے پھول پربیٹھ گئی ہو، یاکوئی کہنہ مشق درزی
ریشم وحریرسے لباس تیارکررہاہو۔ تنقیدبھی ایسی کہ دوسرے کے جوتوں پراپنا پاؤں رکھ کربھی اس کی پالش خراب نہیں ہونے دیتے۔محمد صلاح الدین کے صحافتی ورثے کو خوب نبھایا ہے۔عطاء الحق قاسمی صاحب کے خاکے کا عنوان جامع الکمالات دل پرگراں گزراکہ یہ عنوان بہت تقاضوں کا حامل ہے۔بے وطن عبدالصمدکا خاکہ بڑا دکھی کردینے والا ہے، کہ وہ مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان آئے اوریہاں بھی مشکلات کا سامنا ہوا تو واپس بنگلہ دیش چلے گئے اوروہاں بھی تشکیک کا نشانہ بنے ۔ میرا تاثریہ ہے کہ یہاں مشکلات سہتے مگرکہتے ، ہم سے اب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی۔ مگر عبدالصمد صاحب ! تیری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا۔۔۔ اسے تو نہ توڑسکتا اگراستوارہوتا۔غالب ہی کی سنئے!
وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے
مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو
کتاب کو پڑھے ایک ماہ سے زائد بیت گیا ہے بس حافظے کے زورپراپنے تاثرات کا اظہارکیا ہے ، کیونکہ آباء کا پیشہ شتربانی رہاہے ، حافظہ، بلاغت اورکسی حدتک دل کی بینائی کسب سے زیادہ ورثہ ہے اورمجھے ان شتربان آباء پراتنا ہی فخرہے جتنا غالب کو آباء کی سپہ گری پرتھا۔فاروق عادل صاحب مبارک بادکے مستحق ہیں کہ انہوں نے مغرب سے مرعوب مدرپدرآزادلبرلز کے برعکس مشرقی تہذیب وتمدن کے اسلوب کو اپنایا ہے، بالفاظ دگرشیشہ گران فرنگ کے احساں اٹھانے کے بجائے سفال ہند سے مینا وجام پیداکیا ہے، اورمیرے جیسے نوواردان کو تحریرکا خوش آہنگ اسلوب ولہجہ دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی زیرک ادیب ہی اس کتاب کا کماحقہ ٗتجزیہ کرسکتا ہے۔ ہم کیا ہمارا فن کیا؟
ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
ایک وہ ہیں جنہیں تصویربنا آتی ہے


ای پیپر